کشمیر پر آئینی تبدیلی کا خودکش حملہ
- تحریر منور علی شاہد
- بدھ 07 / اگست / 2019
- 6400
2018 میں ہونے والے انتخابات کے بعد سے مسلسل برکتوں کا نزول جاری ہے۔ ہر کوئی حیران اورپریشان دیکھائی دیتا ہے کہ ان برکات کو کیوں کر سمیٹا جائے۔ موصوف جہاں بھی جاتے ہیں اک داستاں چھوڑ آتے ہیں۔
امریکہ گئے تھے۔ وہاں 1948میں منظور شدہ سلامتی کونسل کی قراردادیں ہی چھوڑ آئے۔بحثیت وزیر اعظم پہلے دورہ امریکہ کے بعد جنوبی ایشیا کے خطے میں انتہائی اہم تبدیلی تقسیم کشمیر کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ پاکستان تو پیچھے رہ گیا تاہم جنوبی ایشیا بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ ماہ اگست میں جب قوم یوم آزادی منانے کی تیاریوں میں تھی، بھارت کی طرف سے کشمیر پر آئینی تبدیلی کا خودکش حملہ کردیا گیا ہے۔ اورکشمیر اس کی زد میں ہے۔اس وقت ایک بھونچال سی کیفیت ہے۔پہلا سال بھارت کے ساتھ چھیڑخانیوں کی ہی نذر ہوگیا۔ کبھی راہداری، کبھی جھڑپیں، کبھی جاسوس، کبھی عالمی عدالت، اور اب کشمیر؟
بھارتی صدر نے صدارتی حکم کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کی،پھر اس کا بل راجیہ سبھا اور لوک سبھا سے منظور کراکر کشمیر کو دوحصوں لداخ اور جموں کشمیر میں تقسیم کردیا۔ جبکہ آزاد کشمیر پہلے ہی پاکستان کے پاس ہے۔ اس طرح کشمیر تین حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ایک عالمی متنازعہ خطے کا سٹیٹس بھارتی ادارے کس طرح تبدیل کرسکتے ہیں؟ پاکستان اب کتنی مزاحمت کرے گا؟ اقوام متحدہ اس کا کیا نوٹس لیتی ہے؟
ان سوالوں کا جواب وقت ہی دے گالیکن عمران خان وزیراعظم بننے سے پہلے ہی کشمیر کے تین حصوں میں تقسیم کی بات کر چکے تھے۔بھارتی راجیا سبھا،لوک سبھا میں جس طرح سے یہ بل منظور کرایا گیا اس سے لگتا یہی ہے کہ بھارت عرصہ سے اس منصوبے پر کام کر رہا تھا۔اور عالمی طاقتیں اس سے بخوبی واقف بھی تھیں۔ سبھی نے اس بھارتی منصوبے کی خاموشی اختیار کی ہے۔ اس بل کا نام جموں کشمیر کی تشکیل نو تھا۔منظوری کے بعد اب مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی ریاست کا درجہ ختم ہو گیا ہے۔ اور اب جموں کشمیر ایک الگ ریاست کی بجائے دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح ایک وفاقی اکائی ہو گی۔ اس وقت دنیا میں یہی آرٹیکل زیر بحث ہے، کشمیریوں کے لئے قیامت ہی برپا ہوئی ہے، یہ آرٹیکل ہے کیا بلا؟ اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
بھارتی آئین کے آرٹیکل370کوایک اہم حثیت حاصل تھی۔ جس کی وجہ سے ریاست جموں و کشمیر کو یہ آزادی میسر تھی کہ وہ اپنا آئین بنا سکتی ہے، اس کو برقرار رکھ سکتی ہے اور دیگر معاملات میں بھارتی آئین کی آرٹیکلز کو جموں و کشمیر میں نفاذ سے روکتی تھی۔ بھارتی آئین کی دیگر دفعات دیگر بھارتی ریاستوں پر لاگو ہوتی ہیں۔ یہ دفعہ ان دفعات کو جموں و کشمیر میں نفاذ سے روکتی تھی۔ اس لحاظ سے اس دفعہ سے جموں و کشمیر کی ریاست کو منفرد اور خصوصی مقام حاصل تھا۔ دفعہ370 کا تعلق جائیداد، شہریت، انسانی حقوق سمیت دیگر شہری بنیادی حقوق سے تھا۔اس دفعہ کے تحت بھارت کا کوئی بھی شہری ریاست جموں کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا تھا، بلکہ بھارتی کارپوریشنوں دیگر نجی اور سرکاری اداروں کے اہلکاروں کو بھی بلا قانونی جواز جائیداد خریدنے کا حق حاصل نہ تھا۔
مزید یہ کہ اسی قانون کے تحت ریاست کے اندر رہائشی کالونیاں بنانے نئے کارخانے لگانے،ڈیم و دیگر فیکٹریاں بنانے کے لئے ریاستی اراضی پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ان حالات میں مسلمانوں کی اکثریت کو بہت تحفظ حاصل تھا۔ یہ امر قابل غور ہے کہ یہ آرٹیکل اس معاہدہ کے تحت معرض وجود میں آئی تھی جو جموں و کشمیر کے مہاراجہ کے ساتھ بھارتی کی مرکزی حکومت کے مابین ہوا تھا۔ جس کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کو کسی بھی طرح بھارت کے وفاقی آئین کو ماننے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اس معاہدہ کے کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں: بھارت کے آئین کا صرف کچھ حصہ اور اہم ترین بات جو اس معاہدے میں شامل تھی وہ یہ کہ اس دفعہ کو صرف اس وقت ہی ختم کیا جاسکتا ہے جب تبدیلی یا منسوخی کے سبھی تقاضے پورے ہوں، ریاست کی مرضی شامل ہو اور اس کی نمائندگی اسمبلی کرتی ہے۔ اگر دفعہ میں کسی قسم کی تبدیلی ناگزیر ہو تو اس کی سفارش اسمبلی ہی کرے گی۔اسی آرٹیکل کے تحت جموں کشمیر کے شہریوں کو دوہری شہریت کاحق حاصل تھا۔اس کے علاوہ مزید دیگر باتیں جو اس آرٹیکل میں شامل تھیں ان میں کشمیر کے علیحدہ جھنڈے کا حق بھی تھا۔ رائٹ ٹوانفارمیشن کے نفاذ کی اجازت نہیں تھی،قانون سازاسمبلی کی مدت چھ سال تھی، ریاست سے باہر شادی کرنے پر شہریت ختم ہو جاتی تھی اور اسی طرح شعبہ تعلیم میں تعلیم کے حصول کا بنیادی حق بھی نہیں تھا۔
یہ کچھ اہم نکات تھے جو اس آرٹیکل370کے زمرے میں آتے تھے۔ اب یہ آرٹیکل چونکہ منسوخ ہو گیا ہے اس لحاظ سے اب متنازعہ جموں کشمیر کی متنازعہ حثیت بھی ختم کردی گئی ہے۔اور اب بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرح جموں کشمیر بھی بھارت کی وفاقی اکائی ہوگی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور بھارت نے اسی کو ختم کرنے کے لئے یہ آرٹیکل ختم کیاہے۔ جس کے نتیجہ میں اب جموں کشمیر کے اندر بھارتی ترنگا جھنڈا لہراسکے گا، سنگل شہریت ہوگی، دوسری ریاستوں کے شہری بھی جموں کشمیر میں جائیدادیں خرید سکیں گے اور یہاں بھی دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح اختیارات اداروں کو حاصل ہوں گے۔ اقلیتوں سکھوں، ہندوؤں کو سولہ فیصد کوٹہ ریزرویزشن ملے گا، اسمبلی کی مدت پانچ سال ہوجائے گی۔ اسی طرح دیگر باتیں جو ممنوع تھیں وہ سبھی نافذ ہو جائیں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب سلامتی کونسل، انسانی حقوق کے ادارے، اور او آئی سی کیا کرتے ہیں؟ ہم نے تو اپنے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا ہے۔سعودی عرب نے چند سال پہلے مودی کو سعودی عرب کا اعلیٰ ترین سول اعزاز عطا کیا تھا۔
ماضی میں جھانکیں تو پتہ چلتا ہے کہ جنوری 1949میں سلامتی کونسل نے طویل بحث و مباحثہ کے بعد کشمیریوں کے اس بنیادی حق کو تسلیم کیا تھا اور یہ قرار داد منظور کی تھی جس کے مطابق ریاست جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کرائی جائے گی۔ اور خود کشمیری عوام کی مرضی سے طے کیا جائے کہ وہ کس ملک کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں۔یہ ایک غیر معمولی سفارتی عالمی کامیابی تھی جس نے مسئلہ کشمیر کے فوری اور منصفانہ حل کے لئے عالمی ٹھوس بنیاد فراہم کر دی تھی اور سلامتی کونسل میں ان قرارددوں کی کامیابی کے خالق اس وقت کے پاکستانی وفد کے سربراہ وزیر خارجہ سر محمد ظفراللہ خان تھے۔
آج بھی پاکستان کی تمام سیاسی، مذہبی جماعتیں، ماضی و حال کی سبھی حکومتیں، خود کشمیری تنظیمیں، کشمیری راہنما سبھی انہی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے تھے۔ صد افسوس کہ ایک سال میں سلامتی کونسل میں جو قراردادیں دبنگ انداز میں منظور کرائی گئی تھیں، بعد میں آنے والے حکمران 70برسوں میں بھی ان پر عملدرآمد نہ کراسکے اور ان سے کنارہ کشی کرکے کشمیرکو عام ریاست کے درجے پر دھکیل دیاہے۔