ناروے: مسجد میں سفید فام نوجوان کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی، حملہ آور گرفتار

  • اتوار 11 / اگست / 2019
  • 5620

گزشتہ شام ناروے میں ایک مسجد میں  فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ تاہم مسجد میں موجود لوگوں نے حملہ آور کو قابو کرلیا جسے بعد میں پولیس نے موقع پر پہنچ کر حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔

یہ واقعہ  ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے نواح بیرم کے علاقے میں میں واقع النور اسلامک سینٹر میں پیش آیا۔ ایک سفید فام نوجوان نے مسجد میں داخل ہوکر فائرنگ شروع کر دی۔ مسجد میں اس وقت صرف تین افراد تلاوت قرآن میں مصروف تھے ۔ ان میں سے ایک معمر شخص نے فوری طور سے آگے بڑھ کر حملہ آور پر قابو پالیا جس کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان نہیں ہؤا۔

اوسلو میں اسسٹنٹ پولیس چیف رونے سکجولڈ نے بتایا کہ مبینہ حملہ آور 'لگ بھگ 20 برس کا ہے اور وہ ناروے کا شہری ہے۔' مشتبہ حملہ آور پر اپنے ایک رشتہ دار کو قتل کرنے کا شبہ بھی ہے۔ مسجد میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس نے مشتبہ شخص کے گھر سے ایک خاتون کی لاش برآمد کی ہے۔ کہا جارہا ہے یہ خاتوں حملہ آور کے خاندان سے ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا مسجد پر حملہ کرنا ایک انفرادی فعل تھا اور اس وقت اکیلا تھا۔ مسجد کے منتظم نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والا شخص 75 برس کا ہے اور وہ مسجد میں موجود تھا۔  مسجد کے منتظم عرفان مشتاق نے مقامی اخبار کو بتایا کہ 'ہمارے ایک رکن کو ایک سفید فام شخص نے گولی ماری۔ حملہ آور نے  ہیلمٹ اور یونیفارم پہنی ہوئی تھی۔'

عرفان مشتاق نے مقامی چینل ٹی وی 2 کو بعد ازاں بتایا کہ حملہ آور 'کے پاس دو شاٹ گنز جیسے ہتھیار اور ایک پستول تھا۔ وہ ایک شیشے کے دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوا اور گولیاں چلائیں۔'  عرفان مشتاق نے بتایا کہ حملہ آور جسم پر زرہ بکتر پہنے ہوئے تھا اور مسجد میں موجود لوگوں نے اسے پولیس کی آمد سے قبل ہی پکڑ لیا تھا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد مسجد سے بڑی تعداد میں ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔

ناروے کی وزیر اعظم ارنا سولبرگ اور دوسرے سیاسی لیڈروں نے اس حملہ کی شدید مذمت کی ہے۔ اظہار یک جہتی کے لئے وزیر اعظم سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے عید کے مختلف اجتماعات میں جاکر لووگں سے خطاب کیا اور نسلی و مذہبی نفرت کے خلاف جد و جہد کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

اس واقعہ کے بعد پولیس  نے اوسلو اور دیگر علاقوں میں سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے۔ مقامی شہریوں نے مساجس کے باہر پلے  کارڈ اٹھا کر نمازیوں اور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا۔ اور امن کا پیغام دیا۔ واضح رہے کہ مارچ مین نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ مسجد پر حملے میں 51 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔