پارلیمنٹ میں کشمیر کے مسئلہ پر گرماگرم تقریرں، وفاقی وزیر کا سفیر واپس بلانے کا مطالبہ
- بدھ 07 / اگست / 2019
- 4620
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جب بھارت پاکستان سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتا تو دونوں ممالک اپنے سفیروں کو واپس بلوالیں۔
مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ میں درخواست کرتا ہوں کہ ہمارے بچوں کے خون پر سیاست کرنا بند کردیں۔ فواد چوہدری نے جذباتی انداز میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہمارا بچہ بچہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ہندوستان سے بات ہو ہی نہیں سکتی تو پھر ایک دوسرے کے سفیروں کو رکھ کر اخراجات کیوں کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں ایوان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کشمیر کو فلسطین نہیں بننے دینا چاہیے۔ آج بھارت بھی کشمیریوں کے ساتھ ایسا ہی کر رہا ہے جیسا فلسطین میں اسرائیل نے کیا۔ عالمی برادری کشمیر کے معاملے پر اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ کیونکہ اگر یہ جنگ ہوئی تو اس کی حدت پوری دنیا کی ممالک کے دارالحکومت محسوس کریں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت کشمیریوں کی قربانیوں کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔ سانحہ کشمیر بھی سانحہ مشرقی پاکستان جیسا ہی ہے۔ آج قائداعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کو وہ کشمیری رہنما بھی مان رہے ہیں جو پہلے ان ہی لوگوں کے ساتھ تھے۔
سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں تاریخ پر نظر رکھنی چاہیے، ہم جانتے ہیں کہ ان کی سوچ کیسی ہے۔ ’کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا معاملہ اگر میرے دور اقتدار میں ہوتا تو میری پہلی پرواز، ابوظہبی، پھر بیجنگ، پھر ماسکو اور پھر تہران جاتا، جہاں میں ان کے صدرو کے ساتھ کھڑا ہوتا اور وہاں سے یکجہتی کا پیغام لے کر پاکستان آتا۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفر الحق نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مسئلہ کشمیر انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے، بھارت کے اقدام پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت نے آئینی ترامیم کے لیے پہلے تیاری مکمل کی اور پھر تسلی ہونے کے بعد یہ اقدام کیا۔ ایسا محسوس ہوا کہ تمام معاملے کے لیے پاکستان تیار نہیں تھا، ہمیں پہلے ہی دیکھ لینا چاہیے تھا کہ اس کے کیا نتائج ہوں گے۔
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اجلاس بلانا اچھی بات ہے لیکن بہتر یہ ہوتا کہ حکومت تیاری کے ساتھ آتی۔ انہوں نے اب تک اجلاس میں سب رہنماؤں نے یہی کہا کہ وزیراعظم قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن قدم بڑھانا ہوگا۔ جماعت اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ کشمیر وہ بدقسمت حصہ ہے جسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1846 میں سکھ حکمران کو فروخت کیا تھا۔ لیکن یہ ایک ایسی عظیم قوم ہے جس کی جدوجہد کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ چار ایٹمی قوتوں میں گھرے ہوئے کشمیری شہری اس صورتحال میں پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ کشمیر کا رقبہ دنیا کے 114 ممالک سے زیادہ جبکہ اس کی آبادی دنیا کے 112 ممالک سے زیادہ ہے جو بھارت، پاکستان اور چین کے زیر انتظام ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارتی غلامی کو رد کرتے ہیں۔ اپنی قبروں پر پاکستانی پرچم سجاتے ہیں اور ان کے بارے میں بین الاقوامی ادارے کہتے ہیں کہ یہ چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے۔ ہم کشمیریوں کا صرف اس لیے ساتھ نہیں دیتے کہ یہ خطہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرے، بلکہ ناحق مارے جانے والے مسلمانوں کی حفاظت کرنے سے متعلق قرآنی احکامات بھی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات یہیں ختم نہیں ہوں گے بلکہ وہ بعد میں گلگت بلتستان کا مطالبہ کریں گے۔ اس نے پہلے ہی پاکستان میں آنے والے دریاؤں کا رخ ڈیم بنا کر تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے لیے لڑنا پاکستان کے لیے لڑنا اور مرنا ہے کیونکہ بھارت کا اگلا ہدف پاکستان ہی ہوگا۔
انہوں نے تجویز دی کہ مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان ایک بین الاقوامی کانفرنس بلوائے اور تمام اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل 120 وفود بنا کر دنیا میں بھیجے اور اس موقع سے فائدہ اٹھائے۔
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ تاریخ میں ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جب سیاست دان غلط فیصلے کرتے ہیں اور علیحدہ راستے نکلتے ہیں، تاہم مودی نے جو فیصلہ کیا ہے اس سے کشمیروں میں مزید جوش پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اب چپ ہو کر نہیں بیٹھے گا اور وہ گھروں سے نکلے گا۔ اب گلی گلی میں برہان وانی موجود ہے۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ کوئی راستہ نکل سکتا ہے اب اس فیصلے کے وجہ سے بند ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے راستے ختم کر دیئے گئے ہیں، اب کشمیر میں جنگ ہوگی کیونکہ مودی نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ وہ مسلمانوں کو زیر عتاب لائے گا۔
وزیر انسانی حقوق اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ 'بھارت نے خود تسلیم کیا تھا کہ کشمیر، پاکستان اور بھارت میں تنازع ہے، اب بھارت کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقدام مجرمانہ فعل بنتا ہے اور بھارت نے عالمی سطح پر جنگی جرم کیا ہے۔'
انہوں نے کہا کہ 'شملہ معاہدے میں واضح لکھا ہے کہ بھارت، کشمیر کی یک طرفہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا جبکہ بھارتی سپریم کورٹ نے 2016 میں ایک فیصلہ دیا تھا کہ کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے. بھارتی حکومت نے خود ہی اپنے آئین کی دھجیاں اڑائی ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ 'صدر سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریز کو بھی خط لکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کونسل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آزادانہ کمیشن بنائے۔ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے بھی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ اسرائیل نے جو فلسطین میں کیا وہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے۔'
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا اسعد محمود نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے دورہ امریکا کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کی نوید سنائی لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایسا اقدام کیا جس کا ہمارے وزیراعظم کو بھی علم نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ بھارت اتنا بڑا اقدام اٹھائے اور پاکستان کو اس کا ادراک بھی نہ ہو۔
مولانا اسعد محمود کا کہنا تھا کہ امریکا افغانستان کو زیر نہیں کر سکا تو اس سے کمزور بھارت کشمیریوں کو کیسے زیر کر سکے گا؟ کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے لیے جنگ لڑتے رہیں گے اور پاکستان سفارتی سطح پر ان کی حمایت جاری رکھے گا۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تو حکومتی بینچوں سے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی جس پر اجلاس میں گرما گرمی ہوئی۔ مشاہد خان نے کہا کہ 'کل جتنی فلائٹ وزیراعظم عمران خان کی تاخیر کا شکار ہوئی، کوئی فلائٹ اتنی تاخیر کا شکار نہیں ہوئی۔ پہلی بار محسوس کیا کہ اپوزیشن سے پوچھا جا رہا ہے کہ میں کیا کروں، ہم سے کیا پوچھتے ہو جن سے پہلے پوچھتے تھے ان سے پوچھو۔'
انہوں نے کہا کہ 'آپ نے پوچھا میں کیا کروں تو آپ کو بتاتے ہیں کہ کیا کریں۔ آپ نریندر مودی کو مس کالیں مارتے تھے اور وہ اٹینڈ نہیں کرتے تھے۔ جب بغیر کچھ کیے کوئی چیز ہاتھ میں آجائے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ زرداری صاحب کے پاس چلے جائیں ایسا طریقہ بتائیں گے کہ مودی آپ کی کال ضرور اٹینڈ کریں گے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'وزیر اعظم کی امریکی صدر سے وائٹ ہاؤس میں چہل قدمی کے دوران جو بات ہوئی ساری وہیں ہوئی تھیں، آج حریت رہنما یا تو تہاڑ جیل میں ہیں یا نظر بند ہیں جبکہ چین نے جو بیان دیا وہ لداخ کے لیے ہے۔'
لیگی سینیٹر نے کہا کہ 'پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے مگر وزیر اعظم کے ساتھ نہیں، ایک ہونے کے لیے خیر سگالی کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی پالیسی میں بھی تبدیلی کرنا پڑے گی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ قوم کو ایک ہونا چاہئے تو آپ کو سوچنا پڑے گا کہ نواز شریف جیل میں کیوں ہیں۔'