شمالی وزیرستان: ضلع میں دفعہ 144 نافذ، غیر مقامی افراد کا داخلہ بند
- اتوار 18 / اگست / 2019
- 6280
خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ نے ضلع میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اور غیر مقامی افراد کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان عبدالناصر خان کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق ضلع کی حدود میں غیر مقامی افراد کے داخلے کی وجہ سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے چنانچہ ضلع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق غیر مقامی سرکاری ملازمین پر نہیں ہوگا اور ان مزدوروں پر نہیں ہوگا جو شمالی وزیرستان میں ٹھیکیداروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں دو ماہ پہلے بھی دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی جب علاقے میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہو رہے تھے تاہم وہ پابندی ایک ماہ میں ختم کر دی گئی تھی۔ اس سے قبل رواں برس جنوری میں بھی انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز نے تمام مقامی اور غیر مقامی افراد کو شمالی وزیرستان میں داخلے کی اجازت دے دی تھی اور صرف قومی شناختی کارڈ پر مقامی اور غیر مقامی افراد یہاں داخل ہو سکتے تھے۔ اس اجازت نامے کے بعد صحافی اور ملک کے دیگر علاقوں سے لوگ شمالی وزیرستان گئے تھے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حالیہ پابندی کی کوئی اور وجہ بیان نہیں کی گئی تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے قائدین شمالی وزیرستان کا دورہ کرنے والے تھے۔ پی ٹی ایم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر دو روز قبل سوشل میڈیا پر بیان سامنے آیا تھا کہ پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین اپنے رہائشی علاقے جنوبی وزیرستان سے شمالی وزیرستان جا سکتے ہیں تو ممکن ہے کہ یہ پابندی اس لئے لگائی گئی ہو۔
یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب رواں برس مئی میں پی ٹی ایم کے مظاہرے کے دوران خڑ کمر کی چوکی کے قریب فائرنگ میں 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد جنوبی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ جبکہ شمالی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے چند روز بعد گرفتاری دے دی تھی۔ دونوں رہنما ان دنوں سنٹرل جیل ہری پور میں قید ہیں۔