ایک اور زمانے کا سفرِ حج

  • تحریر
  • جمعہ 16 / اگست / 2019
  • 14260

اس  سال کا حج بیت اللہ چند روز قبل بخیر انجام پایا۔  حجاج کی واپسی  کا عمل شروع ہونے کو ہے۔  اس سال  پچیس لاکھ سے زائد زائرین  کو حج کی سعادت نصیب ہوئی۔  سفر ِحج پر روانہ ہونے والے پاکستانی زائرین حج کو اخراجات میں بے تحاشا اضافے کا گلہ رہا۔  انتظامات کے بارے میں بالعموم شکوے شکایتیں کم ہی سنیں،  البتہ موبائل کیمرے کی بدولت کچھ ویڈیو ضرور وائرل رہیں جن میں حجاج کی رہائش کے حوالے سے شکایتیں تھیں، واللہ اعلم بالصواب۔

آج کل کے زمانے میں ہر سال حجاج کی تعداد میں  اضافہ ہو جاتا ہے تو دوسری  طرف سعودی حکومت اپنے تئیں انتظامات کی بہتری کے لئے بھی کوشاں رہتی ہے۔ سفرِ حج میں بہرحال ایک مشقت  کا عنصر تو ہے اور زائرین ذہنی طور پر ایسے حالات کے لئے تیار بھی ہوتے ہیں۔ سال بہ سال بہتر سہولتوں کی موجودگی کا سنتے  سنتے  اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین  خاصا خرچ کرنے کے بعد آرام دہ  اور سہولیات سے مزین سفر کی  توقع رکھتے ہیں۔

ہوائی جہازوں  سے براہ ِراست آمد ورفت، آرام دہ ہوٹلز، ٹرانسپورٹ، کھانے پینے کی با افراط دستیابی اور سب سے بڑھ کر امن و امان  اور صحت  و سلامتی کے ساتھ  سفرِ حج  کو ایک لگا بندھا طریق  اور   ایک  قدرتی عمل جانتے ہیں لیکن یہ سفر ہمیشہ سے اس قدر سہل اور آسان نہ تھا۔  یوں چند دنوں یا ہفتوں پر  مشتمل   بھی نہ تھا، اس کا اندازہ ہمیں  گاہے گاہے ہاتھ لگے سفرناموں اور تاریخ کی کتابوں سے ہوتا ہے ۔

دور  کیا جانا،  ہندوستان میں خلافت کی بحالی کی تحریک  کے ایک وفد میں شامل معروف  اسکالر، ادیب اور کہنہ مشق مدیر مولانا غلام رسول مہر ترکی سے واپسی پر حج کے لئے  سر زمینِ حجاز پر رکے۔ اس سفر کی روداد ایک سفر نامے کی صورت میں چھپی، پڑھنے لائق ہے۔  جدہ سے مکہ تک  کا سفر کچے راستوں اور گرد آلود ہواؤں سے اٹا ہوا تھا۔ سفری سہولت کی سب سے آسان اور با افراط سہولت خچر اور باربرداری  کے لئے گدھے تھے۔  منیٰ سے عرفات اور پھر عرفات کے میدان سے مزدلفہ جانے کے لئے بھی یہی سواری کام آتی۔

پچاس اور ساٹھ کی دِہائی میں جدہ سے مکہ اور مدینہ ذرائع آمدو رفت کیا تھے، اس کا تفصیلی احوال سید ابولاعلیٰ مودودی کے سفرنامہ ارضِ قرآن میں درج ہے۔   اس کے مقابلے میں آج کل حج کی سہولتیں دیکھیں تو ماضی کے سفر کسی اور زمانے کے سفر لگتے ہیں۔  کچھ عرصہ قبل ہمیں بارہویں صدی کا ایک سفر نامہ حج پڑھنے کو ملا۔  اس وقت کے مسلمان اندلس  (آج کا سپین) سے ابنِ جبیر اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ سفر حج کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔  تفصیلات  اور واقعات نگاری   کا اتنا شاندار شاہکار کہ پڑھنے والے کو  اس صدی میں کھینچ لے جائے۔ اس سال کے سفرِ حج  کی مناظر ابھی سب کے ذہنوں میں تازہ ہیں، دلچسپ تقابل کے لئے سفرنامہ ابنِ جبیر کی چند جھلکیاں پیش ہیں۔  معروف ادیب محمد خالد اختر نے اس  سفرنامے کی تلخیص اور ترجمہ کیا ( سنگِ میل  پبلیکیشنز  نے چھاپا)  جس کی بنیاد انہوں نے  ایک انگریز مترجم  جے سی براڈ ہرسٹ کی کتاب Travels of Ibne Jubyr   پر رکھی۔

ابنِ جبیر کا یہ  سفر نامہ1183 فروری اور اپریل  1185  کے درمیان سفرِ حج پر مبنی ہے۔  اس کا بیشتر حصہ اس کے سمندر اور خشکی  کے پر از صعوبت  سفر  کا احوال ہے۔   یہ اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی اہم   اور پر آشوب دور تھا۔ ابنِ جبیر غرناطہ کا متوطن ایک موری عرب تھا۔  فروری 1183 میں اپنے ایک دوست طبیب ابو جعفر کی رفاقت میں  اپنے مبارک اور کٹھن  سفر پر روانہ ہوا۔۔۔ ایک پہر دن چڑھے وہ خچروں پر اپنے شہر کے دروازے سے نکلے۔ راہ میں کئی حصاربند موری شہروں میں پڑاؤ کرتے وہ ساحلی  شہر سبتہ پہنچے اور اسی دن جینوائی رومیوں کے ایک جہاز میں سوار ہوگئے جو اسکندریہ کی بندرگاہ کو روانہ ہونے والا تھا۔ایک طویل اور مصائب سے بھرپور سفر کے بعد وہ مکہ پہنچے۔ چند ماہ یہاں قیام کیا۔ رمضان کے روزے رکھے اور حج کے انتظار  رہے۔

اب حج نزدیک آیا تو ہر روز عازمین  حج کے قافلے مکے میں آنے لگے۔ یمنی  اور دنیا کے ہر ملک کے لوگ مکہ کی گلیوں میں چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ با برکت مہینے کے آغاز سے ہی  امیر  کے ڈھول صبح و شام اور ہر نماز کے اوقات میں پیٹے جاتے تھے،  تاکہ ہر ایک کے ذہن میں رہے کہ یہ حج کا متبرک مہینہ ہے۔ عرفات پر چڑھائی کے دن تک یہی دستور رہا۔ مہینے کی آٹھویں تاریخ کو لوگوں نے جوق د ر جوق مِنیٰ کی پہاڑی پر چڑھائی کی۔ اور وہاں سے عرفات کو بڑھ چلے۔ قاعدے کے مطابق تو انہیں رات وہاں بسر کرنی چاہئے تھی لیکن بدو قبیلے بنو شیبہ کے خوف سے جو عرفات کی راہ   پر   زائروں پر حملے کرتے تھے انہوں نے شب بسری کا خیال چھوڑ دیا۔

عرفات ایک  وسیع میدان ہے، اس کے گرد بہت سے کوہسار گھیرا کئے ہوئے ہیں اور اس کے آخری سرے پرجبلِ رحمت  ہے جس  کے اوپر اور ارد گرد  زائر بارگاہ عالی میں کھڑے ہوتے ہیں۔  لوگوں کی حاضری عرفات پر جمعرات کے دن اور جمعہ کی رات تک رہی۔ ایسی آہ و زاری، ایسی قلبی توبہ اور ایسے عجز و انکسار کا دن پہلے نہیں آیا۔ اس طور سے زائرین کھڑے رہے۔ سورج ان کے بدنوں کو جھلستا رہا حتٰی کہ اس کی قرص غروب ہو گئی اور نمازِ عشاء کا وقت آن پہنچا۔جب عشاء کا وقت ہو چکا تو امام نے ہاتھ اٹھا کر چلنے کی اجازت دی اور اپنی جگہ سے اترا۔ لوگ اپنی واپسی پر ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ایک متلاطم سمندر کی مانند تھے۔ اور ان کے  پاؤ ں تلے زمین کانپ اٹھی اور کہسار متزلزل ہو گئے۔ کیسی حاضری یہ ہوئی تھی!

میدان عرفات میں امیرِ عراق اور ان کے منصب داروں کی شاہانہ آراستگی دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ بڑے خوبصو رت خیمے، قناتیں، قصر نما  تنبو اور شامیانے تاحدِ نظر پھیلے ہوئے تھے۔ جب کوئی امیر سفر میں ہوتا تو وہ اونٹ کی پیٹھ پر  چوبی مرصع پالکیوں میں بیٹھتا  جن میں نرم  نرم گدیلے اور تکیے رکھے ہوتے۔۔ جب وہ اترنے کے مقام پر  پہنچتے تو خدام اس کے پہنچنے سے پہلے خیمے گاڑ کر سب  انتظام مکمل کر چکے ہوتے۔ ان کے اترنے کے لئے سیڑھی لائی  جاتی اور وہ اتر کر  اور  چھتر کے سائے سے نکل کر اپنی جائے قیام کے سائے میں  پہنچ جاتے۔۔ اور وہ  جس کے ذرائع سفر ان  آسائشوں کے لئے ناکافی ہوں، اسے راستے کی تکالیف و مصائب برداشت کئے بغیر چارہ نہیں جو خدا کے عذابوں کا  ایک حصہ ہے۔

عرفات کے قیام سے فارغ ہو کر دوسری صبح سب زائرین مِنیٰ پر شیاطین پر سات پتھر پھینکنے کے لئے گئے، پھر انہوں نے قربانی دی، مکہ میں لوٹ کر طوافِ افاضہ کے بعد ان کا حج مکمل ہو گیا۔ تیسرے دن حاجی جانبِ مکہ اترنے لگے۔  لوگ  مِنیٰ سے بدوی قبیلہ بنو شیبہ اور مکی لٹیروں کے خوف  کی وجہ سے جلدی لوٹنے کی کوشش کرتے تھے۔

حجِ بیت اللہ کے بعد ابنِ جبیر نے مدینہ منورہ کا سفر اختیار کیا، واپسی  بغداد، دمشق، شام، سسلی، المدینہ اطرانبش سے ہوتے ہوئے وہ  غرناطہ پہنچے۔  یہ سفر  فروری  1183  سے شروع اور  25 اپریل 1185 کو اختتام ہوا۔ مصائب، شدائد اور مشکلات سے بھرپور اس سفر کے مقابلے میں آج کا سفرِ حج کسی اور زمانے کا  سفرِ حج معلوم پڑتا ہے۔