بھارت کے ساتھ تجارت معطل، سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ
- بدھ 07 / اگست / 2019
- 5290
پاکستان نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کے دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے اور سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں سول اور عسکری قیادت نے شرکت کی اورہم بھارت کے حوالے سے 5 اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق بھارتی حکومت کے غیر قانونی اقدامات سے خراب ہونے والے حالات اور مقبوضہ جموں اور کشمیر کی اندرونی اور کنٹرول لائن کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو معطل کردیا جائے گا اور سفارتی تعلقات کو محدود کر دیاجائے گا۔
اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاک-بھارت تعلقات پر نظرثانی کی جائے گی اور بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے گا۔ قومی سیاسی اور عسکری قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سال یوم آزادی کو کشمیریوں کے ساتھ یوم یک جہتی کے طور پر منایا جائے گا اور مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کرتے ہوئے 15 اگست کو یوم سیاہ منایا جائے گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے انتظامات کاجائزہ لیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے تمام سفارتی چینلز کو فعال کرنے اور پاک فوج کو تیار رہنے کی ہدایت کی۔
قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیردفاع پرویز خٹک، وزیرداخلہ اعجاز شاہ، وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان، وزیر قانون، مشیر خزانہ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) جنرل فیض حمید سمیت دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔
بھارت میں بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت نے مقبوضہ جموں اور کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر رام ناتھ کووند نے منسوخی کے بل پر دستخط کردیے ہیں۔ بھارتی حکومت نے کشمیر میں 4 اگست کو کرفیو نافذ کردیا تھا اور کشمیری قیادت کو نظر بند کررکھا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا تھا کہ جب بھارت پاکستان سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتا، اس کے نزدیک ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے تو پھر ان کے سفیر صاحب پاکستان میں کیا کررہے ہیں، ہمیں بھارت سے سفارتی تعلقات منقطع کردینے چاہئیں۔
فواد چوہدری نے کہا تھا کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان کا بچہ بچہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس کا مقابلہ کرے گا۔ وفاقی وزیر نے جذباتی انداز میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہمارا بچہ بچہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جنگ لڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ہندوستان سے بات ہو ہی نہیں سکتی تو پھر ایک دوسرے کے سفرا کو رکھ کر اخراجات کیوں کیے جاتے ہیں۔