امریکہ نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی اقدام مسترد نہیں کیا، عالمی سطح پر خاموشی
- منگل 06 / اگست / 2019
- 4990
امریکہ نے بھارتی کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لینے کے فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ یہ اس کا داخلی معاملہ ہے۔ تاہم امریکی ترجمان نے پاکستانی مؤقف ہا امریکی پوزیشن پر بات نہیں کی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مورگس اورٹاگس کا کہنا تھا کہ ’جموں اور کشمیر میں ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔ ہم بھارت کی جانب سے جموں اور کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں‘۔
خیال رہے کہ واشنگٹن سے جاری بیان میں معاملے پر بھارت کے موقف کا حوالہ دیا گیا جبکہ اس میں پاکستان کے موقف کی کوئی بات نہیں کی گئی۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ 'ہم جانتے ہیں کہ بھارتی حکومت نے ان اقدامات کو اندرونی معاملہ قرار دیا ہے'۔
امریکی حکام نے مقبوضہ وادی میں جاری صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ’حراست میں لیے جانے کی رپورٹس پر ہمیں تشویش ہے اور ہم انفرادی حقوق کی عزت کرنے اور متاثرہ برادری سے بات چیت کرنے پر زور دیتے ہیں‘۔ امریکہ نے دونوں ممالک کو لائن آف کنٹرول پر امن و استحکام کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل و برداشت سے کام لیں۔ انہوں نے یہ بیان بھارتی صدر کے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا فرمان جاری کیے جانے کے بعد دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیریک نے پیر کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ عالمی ادارے کے امن کار پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر کی جنگ بندی لائن کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ اطلاع دی ہے کہ پاکستان اور بھارت کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہم تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ تحمل و برداشت سے کام لیں۔
'الجزیرہ' کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیر کے روز جرمنی نے بھارتی حکومت کو فون کر کے ان سے کہا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی مقامی کمیونیٹیز سے بات چیت کرے۔ جرمنی کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا اڈبار نے برلن میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ بھارت کو اپنے ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کو 1947 میں بھارتی یونین میں شرکت کے بدلے میں اپنے آئین کے تحت دی جانے والی خود مختاری کی ضمانتوں پر لازماً عمل کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ حکومت آئندہ تمام اقدامات بھارت کے آئین کے تحت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت پر زور دیتے ہیں کہ نئی دہلی ان تمام شہری حقوق کا احترام کرے جسے قانون کا تحفظ حاصل ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر بھارت کی جانب سے کیے جانے والے یک طرفہ فیصلے کے ساتھ شہری آزادیوں پر مکمل قدغن لگانے اور ابلاغ کے بلیک آؤٹ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے اور کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔
ایمنسٹی بھارت کے چیف آکار پٹیل نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے ہزاروں اضافی اہل کاروں کی تعنیاتی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروسز کا مکمل بلیک آؤٹ اور پرامن اجتماع پر پابندیوں سے جموں و کشمیر کے عوام کو ایک کونے میں دھکیلا جا چکا ہے۔
واشنگٹن میں واقع تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ جنوبی ایشیائی امور کے ماہر ڈاکٹر مارون وائن بام نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا اقدام پاکستان کے لیے ایک اور چیلنج ہے اور پاکستان کو اس سے بڑی احتياط سے نمٹنا ہو گا۔ ان کے بقول آرٹیکل 370 کی منسوخی سے کشمیر کی ہیت بدل جائے گی اور باقی ملک کی طرح وہ ایک ہندو ریاست بن کر رہ جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرنے کی پیش کش کے بارے میں ڈاکٹر وائن بام کہتے ہیں کہ اس بیان کو پاکستان میں خوش خبری اور بھارت میں بری خبر قرار دیا گیا ۔ تاہم بعد میں انہوں نے وہ بیان واپس لے لیا اور وہی موقف اختیار کیا جو ماضی کی انتظامیہ کا رہا ہے کہ اگر دونوں ممالک اس پر راضی ہوں تو ہم ثالث کا کردار ادا کریں گے۔
واشنگٹن میں مقیم ایک بھارتی تجزیہ کار سدانند دھوم نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ یہ کہنا بہت قبل از وقت ہے کہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے کو ایک دانش مندانہ فیصلے کے طور پر دیکھا جائے گا یا کہ اسے ایک تاریخی غلطی کا درجہ دیا جائے گا۔ لیکن دو چیزیں واضح ہیں۔ ایک یہ کہ بھارت نے کشمیریوں کے جذبات کو نظر انداز کیا ہے اور دوسرا یہ کہ ایک پر خطر فیصلہ کیا ہے جس کے ناقابل ادراک مضمرات ہیں۔