یوم آزادی اور کشمیری عوام کی جدو جہد

ہم 14اگست کو پیارے پاکستان کی72ویں سالگرہ منائیں گے۔ ان72سالوں میں وطن عزیز اور اس کے شہروں کے ساتھ کیا نہیں ہوا ہے، ہم کہاں کھڑے تھے اور اب کہاں ہیں؟

 ہر سال14اگست کی آمد سے قبل میڈیا میں اس حوالے سے پروگرام ہوتے ہیں جس میں تحریک پاکستان کے حوالے سے گفتگو کی جاتی ہے۔ اسی طرح 14اگست کو بچے جوان اور بوڑھے سب پاکستانی پرچم خریدتے اور لہراتے ہیں جس سے جذبہ حب الوطنی کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ بحث چھڑ جاتی ہے کہ قیام پاکستان کا مقصد کیا تھا قیام پاکستان کا مقصد مذہبی یا سیکو لر ریاست تھا۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بسنے والے اکثریتی مسلمانوں کے آئینی حقوق کا تحفظ تھا۔ قائد اعظم نے مسلمانوں کا مقدمہ آئینی اور قانونی دائروں میں رہ کر بھرپور طریقے سے لڑا اور انگریز و ہندو عددی اکثریت سے نجات حاصل کی۔

 مذہبی حلقوں کا یہ موقف ہے کہ قیام پاکستان کے پس منظر میں مذہبی محرکات تھے۔ اس لابی کے نظریہ دانوں سے پوچھا جائے اگر پاکستان کے قیام کے مذہبی محرکات تھے تو انہوں نے اس کے قیام کی مخالف کیوں کی تھی جس میں جمعیت علماء اسلام ہند کے سربراہ مولانا حسین احمد مدنی پیش پیش تھے۔ جبکہ ان کے ساتھ ابو کلام آزاد بھی موجود تھے جو کہ پاکستانی ریاست کے قیام کے خلا ف تھے اور چاہتے تھے کہ ہندوستان کے مسلمان متحدہ ہندوستان میں رہ کر ہی جدو جہد کر کے اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح مجلس ا حرار بھی قیام پاکستان کے خلاف تھی جس نے بعد میں قیام پاکستان کے بعد اس ریاست کی حمایت کر دی اور اپنی سیاست پاکستان کے حوالے سے شروع کر دی۔ اسی طرح جماعت اسلامی بھی اس وقت تحریک پاکستان کے مخالف تھی اور اس کے راہنما کہتے تھے کہ ہم پاکستان کے قیام کے مخالف نہیں  بلکہ ہم اس قیادت کے خلاف ہیں جو مغربیت پسند ہے۔ قیام پاکستان کے بعد مولانا مودودی نے پاکستان کو اس درست منزل کی طر ف گامزن کرنے کی کوشش کی۔ جنرل ضیاء الحق کے عہد میں اس بیانیہ کا دوبارہ  احیا ہوا اور ہمیں جہاد افغانستان کے ذریعے نشاط ثانیہ کی نوید سنائی گئی۔

 جمہوریت میں مختلف صدارتی اور پارلیمانی نظاموں کے تجربے کیے گئے۔ کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں معیشت کا سدھار نہیں رہا ہے جس کے نتیجے میں ہم بتدریج غیر ملکی مالیاتی اداروں کے قرضہ جاتی شکنجے میں جکڑے گئے اور آج صورتحال یہ ہے کہ ہمیں قرضے اتارنے کیلئے مزید قرضے لینے پڑ رہے ہیں۔ جس کی ادائیگی کیلئے عوام پر ٹیکسوں کا پہاڑ کھڑا کر دیا ہے۔ عوام کی قوت خرید سکڑ گئی ہے۔ ہم معاشی طور پر اتنے کمزور ہیں کہ دنیا کا کوئی ملک ہمارے سیاسی یا خارجی موقف کی حمایت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ہم موجودہ حکومت پر تنقید تو بہت کرتے ہیں لیکن کوئی ایسی رائے دینے سے معذور ہیں جس سے ریاست میں حقیقی معاشی استحکام پیدا ہو سکے۔ہماری ان اندرونی اور بیرونی کمزوریوں کی وجہ سے ہمارا دیرینہ دشمن بھارت ہر معاملے میں ہمیں نیچا دیکھنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔اس نے پاکستانی ریاست اور حکومت کو کمزور دیکھ کر کشمیریوں کے حقوق پر شب خون مارا ہے۔ہندوستان نے کشمیریوں کے حقوق کی خاطر بنائی ہوئی اپنی ہی آئینی ترمیم 371اور35A کو ختم کر کے اس علاقے کے متنازع ہونے کے تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔اس ترمیم سے کوئی تبدیلی تو نہیں آئی ہے کیونکہ یہ علاقہ بھی ہندوستان کے قبضے میں تھا اور اب بھی ہندوستان کے قبضے میں ہے۔

اس وقت واقعی صورتحال یہ ہے کہ کشمیر کا جو حصہ بھارت کے پاس ہے اس کے تین حصے ہیں، جموں جہاں پر زیادہ تر ہندو پنڈت آباد ہیں۔ انتہا پسند کشمیری ان کیلئے مسائل کھڑے کرتے رہتے ہیں تا کہ یہ کشمیر چھوڑ جائیں ان کے دباؤ کے وجہ سے بھی شائد ہندوستانی حکومت یہ انتہائی اقدام اٹھانا پڑا ہے تا کہ ہمیشہ سے کشمیریوں کی تحریک آزاد جدو جہد کو دبا دیا جائے۔ لداخ چین کی سرحد سے ملحق ہے اس خطے میں بدھ، ہندو اور شیعہ مسلمان آبادی ہے۔ یہاں پر بھی بھارت کو آبادی کی طرف سے کوئی مسائل نہیں ہیں جبکہ چین کو اس کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں۔ اس کو خدشہ ہے کل کلاں چین اس علاقے میں کوئی لشکر کشی کر سکتا ہے تو اس سے پہلے بھی چین کی ہندوستان سے جھڑپیں ہو چکی ہیں جس کے نتیجہ میں چین نے اس کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا  تھا۔ جبکہ صدر ایوب خان نے بھی اس سے ملحقہ علاقہ چین کو دے دیا تھا۔ کشمیر وادی سری نگر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بھارت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی علاقہ سیاست کا اصل گڑ ھ ہے جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔

ہندوستان میں بالآخر 5اگست2019کو مسئلہ کشمیر 72سال بعد اپنے طور پر حل کر دیا ہے اس طرح بلی پوری طرح تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔۔ بھارت چاہیے کوئی قانون سازی کر لے وہ  یک طرفہ دوسرے فریق کشمیری عوام کو شریک کیے بغیر اس کا قانونی جواز تلاش نہیں کر سکتا۔ یہ کام غیر قانونی، غیر اخلاقی،بین الاقوامی قرار داد وں اور اپنے ہی راہنماؤں کے کئے ہوئے سمجھوتوں سے انحراف قرار دیا جائے گا۔ دنیا کے کئی ممالک جہاں پر سامراجی ممالک یا اسی علاقے کے ممالک نے قبضہ کر لیا تھا بعد میں انہیں آزاد کر دیا گیا۔ الجزائر میں فرانس نے قبضہ کر لیا تھا وہاں پر فرانسیسیوں کو آباد کیا۔انہوں نے وہاں کاروبار اور زراعت پر قبضہ کر لیا تھا۔ 1830میں الجزائر پر فوجی قبضہ کر لیااور اس کو اٹوٹ انگ قرار دے دیا۔عرصہ دراز تک الجزائری عوام کی جدو جہد جاری رہی۔ بالآخر 1962کو الجزائر آزاد ہو گیا۔1975میں پرتگال نے مشرقی تیمور کے جزیرے پر قبضہ ختم کر دیا تو اس پر انڈو نیشیا قابض ہو گیا۔ تیموری عوام کی اکثریت عیسائی تھی انہوں نے اقوام متحدہ کے ریفرنڈ م میں اس علاقے کو آزاد ملک میں تبدیل کر دیا۔

اسرائیل میں مغربی طاقتوں کے ایما پر گولان پر قبضہ کر لیا۔مشرقی یورو شلم کو اسرائیل میں ضم کرنے اور مقبوضہ علاقوں میں لاکھوں یہودیوں کی آباد کاری کی اور اب بیت المقدس کو اپنا دار الحکومت قرار دے دیا۔وہ ان اقدامات کے باوجود اپنے فیصلوں کو جائز نہیں بنا سکا ہے۔ فلسطینی ابھی تک آزادی کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں اور جدو جہد کرتے رہیں گے۔ مگر اسرائیل کے غلط کام کو درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔ بھارت کو پانچ اگست کبھی ہضم نہیں ہو پائے گا اور یہ منظر ہماری اگلی نسلیں  نہیں یہی نسل دیکھے گی۔ آج جبکہ بھارت نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو ضم کرنے کی کوشش کی ہے تو اس اقدام پر پاکستان اس کے عوام سراپا احتجاج ہیں۔ مگر کشمیری عوام یا ہمارے موقف کی حمایت میں آوازیں کسی دوست ملک کی طرف سے نہیں سنائی دے رہی ہیں۔ بلکہ وہ اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہم معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

 سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ہمارے موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ترکی اور ملائشیا کے صدر کی طرف سے ہمارے موقف کی حمایت میں بیانات آئے ہیں۔ ہندوستان کے ان اقدامات کو ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ ہم کئی سالوں سے کشمیری عوام کے موقف کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اور اسی کو دنیا کے ہر فورم پر اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ دیکھا جائے تو ہندوستان ایک بہت بڑی معاشی قوت ہے جس کے تمام عرب ممالک کے ساتھ تجارتی روابط ہیں۔ جنہوں نے ہندستان میں بھاری سرمایہ کاری کررکھی ہے۔وہ ہندوستان میں تیل بھیجتے ہیں۔لاکھوں ہندوستانی عرب ممالک میں اعلیٰ پوسٹوں پر فائز ہیں جبکہ پاکستانیوں کے پاس چھوٹے درجے کی ملازمتیں ہیں۔ اس طرح ہمارا معاشی حوالے سے ان ممالک پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

 ہندوستان نے جس طرح سے کشمیری کا معاملہ حل کرنے کی کوشش کی ہے اس کی وجہ سے کشمیر کے حریت پسند بھی ان مزاحمتی قومیتوں میں شامل کر دیئے گئے ہیں جو کہ ہندوستان میں آزادی کی جدو جہد کیلئے مصروف ہیں۔ کشمیر کے بارے فیصلے کے بعد مودی نے ہندوستان کے فیصلے کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے آنے والے دنوں میں بہت خطر ناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ خطرہ ہے ہندوستان پاکستان کے حامی کشمیریوں کو پاکستان کی طرف دھکیلنے کی طرف کوشش کرے گا جس سے پاکستان پر معاشی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں جذباتی بیان دینے کی بجائے پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان ہی ہندوستان کے مذموم ارادوں کے سامنے بند باندھ سکتا۔

 بہر صورت ہمیں اپنی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنی چاہیے اور کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم کے بارے دنیا کو آگاہ کرنا چاہیے۔کشمیر ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں پر میڈیااور انٹر نیٹ کو مکمل پابندیوں کا سامنا ہے جس سے اصل صورتحال دنیا کے سامنے نہیں آ رہی پاکستان کیلئے ہندوستانی فیصلہ سانحہ مشرقی پاکستان سے کم نہیں ہے۔