سری نگر: کرفیو میں پہلی بار نرمی، کشمیریوں کا شدید احتجاج

  • اتوار 11 / اگست / 2019
  • 4180

ہفتے کو مقبوضہ کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر میں سخت کرفیو میں نرمی کی گئی جس کے بعد شہریوں کی اے ٹی ایمز اور کھانے پینے کی اشیا کی دکانوں کے باہرطویل قطاریں بن گئیں۔ حکام کی جانب سے کرفیو میں وقفے کا مقصد لوگوں کو عید الاضحیٰ کی تیاریوں میں سہولت دینا تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کرفیو میں وقفے کے دوران سڑکوں پر فوجیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ  ایک روز پہلے بھارتی سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی تھی۔ آٹھ ہزار کے قریب کشمیری، کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

مقبوضہ کشمیر میں عیدالاضحیٰ  پیر کو منائی جائے گی۔ یہ دن بھارتی سیکیورٹی فورسز کے لیے بڑا امتحان ہوگا۔  ایک ہفتے سے مسلم اکثریتی علاقے کو بند کر رکھا گیا ہے۔ علاقے میں انٹرنیٹ اور فون سروس بند ہے جبکہ کرفیو لگا دیا گیا ہے جس کا مقصد کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کے خلاف احتجاج روکنا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ شورش کے شکار علاقے میں امن اور خوشحالی کے لیے آئین میں تبدیلی کی ضرورت تھی۔ ہفتے کو کرفیو میں نرمی کے بعد زیادہ کاریں اور پیدل چلنے والے سڑکوں پر دیکھے گئے۔

سری نگر کے ایک رہائشی نے بتایا کہ ’ہم زیادہ بھی کر سکتے ہیں لیکن یہ اب بھی مشکل ہے۔ ہر کسی کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ہماری زندگیاں اب بھی خاردار تاروں اور چوکیوں میں جکڑی ہوئی ہیں۔‘

بینکوں کی اے ٹی ایمز میں رقم ختم ہو گئی ہے اور جن مشینوں میں رقم موجود ہے ان کے باہر قطاریں بنی ہوئی ہیں۔ ایک اور شہری نے کہا کہ ’لوگوں کو عید کے لیے کھانے پینے کی اشیا کی بھی ضرورت ہے۔‘

وزیراعظم نریندر مودی نے اس ہفتے قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ عید کے موقعے پر کشمیری عوام کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی لیکن میڈیا رپورٹس نے بتایا کہ حکام اتوار کو فیصلہ کریں گے کہ عیدالاضحیٰ کے لیے پابندیوں میں نرمی کی جائے گی یا نہیں۔

اے ایف پی کے مطابق جمعے کو نماز کے بعد آٹھ ہزار کے قریب لوگ سری نگر کے ایک حصے میں احتجاج کے لیے جمع ہوئے لیکن فوج نے آنسو گیس پیلٹ گنیں استعمال کر کے انہیں منتشر کر دیا۔ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے حوالے سے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ’12 افراد مضروب ہوئے لیکن کوئی بری طرح زخمی نہیں ہؤا۔‘ بھارتی وزارت داخلہ نے کسی بھی احتجاجی مظاہرے کی تردید کی ہے۔