احتساب عدالت نے مریم نواز کا بارہ دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا

  • جمعہ 09 / اگست / 2019
  • 5270

احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے چچا زاد بھائی یوسف عباس کا 21 اگست تک کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے۔

نیب نے احتساب عدالت میں مریم نواز کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ  درخواست کی تھی۔ پراسیکیوٹر حافظ اسداللہ اور حارث قریشی جبکہ مریم نواز اور یوسف عباس کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے۔

نیب وکیل نے درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز چوہدری شوگر ملز کی شئر ہولڈر ہیں۔ ان کے اکاونٹ سے مشکوک ٹرانزیکشنز ہوئیں جس پر تفتیش کے لیے مریم نواز کو دو بار نیب آفس طلب کیا گیا۔ نیب نے ان سوالوں کی فہرست بھی عدالت میں پیش کی جن کے جواب مریم نواز نے نہیں دیے۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ مریم نواز کے خلاف انکوئری کب شروع کی گئی جس پر انہوں نے جواب دیا کہ مریم نواز سمیت خاندان کے دیگر افراد چوہدری شوگر ملز مین شیئر ہولڈرز ہیں۔ گرفتاری سے پہلے انہیں طلب کیا گیا تاہم وہ پیش نہ ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ شروع میں مریم نواز کے 8 لاکھ روپے سے زائد شئیر تھے۔ 2008 میں ان کے نام پر 41 کروڑ روپے کے شئیرز ہوگئے۔ مریم نواز سے پوچھا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کار کون ہیں لیکن یہ نہیں بتایا گیا۔

نیب وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یوسف عباس چوہدری شوگر مل میں شئیر ہولڈر بھی رہے ہیں اور ڈائریکٹر بھی رہے ہیں۔ ان کا اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوا اور ان کے اکاؤنٹ میں رقم آنے کے بعد چوہدری شوگر مل منتقل کی گئی۔

عدالت نے دریافت کیا کہ جب پاناما کیس سامنے آیا تو وہاں مریم نواز کے شئیرز کی بات کیوں نہیں آئی۔ نیب وکیل نے بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں یہ  بات کی گئی تھی۔

احتساب عدالت نے نیب کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا۔ کچھ دیر بعد فیصلہ سناتے ہوئے مریم نواز اور یوسف عباس کو 12 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے انہیں 21 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

گزشتہ روز قومی احتساب بیورو کی ٹیم نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کواس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنے والد نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے لئے گئی تھیں۔  مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں تفتیش کے لیے طلب کیا تھا تاہم انہوں نے نیب کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کی تھی اور جیل میں قید اپنے والد سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے چلی گئی تھیں۔

جوڈیشل کمپلیکس کے باہر لیگی کارکنوں نے ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی جن سے نمٹنے کے لیے واٹر کینن بھی منگوا لی گئی تھیں۔