نیب نے مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار کرلیا
- جمعرات 08 / اگست / 2019
- 4260
قومی احتساب بیورو نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو گرفتار کرکے نیب ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا ہے۔
نیب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق مریم نواز اور یوسف عباس کو چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ نیب کے حکم پر ڈاکٹرز کی ٹیم ملزمان کا طبی معائنہ کرے گی۔ انہیں جمعہ کو ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
قبل ازیں ذرائع کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں آج طلب کیا تھا جہاں ان سے اس کیس سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ تاہم مریم نواز نے نیب کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کی تھی اور جیل میں قید اپنے والد سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے چلی گئی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے بعد واپسی پر راستے سے گرفتار کیا گیا۔ جس کے بعد انہیں نیب ہیڈ کوارٹرز منتقل کردیا گیا۔ مریم نواز کے نیب کے سامنے پیش نہ ہونے پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے اور تحویل میں لیتے ہوئے انہیں وہ وارنٹ بھی دکھائے گئے۔
جب انہیں گرفتار کیا گیا تو اس وقت بڑی تعداد میں لیگی کارکنان ان کے ہمراہ موجود تھے، جن میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ لیگی نائب صدر کی گرفتاری کے کچھ دیر بعد نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بھتیجے یوسف عباس کو بھی گرفتار کر لیا۔
مریم نواز کو نیب کی جانب سے تحویل میں لیے جانے پر اپوزیشن اراکین نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا، جس کے بعد اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری نے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے ٹی وی پر دیکھا کہ اپوزیشن جماعت کی ایک خاتون رہنما کو اس حکومت نے گرفتار کر لیا ہے۔ '
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 'میرا خاندان نسلوں سے سیاست کر رہا ہے، ہم نے بہت کچھ دیکھا ہے لیکن جیسا ضیا کے دور میں ہوا ویسا ہی عمران خان کی حکومت میں بھی ہو رہا ہے۔' بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ تاریخ یاد رکھے گی کہ عمران خان جو انصاف کی بات کرتا تھا اس نے نئے پاکستان میں کسی الزام کے بغیر مریم نواز کو گرفتار کیا تھا۔ چیئرمین پی پی پی نے مریم نواز کی گرفتاری پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
اجلاس ملتوی ہونے کے بعد جب حکومتی اراکین قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرنے کے لیے جمع ہوئے تو اس موقع پر لیگی اراکین اسمبلی بھی وہاں پہنچ گئے جہاں کارکنان نے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
دوسری طرف اس سے قبل چوہدری شوگر ملز کیس میں تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کے دو بھتیجوں یوسف عباس اور عبدالعزیز عباس کو مدینہ جانے والی پرواز سے آف لوڈ کردیا گیا تھا جو نواز شریف کے مرحوم بھائی عباس شریف کے بیٹے ہیں۔ نیب نے حال ہی میں چوہدری شوگر ملز کے حوالے سے تفتیش کا آغاز کیا تھا اور اس سلسلے میں 31 جولائی کو مریم نواز کا بیان بھی قلمبند کیا گیا تھا۔
نیب نے اس کیس میں نواز شریف سے جیل میں تفتیش کرنے کی اجازت طلب کی تھی لیکن احتساب عدالت نے یہ درخواست مسترد کردی تھی۔ اس ضمن میں نیب نے جب مریم نواز کو طلب کیا تھا تو انہوں نے جواباً کہا تھا کہ وہ اس تفتیش میں نیب کے احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ اسے بے نقاب کرنے کے لیے شامل ہوں گی۔