کراچی میں موسلادھار بارش جاری، مختلف حادثات میں مزید 4 افراد جاں بحق
- اتوار 11 / اگست / 2019
- 5500
کراچی میں رات سے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے نتیجے میں شہر کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور نظام زندگی مفلوج ہوگیا۔ متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
گزشتہ رات سے جاری بارش کی وجہ سے شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا اور نکاسی کا نظام بھی متاثر ہوا جبکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر کی اہم شاہراہوں پر بارش کا پانی جمع ہونے کے باعث یہ سڑکیں ندی، نالوں کا منظر پیش کررہی تھیں جبکہ درجنوں گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں۔ جنہیں نکالنے کے لیے شہری اپنی مدد آپ کے تحت کوششیں کرتے نظر آئے۔
کراچی میں کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی بارش کے باعث شاہراہ فیصل، ڈیفنس، کلفٹن، گلستان جوہر، نیپا چورنگی، ایئرپورٹ روڈ، کورنگی، نارتھ ناظم آباد، سرجانی ٹاؤن، گلشن اقبال، سہراب گوٹھ، بہادرآباد، اسٹیڈیم روڈ، لیاقت آباد اور ایف سی ایریا میں مختلف مقامات پر کئی فٹ تک پانی جمع ہوگیا۔
اس کے علاوہ سندھ سیکریٹریٹ، سندھ اسمبلی، گورنر ہاؤس کے قریب باغ جناح کے سامنے اور دیگر مقامات پر کئی فٹ پانی سڑکوں پر جمع ہوگیا جبکہ پانی جمع ہونے کے باعث کارساز سے ایئرپورٹ جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔
علاوہ ازیں شہر میں پانی کی نکاسی کے لیے انتظامیہ اور سرکاری مشینری کہیں دکھائی نہیں دی اور نکاسی کا نظام متاثر ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی میں رات سے شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ ہفتہ کی شام تک جاری ہے۔
اس سے قبل گزشتہ روز وقفے وقفے سے شہر کے مختلف علاقوں میں موسلاھار بارش ہوئی تھی جس کی وجہ سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا تھا اور کچھ علاقوں میں بجلی بھی منقطع ہوگئی تھی۔ کراچی میں جاری موسلا دھار بارش کے نتیجے میں کھارادر صرافہ بازار کے قریب کرنٹ لگنے کے 2 مختلف واقعات میں 2 افراد جاں بحق اور قصبہ کالونی شاہین ہوٹل کے قریب مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔
اس کے علاوہ ریسکیو ذرائع کے مطابق کیماڑی بھٹہ ولیج کے قریب چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا جسے سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔
گزشتہ روز ملک بھر کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں طوفانی بارشوں کے نئے سلسلے کا آغاز ہوا تھا اور کراچی میں ہونے والی بارش کے نتیجے میں کرنٹ لگنے اور ڈوبنے سے دو نوجوانوں سمیت 3 افراد جاں بحق ہچکے ہیں۔ بارشوں کے باعث شہر میں واٹربورڈ کے پمپنگ اسٹیشنز پر بجلی کے بریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی جاری رہا اور دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے پہلے بریک ڈاؤن کا دورانیہ شام 4 بجے سے رات 10:45 بجے تک رہا، جس کی وجہ سے کراچی کو 50 ملین گیلن پانی فراہم نہ کیا جاسکا۔
کے الیکٹرک کے ترجمان نے جاری بیان میں شہر کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر مطالبہ کیا ہے کہ شہری انتظامیہ نکاسی آب کے لیے ایمرجنسی نافذ کرے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی، کے ڈبلیو ایس بی اور بدلیاتی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کو فون پر شہر کی موجودہ صورت حال سے فوری نمٹنے کے لیے ہدایت جاری کی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ملک میں جاری موسلادھار بارشوں کا سلسلہ عیدالاضحیٰ کے دوران بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔