مسئلہ کشمیر پرسیاسی اور سفارتی محاذ
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 15 / اگست / 2019
- 5470
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں حالیہ فیصلہ کے نتیجے میں پاکستان پر سیاسی او رسفارتی محاذ پر ڈپلومیسی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ کیونکہ مسئلہ محض کشمیر تک محدود نہیں بلکہ پاک بھارت تعلقات، جنوبی ایشیا یا اس خطہ کی سیاست سے جڑے مسائل سنگین صورتحال اختیار کرگئے ہیں۔
ایسی صورتحال میں پاکستان دباؤ کو کم کرنے اور کشمیروں کے ساتھ مکمل سیاسی او رسفارتی یکجہتی کرنے اور بھارت کو دو ٹوک جواب دینے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرے؟ یہ وہ بنیادی نوعیت کا سوال ہے جو اہل دانش کی سطح پر زیر بحث آنا چاہیے کہ پاکستان ایسی کیا حکمت عملی اختیار کرے جو اس مسئلہ کی سنگینی کو کم کرسکے۔اسی طرح یہ نکتہ بھی زیر بحث ہونا چاہیے کہ ہمارے پاس ایسے کونسے کارڈ ہیں جو ہم اپنی موثر حکمت عملی کے لیے ڈپلومیسی کے محاذ پر استعمال کرسکتے ہیں۔
بھار ت کا بنیادی نکتہ یہ رہا ہے کہ کشمیر کے تنازعہ میں پاکستان او ربھارت براہ راست فریق ہیں او راس پر کسی تیسرے فریق کو کسی بھی قسم کی مداخلت کا حق نہیں۔ لیکن بھارت نے آرٹیکل 370اور 35-Aختم کرکے خود ہی تیسری قوت سمیت دوسرے ممالک او راداروں کی مداخلت یا کردار کا موقع پیدا کیا ہے۔اس وقت پاکستان کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ کشمیر کے حوالے سے حالیہ فیصلہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات پر عالمی دنیا کو جھنجھوڑ سکے۔ کیونکہ اس وقت بحران کے دو پہلو ہیں۔اول بندوق او رطاقت کے مقابلے میں ہم سیاسی طور پر کشمیر کا ایک ایسے پرامن حل کی طرف پیش رفت کریں جو سب کے فریقین کے قابل قبول ہو۔دوئم مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی بدترین پامالی کو روکنا ہوگا جو عالمی دنیا کا مینڈیٹ بھی ہے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کے حالیہ فیصلہ سے ہم سیاسی طور پر تنہا ہو گئے ہیں، وہ غلطی پر ہے۔ اس وقت عالمی دنیا میں بھارت کا مقبوضہ کشمیر کے تنازعہ میں ہونے والا فیصلہ عالمی دنیا سے جڑے ممالک اورسیاسی، قانونی،انسانی حقوق سے جڑے اداروں میں دباؤ عملی طور پر بھارت پر بڑھا ہے۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری سمیت ایمنسٹی انٹرنیشل، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس، ہیومین رائٹس واچ جیسے ادارے بھارتی اقدام پر تنقید کررہے ہیں۔دوسری جانب دنیا کی سول سوسائٹی کے ادارے اور امریکہ، برطانیہ، نیوزی لینڈ، کینڈا، برسلز سمیت کئی ممالک میں لوگ بھارتی اقدام اور بالخصوص انسانی حقوق کی پامالی پر سراپا اجتجاج ہیں۔
بھارت سے بھی مودی سرکار کی مخالفت میں آوازیں اٹھ رہی ہیں او ران کے بقول مودی سرکار کا اقدام بھارت کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پچھلے چند برس میں کشمیریوں کی مزاحمت نے مسئلہ کشمیر کو عالمی مسئلہ کے طور پر دنیا کی توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اگر اس موقع پر عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ نے مسئلہ کشمیر کے حل میں موثر کردار ادا نہ کیا تو اس مسئلہ کی شدت کے نتائج بہت خوفناک ہوسکتے ہیں۔ دنیا کی کوشش یہ ہی ہونی چاہیے کہ کشمیریوں کی حالیہ سیاسی جدوجہد کسی بھی طو ر پر مسلح جدوجہد کی شکل میں نہ دھکیلاجائے۔ یہ عالمی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ اس کا حالیہ اقدام دنیا میں تشویش کے طو رپر دیکھا جارہا ہے۔لیکن یہ کام محض زبانی باتوں سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں بھارت کو ایک بڑی ویک آپ کال دیں یعنی موجودہ بھارتی پالیسی کسی بھی صورت میں قبول نہیں۔کیونکہ اگر پاکستان او ربھارت کے درمیان کشمیر کے تناظر میں کوئی بھی حالات بگڑتے ہیں یا جنگ کا ماحول پیدا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی دنیا کے کمزور کردار سے جڑی ہوگی۔بہت سے مبصرین کے خیال میں حالیہ پاک بھارت کشیدگی سے افغان امن بھی متاثر ہوسکتا ہے۔
پاکستان نے بھارت کے اقدام پر جو بھی سفارتی فیصلے کیے ہیں جن میں مختلف نوعیت کی پابندیاں بھی ہیں یقینی طور پر یہ کڑوی گولیاں ہیں اوریہ فیصلے ہم نے خوشی سے نہیں کئے۔ بلکہ بھارت نے اپنے جارحانہ عزائم سے ہمیں ان فیصلوں کی طرف دھکیلاہے۔کیونکہ پاکستان اس وقت امن کی خواہش رکھتا ہے او رتسلسل کے ساتھ بھارت کو حالات کی بہتری کا عملی پیغام بھی دے رہا ہے۔مگر بھارت نے دو طرفہ سطح پر مذاکرات کے تمام تر دروازوں کو بند رکھا ہے او رکوئی سیاسی فیصلہ کرنے کے لیے تیار نہیں جو دونوں ملکوں میں بداعتمادی کی فضا کو اعتماد سازی میں تبدیل کرسکے۔بھارت کے حالیہ یک طرفہ اقدامات نے ہی دونوں ملکو ں کے درمیان پہلے سے جاری ماحول کو اور زیادہ خراب کردیا ہے جو اس خطہ کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
پاکستان کے لیے اچھا موقع ہے کہ حالیہ بھارتی اقدام پر ہمیں کشمیریوں کی حمایت میں چین، امریکہ، برطانیہ، ترکی، سعودی عرب، ملائیشیا، اقوام متحدہ، انٹرینشل جیورسٹ کونسل سمیت بہت حوصلہ افزا جواب ملا ہے۔ امریکہ، چین او رترکی ہمارے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ یقینی طور پر خود بھارت کے لیے بھی یہ بڑا دھچکا ہے کہ دنیا کشمیر کے حالیہ فیصلہ پر سرگرم ہوئی ہے او راسے محض بھارت کا داخلی مسئلہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔کشمیر پر برطانوی پارلیمنٹ کے 45ارکان کا یو این سیکرٹری جنرل کو خط بھی ہماری بڑی سفارتی کامیابی ہے او رچین نے یک جہتی جو عملی مظاہرہ کیا اسے ہم اپنے ڈپلومیسی کے فرنٹ پر بہتر طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ اسی طرح امریکی صدر کا ثالثی کے کردار کی بحث کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے اس بحث کو اور زیادہ شدت دینی ہوگی تاکہ یہ بحث مقبول ہو او ربھارت پر ایک بڑا دبا ؤپیدا کرسکے۔
پاکستان کو ڈپومیسی کے محاذ پر چھ اہم کرنے ہوں گے۔ اول دنیا میں ڈپلومیسی فرنٹ پر ایک سرگرم او رفعال کردار جس میں جذباتیت کم اور شواہد کی بنیاد پر مواد زیادہ ہو اور دنیاکو یہ باو ر کروانا ہوگا کہ ان کی خاموشی مجرمانہ غفلت ہوگی۔ دوئم بھارت پر دباؤ بڑھانے کے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بنیاد بنا کر موثر حکمت عملی کو ترتیب دینا کیونکہ دنیا مانتی ہے کہ بھارت کا مقدمہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تناظر میں بڑا خوفناک ہے۔ سوئم ہمیں سفارت کاری کے محاذ پر موجودہ اور سابق سفارت کاروں، موجودہ اور سابق ارکان اسمبلی، پارلیمنٹ، کشمیر کمیٹی، اہل دانش، میڈیا سے جڑے افراد اور سول سوسائٹی کو موثر طور پر استعما ل کرنا ہوگا۔چہارم ہمیں سیاسی اور سفارتی سطح پر کشمیریوں میں اس احساس کو برقرار رکھنا ہے کہ ہم بدستور کشمیروں کی حمایت میں کھڑے ہیں او ران کو قائل کرنا ہوگا کہ وہ اپنی جنگ او رمزاحمت کو سیاسی او رپرامن جدوجہد تک ہی محدود رکھیں کیونکہ یہ ہی وہ نکتہ ہے جو ان کے لیے عالمی حمایت پیدا کرسکتا ہے۔پنجم ہمیں میڈیا اور سوشل میڈیا کے فرنٹ پر میڈیا ڈپلومیسی کو مضبوطبنانا ہوگا او رجو متبادل آوزیں بھارت سے آرہی ہیں ان کو بنیاد بنا کر عالمی میڈیا میں اپنا سفارتی مقدمہ لڑنا ہوگا۔ششم ہمیں اپنے داخلی مسائل کی سنگینی کو کم کرکے اس میں استحکام پیدا کرنا او رایک ایسا اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا جو ہمیں متحد کرسکے۔
ہمیں بھارت کے سامنے اس مقدمہ کا بنیادی نکتہ رکھنا ہوگا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر ایک اہم مسئلہ ہے۔اس کو نظرانداز کرکے یا حل کیے بغیر دونوں ملکوں کے تعلقات بھی بہتر نہیں ہوسکیں گے۔ بھارت او رپاکستان کے درمیان ایک فریق کشمیر بھی ہے۔ جو بھی فیصلہ ہو وہ کشمیریوں کی مشاورت اور قبولیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، کیونکہ یہ جدوجہد ان کی ہے اور فیصلہ بھی وہی ہونا چاہیے جو وہ چاہتے ہیں اور دونوں ملکوں کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا ہوگا جو کسی پر مسلط کیے جائیں۔ اچھی بات ہے کہ پاکستان پہلے ہی اپنا موقف پیش کرچکا ہے کہ اصل فیصلہ کشمیریوں کا ہوگا اور وہی بنیادی فریق ہیں۔
ہماری خارجہ پالیسی میں کشمیر بنیادی مسئلہ ہے او راس کو جب تک ہم سیاسی، سماجی اور قانونی بنیادوں پر مستحکم نہیں کریں گے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہمیں ا س نکتہ پر بھی زور دینا ہے کہ اگر بھارت فوری طو رپر پاکستان کی جانب سے مثبت اقدام کی طرف بڑھنا چاہتا ہے توو ہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بند کرے او روہاں جو پابندیاں ہیں اسے فوری طو رپر ختم کرے۔بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ محض قانون سازی کرنے سے جاری سیاسی تحریکیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ اس میں اور زیادہ شدت یا ردعمل پیدا ہوتا ہے جو تحریک کو کمزور کرنے کی بجائے مزید مستحکم کرتا ہے۔