سرینگر میں جھڑپوں کے بعد پابندیاں دوبارہ نافذ
- اتوار 18 / اگست / 2019
- 4270
مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں حکام نے احتجاج اور جھڑپوں کے بعد ایک مرتبہ پھر پابندیاں نافذ کردی ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق بھارتی حکام نے ہفتے کو نقل و حرکت اور مواصلاتی رابطوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کی تھی جس کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور سکیورٹی فورسز سے ان کی مختلف علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں۔ سرینگر سمیت دیگر علاقوں میں پرتشدد مظاہروں اور جھڑپوں کے بعد بھارتی حکام نے شورش زدہ علاقوں میں اٹھائی گئی پابندیاں دوبارہ عائد کردی ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم دو درجن افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اسپتال لائے گئے زخمیوں میں پیلٹ گن سے متاثرہ افراد بھی شامل ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق سرینگر کے دو درجن سے زائد مقامات پر سکیورٹی فورسز پر سنگ باری کے واقعات پیش آئے۔ گزشتہچند روز کے دوران ان واقعات میں تیزی آئی ہے۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے پیر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر رکھا ہے جب کہ وادی میں جزوی طور پر ٹیلی فون اور انٹر نیٹ سروس بھی بحال کی گئی تھی۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ جس طرح نازیوں نے جرمنی پر قبضہ کیا اسی طرح بھارت پر فاشسٹ، ہندو نسل پرستی کا نظریہ رکھنے قیادت کا قبضہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 90 لاکھ کشمیریوں کو دو ہفتوں سے یرغمال بنایا جاچکا ہے۔ عالمی دنیا کو اس صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے اور وہاں اقوام متحدہ کے مبصرین کو بھیجنا چاہیے۔