17 اگست: ضیا الحق اور پرویز مشرف کے اقتدار کا آخری دن

17 اگست ہمیں صرف جنرل ضیا الحق کی موت کے حوالے سے ہی یاد رہتا ہے کہ اس روز فوجی آمر کا طیارہ بہاولپور کے قریب تباہ ہو گیا تھا اور اس حادثے کے نتیجے میں اُس 11سالہ عہدِ ستم کا خاتمہ ہوا تھا جسے پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دور کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔

بہت کم لوگوں کو یاد ہے کہ 17 اگست صرف جنرل ضیا کی آمریت کے خاتمے کا دن نہیں ہے، یہ ایک اور فوجی آمر کے اقتدار کا بھی آخری روز ہے اور اس آمر کا نام جنرل پرویز مشرف ہے۔ 12 اکتوبر 1999 کو اقتدار پر قابض ہونے والے پرویز مشرف نے 18 اگست 2008 کو صدارت سے استعفیٰ دیا تھا۔ ہم آج ان دونوں آمروں کے اقتدار کے آخری دنوں کا احوال آپ کو سنا رہے ہیں۔ 

14اگست 1988 کی صبح میں والٹن، لاہور کے ایک چھوٹے سے مکان میں اپنے دوست، کہانی نویس اورامروز کے کالم نگار طفیل ابن گل کے ساتھ بیٹھاتھا۔ یہ وہ دورتھا جب میں لاہور میں تین سال گزارنے کے بعد ملتان واپس آچکا تھا لیکن لاہورمجھے ہردوسرے، تیسرے ہفتے اپنی جانب کھینچ لیتاتھا۔ کبھی بسنت، کبھی فیض امن میلہ اورکبھی جشن آزادی کی تعطیل، مجھے جب بھی موقع ملتا میں ایک، دوروزکے لیے لاہور چلاجاتاتھا۔ جنرل ضیاالحق کے جبر کے اس دورمیں جشن آزادی کو ایک نیارنگ دیاگیاتھا۔ ایک ایسے دورمیں جب ہم لہک لہک کرنعرے لگاتے تھے ’پاکستان کا مطلب کیا، پھانسی، کوڑے، مارشل لا‘

 اسی دورمیں جنرل ضیا نے ہم غلاموں کو آزادی کااحساس دلانے کے لیے اعلان کیا تھاکہ 14اگست غیرمعمولی جوش وجذبے کے ساتھ منایاجائے گا۔ صبح سائرن بجے گا اورایک منٹ کےلیے ٹریفک رُک جائے گی اور پھر پوری قوم یک زبان ہوکر قومی ترانہ گائے گی۔ یہ بڑی خوبصورت بات تھیں مگراس اعلان پرعملدرآمد کی نوبت صرف سرکاری سطح پرہوئی۔ ہم نے ہرسال سائرن بجتے تودیکھے ۔ سکولوں، کالجوں اوردیگرسرکاری مقامات پرلوگوں کوترانے پڑھتے بھی دیکھا مگرٹریفک تواب بھی اسی طرح رواں دواں رہتی ہے۔

اسی زمانے سے جسے مشتاق احمد یوسفی نے عہد ضیاع کا نام دیا تھا پوری قوم سیاسی، سماجی اورمعاشرتی آزادیاں نہ ہونے کے باوجود جشن آزادی بھرپورطریقے سے منارہی ہے۔ اب موٹرسائیکلوں کے سائلنسرنکال کر باجے بجاتے ہوئے بے ہنگم اندازمیں سڑکوں پرآجاناہی ہمارے نزدیک جشن آزادی ہے۔

بات کسی اورجانب نکل گئی۔ میں آپ کو 14اگست 1988کی صبح کااحوال سنا رہا تھا جب میں والٹن لاہور میں طفیل ابن گل کے ساتھ بیٹھ اتھا، مجھے یاد ہے کہ اس رات ہم دونوں بہت دیرتک لاہورکی ایک ویران سڑک پربیٹھے رہے تھے ۔ ہم نے دنیا جہان کی باتیں کی تھیں اور بے تحاشاسگریٹ پھونکے۔ اس آوارگی کے بعد ہم صبح‌چار، پانچ بجے کے قریب گھرآکر سوگئے۔ تاخیر سے سونے کے باوجود ہم نے صبح سویرے اٹھ کرٹی وی آن کرلیا تھا۔آخرکوئی وجہ توتھی جس نے ہمیں نیندکے غلبے کے باوجودبیدارہوجانے پرمجبورکردیاتھا۔ ہم اس روز صرف جنرل ضیاالحق کی باڈی لینگوئج دیکھنے کےلیے ٹی وی کے سامنے بیٹھے تھے (باڈی لینگوئج کالفظ بھی اس زمانے میں ابھی مستعمل نہیں ہواتھا)۔

جنرل ضیا ان دنوں جونیجوکی حکومت برطرف کرکے نئے الیکشن کرانے والے تھے۔ کوئی ڈیڑھ ماہ قبل جون کی25 تاریخ کو انہوں نے ٹی وی پرقوم سے خطاب کیاتھا اورخطاب کے دوران وہ زاروقطارروتے رہے تھے ۔ ان کاایک جملہ اس خطاب کے دوران بہت مشہورہواتھا ’میں‌کرسی صدارت پر بیٹھا دوہری آنچ میں سلگ رہا ہوں۔ ایک آگ مجھے اندر سے جلارہی ہے اورایک باہر سے جلارہی ہے‘۔

جنرل ضیا جونیجو حکومت کو ختم کرنے کے بعد الیکشن کااعلان توکرچکے تھے مگر شریف الدین پیرزادہ کے ساتھ ان کی مسلسل ملاقاتیں بھی جاری تھیں۔ سب جانتے تھے اوجڑی کیمپ حادثے اور جنیوا معاہدے کے بعد امریکہ کا ان پر اعتماد ختم ہو گیا ہے۔ اس تمام صورتحال میں اس روز پرچم کشائی کی تقریب بہت اہمیت اختیارکرگئی تھی۔ 14 اگست 1988 کو ہم نے محسوس کیا کہ جنرل ضیاالحق کچھ بجھے بجھے سے نظر آ رہے ہیں۔

پرچم کشائی کی تقریب میں وہ عموماً ہنستے مسکراتے نظرآیا کرتے تھے مگراس روز ایسانہیں تھا۔ ملی نغمے گانے والے سکول کے بچوں کے پاس وہ گئے توسہی مگرانہوں نے بچوں کے ساتھ اس طرح گھل مل کربات نہیں کی جیسے وہ ہرسال کرتے تھے۔ جنرل ضیاالحق نے جب اس روز پرچم لہرایاتوٹی وی پر ان کےقصیدہ خواں اظہرلودھی (جوتین روز بعد ان کے نوحہ خواں بھی بننے والے تھے ) ان کی مدح سرائی میں مصروف تھے۔ اسی لمحے میں نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے طفیل ابن گل سے سوال کیاتھا ’طفیل بھائی یہ جنرل ضیا کی آخری پرچم کشائی تونہیں‘۔

تین روز بعد 17اگست 1988 کو جنرل ضیا اپنے رفقاکارکے ساتھ بستی لال کمال کے قریب طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے اور پھر سرکاری طورپرانہیں شہید بھی قراردیاگیا۔ پھر میں نے ان کی یاد میں ایک کالم ’شہیدکی جوموت ہے وہ قوم کی حیات ہے‘ کے عنوان سے تحریرکیا تھا اوران کے ساتھ موت کی وادی میں جانے والے قلم کار بریگیڈیئر صدیق سالک کی کتاب ’ہمہ یاراں دوزخ ‘ کے نام کی نئی معنویت تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔

دو روز بعد ایک قومی پرچم اس تابوت پرڈالاگیا جس کے بارے میں گمان کیاجارہاتھا کہ اس میں جنرل ضیاکی لاش کی باقیات ہیں۔ عین اسی روزجب ان کی تدفین ہورہی تھی مجھےلاہور سے طفیل ابن گل کاخط موصول ہواجس میں اس نے اس ’سانحے‘ پرمبارکباد دیتے ہوئے یہ بھی لکھاتھا ’صد شکر ہمارا 14اگست والارت جگا اکارت نہیں گیا‘۔

 اس واقعے کے 20برس بعد 13اگست 2008کی رات میں اپنے کمرے میں تنہا بیٹھاتھا۔ میرے ہاتھ میں ریمورٹ تھاکہ اب ٹی وی چینل ایک نہیں بے شمارہوچکے تھے۔ پہلے توٹی وی آن کرنے پرصرف ایک ہی چینل پی ٹی وی دکھائی دیتاتھا اورہمیں وہ مجبوراً دیکھنا بھی پڑتاتھا لیکن اب مجھے اپنے ٹیلی ویژن پرپی ٹی وی کو تلاش کرنا تھاکہ اس رات ایوان صدر سے ایک تقریب اسی چینل پربراہ راست ٹیلی کاسٹ ہونا تھی۔

ایوان صدر میں پرچم کشائی تونہیں ہورہی تھی لیکن اس رات ملی نغموں پرمشتمل ایک محفل موسیقی منعقد ہونے والی تھی۔ 20 برس بعد بھی ہم اسی ماحول میں اورانہی حالات میں زندہ تھے، وہی شریف الدین پیرزادہ جو20 برس قبل جنرل ضیاالحق کومشورے دیا کرتے تھے وہ اب جنرل پرویز مشرف کو مشورے دیتے تھے ۔ وہی پابندیاں، وہی گرفتاریاں، وہی دھماکے اوروہی ڈکٹیٹر۔۔ بس ڈکٹیٹرکاچہرہ تبدیل ہوگیا تھا۔

 بیس برس پہلے مجھے جنرل ضیاالحق کی باڈی لینگوئج سے دلچسپی تھی اور 20 برس بعد میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ مواخذے سے سہمے ہوئے جنرل پرویز مشرف کی آج حالت کیاہے۔ جنرل پرویز مشرف تین ، چاربرس سے ایوان صدر میں ایک محفل سجارہے تھے اورہرسال وہ فنکاروں کے ساتھ مل کر قومی پرچم لہراتے ہوئے ملی نغمہ بھی گایا کرتے تھے۔ مجھے صرف یہ دیکھنا تھاکہ کیا اس مرتبہ بھی وہ آزادی کی رات کو اسی جوش وخروش کے ساتھ ملی نغمہ گائیں گے۔ پچھلے تین برس کے دوران بلکہ اس سے پہلے بھی ہم نے انہیں سرمحفل سگارپیتے نہیں دیکھاتھا۔ لیکن اس مرتبہ وہ سگاربھی پی رہے تھے اورپان بھی کھارہے تھے، سگار شاید پیرپگاڑا اورپان الطاف حسین کے ساتھ یکجہتی کی علامت تھا۔

جنرل پرویز مشرف تقریب کے دوران بالکل نہیں مسکرائے، نہ انہوں نے ماضی کی طرح لہک لہک کرگیت گائے ۔ ان کے ساتھ پہلی صف میں وزیراعظم اورآرمی چیف کوہوناچاہیے تھا مگروہ دونوں موجود نہیں تھے۔ ان کے قافلے کے چند بچے کچے ارکان اس محفل میں دکھائی دے رہے تھے ۔ ق لیگ (جسے اب لوگوں نے قطع تعلق لیگ بھی کہناشروع کردیاتھا) کے اکابرین میں چوہدری شجاعت حسین اور دیگر کے ساتھ ہی کچھ فاصلے پر ہمیں پی ٹی وی کے چیئرمین ڈاکٹرشاہدمسعود بھی دکھائی دیےاوروہ اس محفل میں ایسے موجودتھے جیسے اپنوں میں بیٹھے ہوں۔

 ٹی وی کی نصف سکرین پرکاکول اکیڈمی میں جشن آزادی کی تقریب دکھائی جارہی تھی جہاں نصف شب کے وقت قومی پرچم لہرایاجانا تھا۔ عین اسی لمحے جب پوری قوم ’ اے مرد مجاہدجاگ ذرا، اب وقت شہادت ہے آیا‘ کی دھن میں سرشار تھی۔ قوت ایمانی اور جذبہ شہادت سے سرشار ایک خودکش حملہ آورنے لاہور میں جشن آزادی کی تقریبات کو لہورنگ کردیا تھا۔

ٹی وی سکرینوں پر عجب منظر تھا۔ ایک جانب کاکول اکیڈمی میں پریڈ، دوسری جانب ایوان صدر میں محفل رقص اوراس کے ساتھ زخمیوں کی چیخ وپکار۔ وطن کی مٹی گواہ رہناکی صدا اگرایوان صدر سے ابھرتی تھی تودبئی چوک ، لاہور میں ایمبولینسوں کے سائرن کی آواز بھی گواہی دیتی تھی کہ خون خاک نشیناں ‌رزق خاک ہو گیا ہے۔ اسی چیخ وپکارکے دوران رات کے 12 بج گئے، ٹی وی پرکچھ دیر خودکش دھماکے کے منظردکھائے گئے، پھریہ احساس ہواکہ ان سے توکوئی اچھا تاثرقائم نہیں ہورہا۔ پھر دھماکہ پس منظرمیں چلاگیا۔ دھماکے میں10 افرادہلاک اور18 کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے اورمیں سوچ رہاتھا کیا دبئی چوک لاہو رمیں شب آزادی پردہشت گردی کاشکارہونے والوں کو شہدائے آزادی قراردیاجاسکتا ہے ؟

میں‌سوچ رہا تھا آنے والے برسوں میں ان خاک نشینوں کے گھروں میں جشن آزادی عجب اندازمیں آیاکرے گا۔۔ اشک بار جشن آزادی کہ ان کے پیارے تو اب ہر سال پاکستان کے جشن آزادی کے موقع پران کی برسی منایا کریں گے۔ رات کے ایک بج گئے، میرادم گھٹنے لگا، میں گھر سے باہر نکل آیااور ایک گلی میں تنہا بیٹھ گیا۔ آج توطفیل ابن گل بھی میرے ساتھ نہیں تھا۔ میں کس سے سوال کرتاکہ یہ پرویز مشرف کی آخری محفل موسیقی تونہیں ؟ 

 رات بھر میں کروٹیں بدلتا رہا۔ طفیل سے سوال تو میں نہیں کرسکا تھا لیکن چار روز بعد پرویز مشرف کے استعفے سے مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔ طفیل ابن گل زندہ ہوتا تو مجھے ضرور خط لکھ کر مبارک باد دیتا اور یہ بھی لکھتا کہ’صد شکر تمہارا 14 اگست والا رت جگا اکارت نہیں گیا‘۔

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)