سلامتی کونسل اجلاس کے عوامل اور کواکب
- تحریر اطہر مسعود وانی
- اتوار 18 / اگست / 2019
- 5570
کشمیر کی موجودہ سنگین ترصورتحال کا سلامتی کونسل میں زیر غور آنا اہم معاملہ ہے۔ابھی سلامتی کونسل کی طرف سے اس اجلاس سے متعلق بیان آنا باقی ہے کہ اس اجلاس میں کیا طے پایا ہے یا سلامتی کونسل اس حوالے سے اپنا کیا فیصلہ سامنے لاتی ہے۔
بھارت اپنی سفارتی کامیابی کا دعویدار ہے اور اگر سلامتی کونسل کی طرف سے مزید کسی کاروائی کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس سے ظاہر ہو گا کہ عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق اپنی کوئی سوچ رکھتی ہیں۔ یا اس مسئلے کو مختلف امور کے حوالے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔انڈیا کی ڈپلومیسی حاوی رہتی ہے یا کشمیریوں اور پاکستان کے لئے کسی نئی امید کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس کا فیصلہ سلامتی کونسل کی طرف سے جاری بیان سے ہی ہو گا۔
سلامتی کونسل کے اس اجلاس سے پیدا ہونے والا عالمی تاثر یہی ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال خراب ہے اور کشمیر سے متعلق انڈیا کے حالیہ اقدام سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں چین کے نمائندے نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایک اہم بات یہ بھی بتائی کہ اجلاس میں سلامتی کونسل کا اس پراتفاق رائے تھا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال خراب ہے۔ چین کے نمائندے نے بتایا کہ اس وقت تشویش کا معاملہ جموں و کشمیر کی حالیہ صورتحال ہے جس کا سب گہرے طور پر جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے غیر رسمی اجلاس میں مشاورت کی گئی،مختلف رپورٹس پیش کی گئیں،جس میں ملٹری آبزرور گروپ کی بریفنگ بھی شامل ہے۔ اس سے ہمیں صورتحال کو ہر طور پر سمجھنے کا موقع ملا۔
چین کے نمائندے نے کہا کہ سلامتی کونسل کے ارکان نے جموں و کشمیر کی حالیہ صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی، سلامتی کونسل کے ممبران نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی گہری تشویش ظاہر کی اور ممبران کا عمومی طور پر یہی موقف تھا کہ فریقین تحمل سے کام لیں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے صورتحال مزید خراب ہو جائے اور کشیدگی بڑھ جائے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے چند دن پہلے ہی اسی مسئلے پر ایک بیان بھی جاری کیا تھا۔
چین کا یہ موقف ہے کہ جموں و کشمیر کا معاملہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تاریخی مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق کشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔کشمیر کا مسئلہ لازمی طورپر پر امن طریقے سے حل ہونا چاہئے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قرار دادوں اورباہمی معاہدوں کے تحت یہ معاملہ حل ہونا چاہئے۔ اس بارے میں عالمی برادری اتفاق رائے رکھتی ہے۔
انڈیا نے آئینی ترامیم کے ذریعے جموں و کشمیر کے ’سٹیس کو‘ کو تبدیل کیا ہے،جس سے خطے میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے،ہم دیکھ سکتے ہیں کہ صورتحال کتنی سنگین اور خطرناک ہے۔ چین فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقداما ت سے گریز کریں جس سے صورتحال مزید خراب ہو جائے۔
انڈیا کے اقدام سے چین کی خود مختاری کو بھی چیلنج کیا گیا ہے اور باہمی معاہدوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اس بارے میں بھی چین گہری تشویش رکھتا ہے۔ چین اس با ت پر زور دیتا ہے کہ فریقین جنوبی ایشیا کے امن کے لئے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچائیں، جموں وکشمیر کے تاریخی مسئلے کو پرامن طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ سلامتی کونسل کی طرف سے اس اجلاس کے بارے میں آئندہ چند روز میں بیان جاری کیا جائے گا۔
عالمی طاقتوں کے کسی بھی فیصلے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان اور چین کشمیر پر انڈیا کے جارحانہ اقدام اور انڈیا کی طرف سے کسی جنگی مہم جوئی کے حوالے سے عالمی سطح پر کیا موقف اپناتے ہیں اور زمینی طور پر کیا اقداما ت اٹھاتے ہیں۔چین اور پاکستان کی طرف سے کشمیر کے معاملے اور مسئلے کو انتہائی اہم قرار دینے سے ہی عالمی طاقتوں کی طرف سے کشمیر کی صورتحال اور خطرا ت کا تدارک کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق امید وابستہ کی جا سکتی ہے۔ انڈیا کی کشمیر میں بڑی جارحیت پاکستان ہی نہیں بلکہ چین کے لئے بھی ایک چیلنج ہے۔