مقبوضہ کشمیر میں کچھ بھی ٹھیک نہیں: خاتون کشمیری رہنما شہلا رشید

  • جمعرات 15 / اگست / 2019
  • 6350

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ لیڈر اور جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رشید نے کہا ہے کہ ’ آئین کی دفعہ 370 کو ہٹا کر جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے سے کشمیریوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے، جس کا مداوا اسی صورت ہو سکتا ہے جب کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے‘۔

شہلا رشید کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ ’سب کچھ ٹھیک ہے اور ’لوگ خوش ہیں‘ یا پھر یہ کہ اس اقدام کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری ہوگی اور خوش حالی آئے گی۔  انہوں نے کہا کہ ’اگر معاملہ اتنا ہی خوش کُن ہے تو اقدام کے نتیجے میں کشمیر بند کیوں پڑا ہے؟ وہاں عید پر بھی ماتمی ماحول کیوں برپہ ہے؟‘۔

انہوں نے کہا کہ ’چار اگست سے کشمیر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، سیاسی قائدین قید کیے گئے ہیں اور مظاہرین کو پیلٹ گن کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کرفیو کس لیے لگایا گیا ہے؟ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون نظام کیوں بند کیا گیا ہے؟‘۔

عید کے اجتماعات سے متعلق سوال پر، شہلا رشید نے کہا کہ عید کی نماز کی اجازت صرف چھوٹی مقامی مساجد کی حد تک دی گئی جب کہ کہیں بھی کسی بھی جامع مسجد، مثلاً درگاہ حضرت بل میں نماز عید کی اجازت نہیں تھی۔ اسٹوڈنٹ یونین رہنما نے بتایا کہ ’بھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے نہ صرف کشمیریوں کے اعتماد کی دھجیاں اڑائی ہیں بلکہ ہمارے جمہوری اور انسانی حقوق سلب کیے ہیں‘۔

اس سوال پر کہ وفاقی حکومت اقدام پر کشمیری نوجوانوں کا رد عمل کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ’کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آگے کیا ہوگا، چونکہ سیاسی رہنماؤں کو قید کرکے تشدد اور اشعال انگیزی کو بڑھاوا دیا گیا ہے‘۔

انہوں نے کہا ’سیاستدانوں اور سرگرم کارکنان کے لیے صورت حال مشکل ہوتی جا رہی ہے‘۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ کشمیری نوجوان کیا چاہتا ہے، شہلا رشید نے کہا کہ ’ہم کشمیر کے لیے اپنے خصوصی درجے کی بحالی چاہتے ہیں‘۔

لائحہ عمل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’احتجاج ایک جمہوری حق اور عمل ہے۔ البتہ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ نئی دہلی، کرناٹک، کرالہ میں تو احتجاجی مظاہرے ہو سکتے ہیں۔ لیکن جموں و کشمیر میں احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلتی ہیں۔ اور پیلٹ گن کے چھَرے برسائے جاتے ہیں‘۔

(بشکریہ: وائس آف امریکہ)