بھارت نے حملہ کیا تو خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے: وزیراعظم
- منگل 06 / اگست / 2019
- 4610
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت ہم پر حملہ کرے گا تو ہم جواب دیں گے اور خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوبارہ آغاز پر وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد پیش کی۔ قبل ازیں اجلاس میں پیش کی گئی قرارداد میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کی دفعہ 370 ختم کرنے ذکر نہ ہونے پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا تھا جس کے باعث اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کیا گیا تھا۔
مشترکہ اجلاس 2 گھنٹے سے زائد تاخیر کے بعد شروع ہوا جس میں اعظم سواتی نے آرٹیکل 370 اور 35 اے شامل کیے جانے کے بعد مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد پیش کی تھی۔ وزیراعظم عمران خان کے پالیسی بیان، قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے خطاب کے بعد اسپیکر اسمبلی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردیا۔
مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں اس اجلاس کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ اس اجلاس کو صرف پاکستانی قوم نہیں دیکھ رہی بلکہ کشمیری اور پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ اگر اپوزیشن اسی طرح شور کرنا چاہتی ہے تو میں بیٹھ جاتا ہوں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میں اپنے دوستوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ سنیں پھر ہم اس کا مدلل جواب دیں گے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس سیشن کی اہمیت صرف کشمیریوں اور پاکستان کے لیے نہیں ہے بلکہ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے۔ میری حکومت کی اولین ترجیح تھی کہ پاکستان میں غربت کو ختم کیا جائے اس کے لیے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے جائیں کیونکہ عدم استحکام کے اثرات شرح نمو پر مرتب ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے تمام پڑوسیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ خطے میں سرمایہ کاری آئے گی تو غربت کا خاتمہ ہوگا، میں نے بھارت سے رابطہ کیا کہ آپ ایک قدم ہماری طرف بڑھائیں گے ہم دو بڑھائیں گے۔ افغانستان، چین اور دیگر ممالک کا دورہ کیا اور حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دو طرفہ طور پر معاملہ آگے نہیں بڑھ رہا اور برصغیر میں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ایک ارب افراد متاثر ہورہے ہیں اس لیے امریکی صدر سے ملاقات میں درخواست کی کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کریں اور بھارت کا رد عمل آپ کے سامنے تھا۔ عمران خان نے کہا کہ بشکیک میں اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارت کو ہم سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں اور اس حوالے سے مجھے جو شبہ تھا وہ کل سامنے آگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا بلکہ یہ ان کے انتخابات کا منشور تھا اور یہ ان کا بنیادی نظریہ ہے جو آر ایس ایس کے نظریے پر مبنی ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دیں گے۔ یہ صرف ہندوؤں کا ملک ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج بھارت میں جو لوگ دو قومی نظریے کو نہیں مانتے تھے، آج وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ قائد اعظم کا دو قومی نظریہ ٹھیک تھا۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں تمام اقلیتوں، مسلمانوں اور مسیحی برادری کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہورہا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ قائد اعظم نے 11 اگست کی معروف تقریر میں کہا تھا کہ ’سب اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں' اور ہم غلطی سے کہتے ہیں کہ قائد اعظم سیکولر تھے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل یہ دو نظریے تھے، ایک تو نسل پرست نظریہ تھا کہ مسلمانوں کو برابری کا درجہ نہیں دیتے، دوسرا نظریہ قائداعظم کا تھا کہ یہاں سب برابر ہیں، وہ نظریہ ریاست مدینہ سے لیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج جو بھارت میں ہورہا ہے ہم اس کے مخالف ہیں۔ ہمارے ملک میں جب اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ہو تو ہم اپنے دین اور نظریے کے خلاف جاتے ہیں۔ لیکن موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جب گوشت کھانے والوں کو لٹکا دیتی ہے اور لوگ انہیں مار دیتے ہیں۔ جو انہوں نے کل کشمیر میں کیا، پچھلے 5 برس جو تشدد کیا اور جو مسیحی برادری کے ساتھ کیا یہ بھارت کا نظریہ ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارا مقابلہ نسل پرست نظریے سے ہے۔ کشمیر میں انہوں نے اپنے نظریے کے مطابق کیا لیکن وہ اپنے ملک کے آئین، اپنی سپریم کورٹ، مقبوضہ کشمیر کے فیصلے کے خلاف گئے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کے خلاف گئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرکے مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے اور اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کے خلاف ہے۔ اسے جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے نظریے کے لیے اپنے آئین، قوانین اور تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا قانون منظور کردیا تو وہ کشمیری جو 5 سال سے جاری تشدد کے باعث جدوجہد کررہے ہیں کیا وہ قانون کی وجہ سے فیصلہ کریں گے کہ ہماری جدو جہد ختم ہوگئی۔ ہم غلام بننے کے لیے تیار ہیں یہ تحریک تو مزید شدت پکڑے گی۔
عمران خان نے کہا کہ ہم سب کو سمجھنا ہے کہ اب یہ مسئلہ مزید سنجیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو مزید دبانا ہے۔ وہ انہیں اپنے برابر نہیں سمجھتے کیونکہ اگر وہ کشمیریوں کو اپنے برابر سمجھتے تو وہ جمہوری طور پر کوئی کوشش کرتے۔
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیریوں کو طاقت کے زور پر کچلنےکی کوشش کرے گی اور جب وہ ایسا کرے گی تو ردعمل آئے گا تو میں آج پیش گوئی کرتا ہوں کہ پھر پلوامہ کی طرز کا واقعہ ہوگا اور بھارت وہی کہے گا کہ پاکستان سے دہشت گرد آئے۔ جبکہ اس میں ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ بھارت اب کشمیریوں کی نسل کشی کرے گا، لوگوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کرنا ہے تاکہ وہاں دوسری اکثریت آجائے اور کشمیری غلامی تلے دب جائیں۔ بھارت جب یہ سب کچھ کرے گا اور پاکستان کو مورد الزام ٹھہرائے گا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
عمران خان نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد سے میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ دو جوہری ممالک ایسے خطرات مول نہیں لے سکتے، ہمیں اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ایسا ہوگا تو صورتحال ہمارے قابو سے باہر ہوجائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں ایک تکبر نظر آتا ہے جو ہر نسل پرست میں ہوتا ہے۔ بھارتی آپریشن کی وجہ سے پلوامہ واقعے کی طرز کا ردعمل آئے گا جس پر انہوں نے آزاد کشمیر میں کچھ کیا تو ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرے اور ہم اس کا جواب نہ دیں جس کے بعد کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ اس کے بعد روایتی جنگ ہوسکتی ہے، جنگ ہوگئی تو دو نتیجے ہوسکتے ہیں۔ جنگ ہمارے خلاف یا ہمارے حق میں بھی جاسکتی۔ اگر جنگ ہمارے خلاف جاتی ہے تو میں نے اسی ایوان میں کہا تھا کہ ہمارے پاس بہادر شاہ ظفر یا ٹیپو سلطان کا راستہ ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بہادر شاہ ظفر کا راستہ کہ ہاتھ کھڑے کرکے ہار مان لیں گے یا ٹیپو سلطان کی طرح خون کے آخری قطرے تک مقابلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی قوم کو جانتا ہوں، مسلمان موت سے نہیں ڈرتا وہ صرف انسانیت کا سوچتا ہے ہم امن کے لیے صرف اپنے دین کی وجہ سے سوچتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ اگر ہم خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے تو کون سی جنگ ہوگی۔ وہ جنگ ہوگی جس میں کوئی نہیں جیت سکتا، سب ہار جائیں گے اور اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نیوکلیر بلیک میل نہیں کررہا بلکہ کامن سینس کی بات کررہا ہوں کہ بہتری کی امید رکھیں اور بدترین کے لیے تیار رہیں۔ کیا دنیا بدترین کےلیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس لیے دنیا سے اپیل کرتا ہوں کہ ایک ایسے ملک جو کھلم کھلا تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ جب وہ پہلے کشمیریوں پرظلم کررہا تھا تو دنیا نے کچھ نہیں کیا اور اگر اب دنیا نے کچھ نہیں کیا تو یہ وہاں جائے گی جہاں سب کو نقصان ہوگا۔
عمران خان نے کہا کہ اس لیے کارروائی کرنے کا صحیح وقت یہی ہے، بی جے پی جو کررہی ہے وہ جرمنی میں نازی جماعت کرتی تھی۔ انہوں نے اپوزیشن کو دیوار سے لگادیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے ہر وہ چیز کی ہے جو بھارت کی جمہوریت کے علاوہ مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو اور سیکولر نظریے کے خلاف ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جس نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی حکومت کے نظریے پر دنیا آج اقدام نہیں کرے گی تو پھر ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے کیونکہ یہ اس سطح پر جارہی ہے جو پوری دنیا کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ واضح کرتا ہوں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی سمیت ہر فورم پر لڑیں گے۔ ہم غور کررہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے ذریعے عالمی عدالت انصاف میں کس طرح اس معاملے کو اٹھایا جائے۔
ہم مختلف ممالک کے سربراہان سے اس سلسلے میں بات کریں گے۔ ہر فورم پر بتائیں گے کہ آج دنیا جن اقدار پر کھڑی ہے اور نازی جماعت کے مظالم کی مذمت کرتی ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ہم آج پھر اسی جانب جارہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے اس لیے بدقسمتی سے دنیا رد عمل نہیں دے رہی لیکن آخر میں پوری دنیا کو اس کا نقصان ہوگا۔
عمران خان نے کہا کہ کشمیر کی تحریک ایک قانون کے ذریعے نہیں کچلی جاسکتی۔ کشمیریوں کے ساتھ صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کی آواز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب میں جاکر بتاؤں گا کہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے مغربی اقدار کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ مودی سرکار نے پاکستان کی عزت اور غیرت کو للکارا ہے ہم نہ فلسطین ہیں اور نہ اس خطے میں اس اسرائیل بننے دیں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر کے وجود کے ساتھ پاکستان کا براہ راست تعلق ہے۔ پاکستان کشمیریوں کا ہے اور کشمیری پاکستان کے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ خصوصی حیثیت ختم کرکے مودی سرکاری نے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرلیا ہے اور کشمیر کی وادی میں نہتے مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وزیراعظم نے تاریخی باتیں کیں۔ قائداعظم کے فرمودات، ریاست مدینہ کے حوالے سے باتیں کیں لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بتائے کہ اس واقعے کو 24 گھنٹے ہوچکے ہیں اور 48 گھنٹے ہونے والے ہیں ان کی کیا حکمت عملی ہے۔ حکومت مودی کے اس حملے کا جواب دینے کے لیے کیا منصوبہ بندی کررہی ہے۔
مودی سرکار نے صرف کشمیر کے اندر ان کے حقوق نہیں چھینے مزید غاصبانہ حملہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے پاکستان کی عزت اور غیرت کو للکارا ہے اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کیا ہے اور مہذب دنیا کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ آج بحیثیت قوم کشمیریوں کے ساتھ روایتی باتوں اور متفقہ قرارداد سے بات نہیں بنے گی پاکستان کو آج ٹھوس فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو پتہ چل سکے کہ ہم خاموش نہیں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے کہا کہ میں ثالثی کے لیے تیار ہوں اور مودی نے بھی اس کا اشارہ دیا تھا مگر وزیراعظم وطن واپس آئے اور چند دنوں میں سارا معاملہ پوری دنیا کے سامنے آگیا کہ نریندر مودی نے نہ صرف ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کی نفی کی بلکہ اس نے کشمیر میں جو کرنا تھا کل اور پرسوں کردکھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کے لیے ہم شاندار اسٹیج سجائیں اور کشمیر میں دن رات خون بہایا جائے یہ کہاں کا انصاف ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم کابل میں امن چاہتے ہیں اور مودی اس کا مخالف ہے۔ ہم امن کے لیے سب کچھ جھونک دیں اور ہماری اس کوشش کا اس طرح بدلہ دیا جائے۔ بتایا جائے ثالثی کی پیشکش امریکی صدر کا ٹرمپ کارڈ تھا یا ٹریپ کارڈ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دو راستے ہیں کہ ہم جھک جائیں یا ڈٹ جائیں، جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا ہمیں ڈٹنا ہوگا اور کشمیر کے لیے ہر قربانی دینی ہوگی۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، مودی نے شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے اس سے پہلے وہ شہ رگ کو کاٹے ہم اس کے ہاتھ کاٹ دیں لیکن باتوں سے نہیں، یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے قلم کی ایک جنبش پر کشمیریوں کو ان کے اپنے ہی گھر میں اقلیت میں بدل دیا۔ کشمیر میں کلسٹر بموں سے حملہ، ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی، انٹرنیٹ اور مواصلاحات کے نظام کو معطل کرنا بھارت کے نظریہ سیکولر کے منافی ہے۔ نریندر مودی کے اتحادی سابق وزرائے اعلیٰ سمیت دیگر رہنماؤں کو بھی نظر بند کردیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے اور بھارتی عوام کو بھی نہیں کرنا چاہئے۔ بلاول بھٹو نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج بھی آپ اپنا ایوان مکمل کرنے میں ناکام رہے اور انتہائی اہم مسئلے کے باوجود شاہد خاقان عباسی اور رانا ثناء اللہ سمیت دیگر اراکین قومی اسمبلی موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی عدم موجودگی پر بھی حکومت پر تنقید کی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ’حکومت پوچھتی ہے کہ کیا کریں؟ لیکن افسوس کہ اب تک حکومت کی جانب سے پالیسی بیان سامنے نہیں آیا‘۔ پاکستان نے ’گجرات کے قصائی‘ نریندر مودی کو وزیر اعظم بننے پر خوش آمدید کہا اور انہیں تسلیم کیا جو ہماری بڑی غلطی تھی کیونکہ مودی شدت پسند اور انتہا پسند ہیں۔ ان کے ہاتھ خون میں رنگے ہوئے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بہت سے مواقع ضائع کیے اب جبکہ بہت کچھ ’داؤ‘ پر لگ گیا تو اب ہمیں دانشمندانہ ردعمل اختیار کرنا چاہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی دفعہ 370 ختم کرنے کے بعد بھارت باقاعدہ طور پر مقبوضہ کشمیر کا غاصب بن گیا۔
انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کو مسئلہ کشمیر موثر انداز میں اقوام متحدہ اٹھانا چاہیے۔ بلاول بھٹو نے زور دیا کہ او آئی سی میں وزرا خارجہ کی سطح کا خصوصی اجلاس بلا کر معاملہ اٹھانا چاہیے تاکہ ہم دنیا کو واضح پیغام دے سکیں کہ ہمارے جزوی اختلافات ایک طرف لیکن مسئلہ کشمیر پر پوری دنیا کے مسلمان ایک ہیں۔