پاکستان، سفیر کو واپس بھیجنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے: بھارت کی اپیل
- جمعرات 08 / اگست / 2019
- 4970
بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے رد عمل میں اس کے سفیر کو ملک چھوڑنے کے فیصلے پر پاکستان سے نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔
بھارتی دفتر خارجہ نے درخواست کی ہے کہ اسلام آباد نئی دہلی کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے اور سفارتی تعلقات محدود کرنے پر نظر ثانی کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے دنیا کو پیغام جائے گا کہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات انتہائی نازک حالات سے دوچار ہیں۔‘
بھارتی دفتر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور یہ ہمیشہ خودمختار معاملہ ہی رہے گا۔ بھارت کی جانب سے جواز پیش کیا گیا کہ اس آرٹیکل کی منسوخی کے بعد جموں اور کشمیر کے عوام کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔ ’ہم نے دیکھا ہے کہ پاک بھارت دوطرفہ تعلقات میں اسلام آباد نے یک طرفہ فیصلہ کیا ہے‘۔
بھارت کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہمارے لیے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پاکستان کی جانب سے اٹھایا گیا یہ اقدام حیران کن نہیں ہے۔ اس بیان میں کہا گیا کہ نئی دہلی کو اسلام آباد کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر افسوس ہوا۔ پاکستان اس پر نظر ثانی کرے۔
یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی آرٹیکل 370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا جس پر بھارتی صدر راج ناتھ کوند نے دستخط بھی کئے تھے۔
پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اہم اجلاس میں بھارت سے دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے اور سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس فیصلہ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔