کابل: شادی کی تقریب میں خودکش حملہ، 63 افراد جاں بحق
- اتوار 18 / اگست / 2019
- 4860
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملے کے نتیجے میں 63 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ہفتے کی شب کابل میں ہزارہ کمیونٹی کی شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملہ اُس وقت ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد شادی ہال میں موجود تھی۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق خودکش حملے میں 63 افراد جاں بحق اور 182 زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور جب شادی ہال میں مردوں کے حصے میں پہنچا تو اسے آگے جانے سے روکا گیا جس پر اُس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے کے بعد شادی ہال میں افراتفری مچ گئی اور لوگ ادھر ادھر بھاگنا شروع ہوگئے۔ شادی ہال میں موجود ویٹر سید آغا شاہ کے مطابق دھماکے کے بعد ہال میں خوف و ہراس پھیل گیا جب کہ ہلاک ہونے والوں میں ویٹروں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان نے خودکش حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے جب کہ افغان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق طالبان سے ہونے والے معاہدے کی امید کے باوجود تشدد میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
افغان صدر اشرف غنی نے شادی کی تقریب میں خودکش حملے کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ اُن کی تمام ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ اشرف غنی نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ طالبان خود کو الزام تراشی سے بری نہیں کرسکتے۔ انہوں نے دہشت گردوں کو پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ افغان صدر نے آج یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی تقریبات منسوخ کردی ہیں۔
یاد رہے کہ جمعے کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے کچلاک کی ایک مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے بھائی سمیت 4 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے تھے اور اس حملے کی بھی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔
اس حملے کے بعد افغان طالبان کا کہنا تھا کہ بم حملے میں تنظیم کے امیر کے بھائی کے ہلاک ہونے کے باوجود امریکہ سے ہونے والے امن مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے آٹھویں دور کا اختتام 12 اگست کو ہوا جس میں فریقین نے مزید مشاورت پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔