مسلمان اچھے اخلاق اور حسن سلوک کا مظاہرہ کریں: خطبہ حج

  • ہفتہ 10 / اگست / 2019
  • 7580

حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے 20 لاکھ عازمین سعودی عرب کے شہر مکہ کے نزدیک میدان عرفات میں موجود ہیں۔ حج کے رکن اعظم  کے موقع پر مسجد نمرہ کے امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبہ حج دیا ہے۔

حج کے رکن اعظم کی ادائیگی کے لیے ہفتے کو سورج طلوع ہوتے ہی لاکھوں عازمین مسجد حرام سے منی پہنچنا شروع ہوئے۔ سعودی حکام کے مطابق 20 لاکھ سے زائد عازمین فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں موجود ہیں جن میں بڑی تعداد مختلف ممالک سے آنے والوں کی ہے۔ سعودی عرب کے  شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر نیوزی لینڈ کی مساجد پر دہشت گردی کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے تقریباً 200 لواحقین فریضہ حج ادا کرنے والوں میں شامل ہیں۔

مسجد نمرہ کے امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبہ حج کے دوران کہا کہ امت مسلمہ کو چاہیے کہ ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے اور نفرتیں ختم کرے۔ انسان ہو یا جانور، سب کے ساتھ رحمت کا معاملہ کریں۔ امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا، تم زمین والوں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا معاملہ اختیار کرو اور والدین کے بعد اپنے رشتے داروں سے اچھا رویہ اختیار کرو۔

اسلام دین رحمت ہے اور رحمت کا راستہ ہے، اللہ نے قرآن میں فرمایا جدا جدا راستے نہ اختیار کیے جائیں۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے اور نجات کا راستہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی رحمت سے وہی مایوس ہوتا ہے جو گمراہ ہو چکا ہو۔ مسلمانوں کو تقویٰ کا راستہ اختیار کرتے ہوئے نماز قائم کرنی چاہیے۔

امام الشیخ محمد نے کہا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا، آج کے دن ہم نے دین مکمل کر دیا اور آج اپنی اس نعمت کو پورا کیا، اے عقل والو، اللہ کی اس کائنات اور اس کے نظام پر بار بار غور کرو۔ امام الشیخ محمد حسن نے حجاج کو تلقین کی کہ وہ دعاؤں میں مشغول رہیں اور سب کے لیے دعائیں کریں۔

خطبہ حج سننے کے لیے لاکھوں فرزندان توحید عرفات کے میدان میں جمع تھے۔  امام کعبہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی جس کا مفہوم ہے کہ مسلمان اگر استطاعت رکھتا ہو وہ اپنی زندگی میں ایک مرتبہ حج ضرور کرے۔ امام کعبہ نے کہا ’ارکان اسلام میں توحید کی گواہی اور ختم نبوت کی گواہی ہے، نماز ہے، زکوٰۃ ہے جسے غریبوں، یتیموں اور فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید کہا ’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ بہت ہی رحمت والا اور مغفرت کرنے والا ہے، وہی خدا ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا۔‘ امام کعبہ نے خطبہ حج میں کہا ’اللہ کی بات کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔‘

انہوں نے کہا ’اللہ نے انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، اللہ کی توحید اور وحدانیت کو مضبوطی سے پکڑنا چاہیے۔‘  امام کعبہ نے کہا ’قران پاک میں اللہ کی رحمتوں سے متعلق بار بار ارشاد ہے، نجات کا راستہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔ اللہ نے جتنی بھی آسمانی کتابیں نازل کیں ان میں ضابطہ حیات بتایا، اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ آج کے دن ہم نے دین مکمل کردیا۔‘

امام کعبہ نے خطبہ حج میں کہا کہ ہمارے کے لیے اللہ ہی کافی ہے جو بہت زیادہ مہربان، بہت زیادہ رحیم اور معاف کرنے والا ہے۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ امام کعبہ نے کہا کہ ’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دنیا کے ہر شعبے کے لیے مشعل راہ ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مسلمان ایک ہی جسم کی مانند ہیں‘۔

انہوں نےکہا ’اللہ نے تمام ملسمانوں کو آپس میں بھائی بھائی بنایا ہے، اچھے اخلاق، بہترین سلوک آج دنیا کی ضرورتیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم زمین والوں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔‘

امام کعبہ نے کہا ’مشکلات میں صبر کرنے سے بھی اللہ کی رحمت نازل ہوگی۔ بےشک اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے۔ کتنے بھی گناہ کیے ہوں پر توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کھلا ہے۔‘