ممتا بینرجی کا کشمیریوں کے حقوق پر اظہارِ تشویش

  • سوموار 19 / اگست / 2019
  • 4720

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ اور آل انڈیا ترینیمول کانگریس کی سربراہ ممتا بینرجی نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میں جاری انسانیت سوز مظالم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں ممتا بینرجی نے کہا کہ ’آج انسانی حقوق کا عالمی دن ہے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں‘۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ نے کشمیر میں انسانی حقوق اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دعا کی۔

انہوں نے بتایا کہ  1995 میں انہوں نے قید خانے میں ہلاکتوں کے خلاف 21 روز سڑک پر احتجاج میں گزارے تھے۔  خیال رہے کہ بھارت پر حکمرانی کرنے والی ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے 5 اگست کو آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا تھا۔

مذکورہ آرٹیکل کی منسوخی سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی تھی جس کے ساتھ اس خطے کی حیثیت بھی دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح ہوگئی۔ آئین میں مذکورہ تبدیلی سے قبل دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی اہلکاروں کی نفری کو بڑھاتے ہوئے 9 لاکھ تک پہنچا دیا تھا۔

مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور کسی بھی طرح کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی جو عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی برقرار رہی۔ تاہم اس میں چند مقامات پر جزوی نرمی  دیکھنے میں آئی ہے۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وادی میں ہونے والے انسانی حقوق کے استحصال پر امریکی میڈیا میں بھی تشویش سامنے آئی ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ ’کیا کشمیر جیسے اس اہم ترین مسئلے پر سلامتی کونسل مزید 50 سال گزرنے کے بعد اپنا کردار ادا کرے گا؟‘

بھارتی کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سفارتی سطح پر پاکستان بھی بہت زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ دیگر ممالک سے روابط میں ہیں۔ اسلام آباد کے مطالبے پر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس بھی منعقد ہوا۔