بھارتی جارحیت اور پاکستان کی بے بسی
- تحریر سرور غزالی
- ہفتہ 10 / اگست / 2019
- 7210
ہندوستان نے انتہائی دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے طاقت کے بل بوتے پر، جمہوریت اور قانون کی دھجی بکھیرتے ہوئے کشمیر کی آزادانہ حیثیت کو منسوخ کر کے ایک صدارتی حکم کے تحت اسے اپنی ریاستی حدود میں شامل کرلیا ہے۔
ایسا کرنے کے بعد اسے پاکستان سے یہ عندیہ ملا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔ جنگ نہ کرنا یقیناً اچھی بات ہے۔ مگر صرف ایسی صورت میں جب ہم جنگ کرنے کے قابل ہوں۔ ویسے تو خیر بندہ جب جنگ نہ کرنے کی پوزیشن میں ہو اور پھر بھی جنگ کرے تو یہ اور بھی خراب بات ہے۔ بلکہ خودکشی کرنے کے مترادف ہے۔ ہاں زبانی بیان بازی کی جنگ البتہ کم نقصان دہ ہے۔
اس سے پہلے ہندوستان اور پاکستان پلوامہ تنازعہ کے باعث فروری کے مہینے میں آمنے سامنے کھڑے جنگ کا طبل بجارہے تھے۔ ہندوستان میں جہاں پلوامہ کے واقعے پر پاکستان سے خوب لے دے ہوئی وہیں ہندوستان کے اندر بھی اس پر بہت کچھ بات چیت ہوئی اور ہنگامہ بھی ہوا۔ اور ہندوستان کی فوج کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔
چند دن قبل کا یہ ڈرامہ جو کشمیر کی آزادانہ حیثیت کی منسوخی کی صورت میں رچایا گیا، یہ درحقیقت ہندوستان کے اندرونی خلفشار اور ہندوستانی فوج کا اپنی حدود کو پار کرجانے اور کشمیر کے مسئلے کا اپنے نقطہ نظر سے حل پیش کرنے کی کوشش کا جواب بھی ہے۔ مودی سرکار کی فوج و عدلیہ سے متصادم طرز حکومت پر ہی پلوامہ کا شاخسانہ کھڑا کیا گیا تھا۔ تاکہ اندراگاندھی کی حکومت کی معطلی کے طرز پر مودی سرکار کو چلتا کیا جاسکے۔ مگر موی جی تو بڑے کھلاڑی نکلے اور وہ بساط سیاست پر تنہا بھی نہیں ہیں۔ لہذا ا نہوں نے وقتی طور پر یہ الزام اپنے سر لے لیا کہ یہ سب کچھ ان کی مرضی سے ہوا اور انہوں نے اس کا فائدہ انتخابات میں غیر معمولی کامیابی کی صورت میں کیش بھی کرالیا۔
مگر ان کی بے چین روح اس کامیابی کے مضمرات بھی دیکھ رہی تھی کہ آنے والا وقت ان کے لیے مذید پریشانی لانے والا ہے۔ اور پھر انہوں نے کشمیر کا سیاسی حکومت کا فیصلہ اپنی فوج پربھی تھوپ دیا۔ یہ ایک خالصتاً سیاسی سویلن حکومت کا فوجی اور جارحانہ آپریشن تھا۔ جس میں فوجی اور نیم فوجی طاقت کو ایک زبردست طاقتور سیاستدان نے، صدارتی حکم کے ذریعہ قابل عمل بنایا ہے۔ اس عمل کے یہی دو پہلو ہیں۔ جہاں ایک طرف قانون کی دھجیاں بکھیردی گئی ہیں اور جمہوریت کو زبردست دھچکا لگا ہے وہیں سیاسی اور منتخب حکومت کو زبردست طاقت و توانائی بخشنے کا سبب بھی بن گیا ہے۔
ہندوستان کی فوجی صلاحیت خطے، کیا دنیا کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں ناقابل تسخیر ہے۔ کیا اس خطے میں کوئی بھی حکومت اتنی بڑی فوج رکھنے والی ایسی کسی جمہوری طرز حکومت کے مقابل کھڑے ہونے کا دعوی کر سکتی ہے۔ ہندوستان کے اس غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر قانونی فعل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ مگر ہندوستان نے روز روز کی کل کل اور جنگ کے چھائے بادل اور اس کے نتیجے میں کمزور ہوتے جمہوری اداروں کو یک دم تازہ خون دیکر تمام غیر جمہوری فوجی حل کو ایک دم پیچھے دھکیل دیا ہے۔
مودی کا یہ راستہ انہیں کتنا آگے لے جاتا ہے اور وہ تاریخ کے صفحات میں کیا مقام پاتے ہیں ان باتوں کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا۔ مگر کیا وہ کشمیر میں اس کے بعد آنے والے طوفان سے پوری طرح سرخرو ہوکر نکل سکیں گے۔ یہ بھی ایک بہت اہم سوال ہے جس کا سر دست جواب نہیں دیا جاسکتا۔ چونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کانگریسی حکومت کی سربراہ پاکستان کو دو لخت کردینے جیسے اہم معاملات کے باوجود خالصتان کے محاذ پر نہ صرف اپنی جان گنوا بیٹھیں بلکہ اپنے خاندان کی مشکلات کا باعث بنیں اور خود کانگریس پارٹی کو بھی آج تک ان کے بعد سنبھالا نہیں مل سکا۔
ہندوستان کے توسیع پسندانہ عزائم کی داستان خاصی طویل ہے۔ اگرچہ کہ وقت کی دھول میں اٹی حیدرآباد دکن کی ہندوستان میں شمولیت کی تاریخ خاصی خون آشام ہے، مگر آج کسے یاد ہے۔ حتی کہ وقت کے اوراق میں گم ہوتے سانحہ مشرقی پاکستان کو بھی مودی جی کو دوبارہ اپنے بیان سے تازہ کرنا پڑا۔ ورنہ تو تاریخ اسے بھی بھلانے کے درپے تھی۔ اب کشمیر کے عوام کے بین ساری دنیا خاموشی سے سن رہی ہے مگر ایک لفظ بھی بولنے سے قاصر ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ ہی کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھا ہے اور اسے عالمی طور پر اجاگر کرنے میں بھی اس حد کوشاں رہا ہے کہ پاکستان نے خود کو اپنے اندرونی مسائل سے نمٹنے میں کوتاہی کا شکار کر لیا۔ اور اپنے ملک میں جمہوری اداروں کی مضبوطی جیسے اہم معاملے کو پس پشت ڈالنے کا ذمہ دار بن چکا ہے۔ کشمیر کے اس جارحانہ جمہوری شب خون کے باوجود ہندوستان دنیا میں تنہا نہیں ہوا اور پاکستان اپنے اصولی درست موقف کے باوجود کیوں دوسری مرتبہ شہ مات کھا گیا؟
پاکستان نے جنگ نہ کرنے کا درست فیصلہ ضرور کیا ہے۔ لیکن پاکستان اس کے باوجود کیوں کر عالمی طور پر اپنی ساکھ برقرار رکھتے ہوئے اپنے اندرونی مسائل کو قابو کر سکنے میں کامیاب ہوتا ہے؟ یا دہشت گردی کے مسائل کو قابو کرکے عالمی اعتماد دوبارہ حاصل کر سکتا ہے؟ یہ وہ ایسے سوالات ہیں جو پاکستان کے لیے فوری اہمیت کے حامل ہیں۔ اور پاکستانی آزاد کشمیر کو بھی دیکھنا بہت اہم مسئلہ ہے۔
پاکستان ان تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے ہی طے کر سکتا ہے۔ چونکہ پاکستان کے اندرونی مسائل خاصے گمبھیر ہیں۔ پاکستان عالمی تعاون کے جیسے مسئلے سے نبردآزما ہے اور معاشی مسائل تو پاکستان کو بالکل ہی کمزور کر چکے ہیں۔ تو ایسی صورت میں پاکستان کو عالمی برادری کے تعاون کی توقع تب ہی کرنی چاہئے جب پاکستان میں عدلیہ سمیت جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے، عوامی اصلاحات اور تعلیمی اور دیگر شعبہ جات میں ترقی کے مربوط پروگرام کو تیز تر کرنے جیسے اقدامات کیےجائیں۔ جس سے نہ صرف تباہ حال معیشت کو سہارا دیا جاسکے گا بلکہ عوام کی خوشحالی پاکستان کو دنیا میں معتبر بناسکے۔