چین مقبوضہ کشمیر کے معاملہ پر سفارتی تعاون کرے گا: شاہ محمود قریشی
- جمعہ 09 / اگست / 2019
- 5240
چین نے مقبوضہ کشمیر کے سوال پر پاکستان کو سفارتی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے بیجنگ میں چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کے بعد ملاقات کو مفید اور بروقت قرار دیا۔
ایک ویڈیو پیغام میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چین نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید کی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جانے کے معاملہ میں تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ میری اڑھائی گھنٹے کی نشست ابھی مکمل ہوئی ہے جو مفید اور بروقت نشست تھی۔
چین کی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'پاکستان کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر تعاون جاری رکھیں گے'۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرخارجہ وانگ ژی نے کہا کہ 'چین کو کشمیر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ہے اور یک طرفہ اقدامات سے صورت حال مزید خراب ہوگی اور ایسے اقدامات نہیں کرنے چاہئیں'۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ' پاکستان اور بھارت دونوں چین کے دوست ہمسایہ اور اہم ترقی پذیر ممالک ہیں جو ترقی کے اہم موڑ پر ہیں۔ ہم دونوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی قومی ترقی اور جنوبی ایشیا میں امن کے لیے یک طرفہ اقدامات سے گریز کرتے ہوئے تاریخی اختلافات کو ختم کریں'۔
چینی وزیر خارجہ کا حوالے دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انہوں نے مصروفیات اور شارٹ نوٹس کے باوجود صدر شی کے حکم پر ملاقات کی۔ کیونکہ پاکستان اور چین کی دوستی کی نوعیت مختلف ہے اور ہمارے ردعمل کی سطح بھی مختلف ہونا چاہیے۔
چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائی مسرت ہو رہی ہے کہ چین نے آج ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ پاکستان کا بااعتماد دوست ہے اور یہ دوستی لازوال ہے اور اس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے‘۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’انہوں نے پاکستان کے موقف کی مکمل تائید کی اور ہم سے اتفاق کیا کہ اقدامات یک طرفہ ہیں اور انہوں نے اتفاق کیا کہ اس سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت اور ہیئت میں تبدیلی واقع ہوئی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے اتفاق کیا کہ اس سے خطے کے امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے‘۔ ان کی خواہش ہے کہ اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے اور اس وقت جو کشیدگی ہے اس میں اضافہ نہ ہو’ ۔
وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان کی تشویش کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ ترامیم کے بعد ہمیں خدشہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جب کرفیو ہٹے گا تو وہاں ظلم و بربریت کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔ جس سے نہ صرف مزید انسانی حقوق پامال ہوں گے بلکہ مزید خون خرابے کا اندیشہ ہے اور اس کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ اس ردعمل سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی پلوامہ جیسی حرکت دوبارہ کی جا سکتی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کے بعد پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے نئی دہلی سے سفارتی تعلقات اور باہمی تجارت ختم کردیے ہیں ۔
نئی دہلی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بندش اور سیکیورٹی کریک ڈاؤن کے بعد سے قابض سیکیورٹی فورسز نے 500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ وادی میں لاک ڈاون کی وجہ سے عوام اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔