کشمیرتنازعہ پر جمعہ کو سیکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوگا

  • جمعرات 15 / اگست / 2019
  • 4820

پاکستان کے مطالبے  پر مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر غور کے لئے جمعہ 16 اگست کو  سلامتی کونسل کا اجلاس ہوگا۔ چین نے پاکستان کے اس مطالبہ کی حمایت کی تھی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے ایک خط میں سیکیورٹی کونسل کے صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ اجلاس بلا کر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات کی جائے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستانی خط سیکیورٹی کونسل کی صدر تک پہنچایا۔

سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی کونسل کا اجلاس جمعہ (1 اگست کو منعقد ہوگا جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تصفیہ طلب معاملے پر مبنی ایجنڈے کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی صدر جوانا ورینکا نے اس فیصلہ کی تصدیق کی ہے۔

سیکیورٹی کونسل کی صدر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ سیشن ممکنہ طور پر جمعہ کو منعقد کیا جائے گا کیونکہ جمعرات کے روز سیکیورٹی کونسل کام نہیں کرے گی۔  ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین نے بھی ایک روز قبل بھارتی اقدام پر بات کرنے کے لیے سیکیورٹی کونسل کو لکھے گئے پاکستانی خط کی حمایت کی تھی۔

سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ فرانس نے پاکستانی خط پر رد عمل دیتے ہوئے تجویز پیش کی تھی کہ سیکیورٹی کونسل اس معاملے کو ’آخری ایجنڈے‘ کے طور پر دیکھے۔  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر سیکیورٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہونا پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آخری مرتبہ یہ معاملہ سال 1971 میں زیر بحث آیا تھا لیکن 4 دہائیوں بعد اس فورم پر اس کا دوبارہ زیر بحث آنا بڑی کامیابی ہوگی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی برادری کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ کشمیر کا معاملہ دو ممالک کے مابین ایک زمین کے ٹکڑے کا نہیں بلکہ انسانیت کا معاملہ ہے۔ یاد رہے کہ نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے شاہ محمود قریشی دنیا کو پاکستانی مؤقف سے آگاہ کرنے میں متحرک رہے ہیں۔

انہوں نے گزشتہ ہفتے چین کا ہنگامی دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے چینی قیادت سے اقوام متحدہ جانے کے پاکستانی منصوبے پر بات چیت کی تھی۔ چینی وزیر خارجہ وانگ زی نے شاہ محمود قریشی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔

مقبوضہ وادی میں گزشتہ 12 روز سے کرفیو نافذ ہے جس کے باعث کشمیری عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان میں کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے ملک گیر مظاہرے کیے جارہے ہیں جبکہ حکومت پاکستان کے حکم پر رواں برس یوم آزادی یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر بنایا گیا۔

خبروں کے مطابق سلامتی کونسل کا یہ ہنگامی اجلاس سلامتی کونسل کے مستقل رُکن چین کی درخواست پر ہو رہا ہے جب کہ پاکستان نے بھارتی حکومت کے اقدام پر بدھ کو ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست دی تھی۔ تجزیہ کار کشمیر کی کشیدہ صورتِ حال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں متوقع قرارداد کی منظوری سے متعلق تجزیہ کار ڈاکٹر رفعت حسین کہتے ہیں کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ کشمیر سے متعلق قرارداد اقوامِ متحدہ میں منظور ہو سکے گی یا نہیں۔ سلامتی کونسل کے اراکین کی تعداد 15 ہے۔ جن میں سے پانچ مستقل ارکان کے پاس ویٹو کا اختیار ہے جب کہ ان میں سے کوئی بھی ملک قرارداد کو ویٹو کر سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پر بحث کا آغاز ہونا ہی پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں تنازع کشمیر پر قرارداد کی متوقع منظوری سے متعلق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ قرارداد منظور ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل جو حالات ہیں اور جس طرح کا برتاؤ بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ کیا ہے اور جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے، ان حالات میں اقوامِ متحدہ کو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہے۔ بھارت کے آئین میں ترمیم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر منیر اکرم نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے کشمیر کی 'متنازع' حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔