ایل او سی پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کے 3 جوان شہید

  • جمعرات 15 / اگست / 2019
  • 4900

لائن آف کنٹرول پر باھرتی فوج کی فائرنگ سے  میں 3 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوگئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ یہ اشتعال انگیزی مقبوضہ کشمیر کی نازک صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لئے کی گئی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ سے نائیک تنویر، لانس نائیک تیمور اور سپاہی رمضان شہید ہوگئے۔ پاک فوج کی جوابی فائرنگ سے 5 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔ ترجمان کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں متعدد بھارتی فوجی زخمی ہوئے اور بنکرز کو نقصان پہنچایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لائن آف کنٹرول پر وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔  بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم مقبوضہ کشمیر میں یک طرفہ بھارتی اقدام کے بعد ایل او سی پر بھارتی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

بھارتی فوج ایل او سی پر جدید ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے جبکہ گزشتہ دنوں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے شہری آبادی کو کلسٹر بموں سے بھی نشانہ بنایا تھا۔ گزشتہ 2 برسوں میں بھارت نے ایک ہزار 9 سو 70 مرتبہ سے زائد جنگ بندی معاہدے کی خلاف وزری کی۔

5 اگست کو بھارت نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے وادی کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا۔ بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں (یونین ٹیرٹریز) میں تبدیل کردیا تھا اور وہاں کرفیو نافذ کردیا تھا جو گزشتہ 11 روز سے جاری ہے۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں موبائل، انٹرنیٹ سروس سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل کررکھا ہے۔ احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر فائرنگ کرکے انہیں شہید اور سیکڑوں کو گرفتار کرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔

پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات معطل اور سفارتی تعلقات محدود کردیے تھے۔ پاکستان، بھارت کے یوم آزادی 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منارہا ہے اور ملک بھر میں بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج اور کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی جارہی ہے۔