مقبوضہ کشمیر: انسانی حقوق کا مقدمہ
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 19 / اگست / 2019
- 5520
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا مقدمہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھارتی ریاست اور بالخصوص مودی حکومت کے تناظر میں اس وقت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر دنیا بھر میں سخت مزاحمت ہورہی ہے۔
15اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر کے حق میں اور بھارتی حکومت سمیت بی جے پی کی انتہا پسند پالیسیوں کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا۔ یہ احتجاج محض پاکستان اور کشمیروں تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے تمام چھوٹے بڑے ممالک سمیت تمام مذاہب کے لوگ مقبوضہ کشمیر کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات او ربالخصوص انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے خلاف مزاحمت دیکھنے کو ملی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مودی حکومت کے خلاف جو آوازیں اٹھیں ان میں خود بھارت بھی شامل تھا جہاں بہت سے لوگوں نے مودی حکومت کے اقدامات پر شدید تنقید کی۔
یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری سیاسی جدوجہد نے ایک عالمی سیاسی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ یہ کریڈیٹ کشمیریوں کی پرامن جدوجہد او رنوجوانوں کو دینا ہوگا جس نے سوشل میڈیا کی مدد سے عالمی دنیا کی توجہ بھارت کے مظالم پر ڈالی ہے۔ اقوا م متحدہ، یورپی یونین، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی عالمی اداروں کی 2017-19جاری کردہ رپورٹس میں واضح طو رپر تسلیم کیا گیا کہ بھارت کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی پامالی کی مرتکب ہورہی ہے۔ ان رپورٹس نے عالمی دنیا میں انسانی حقوق سے جڑے اداروں، پارلیمنٹ میں موجود ممبران، میڈیا اور عوامی رائے عامہ پیدا کرنے والے عناصر کو مجبور کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق سے جڑی پامالی پر خاموش رہنے کی بجائے اپنی آواز اٹھائیں۔
مودی حکومت کی سب سے بڑ ی سیاسی پسپائی یہ ہی ہے کہ اس کا مؤقف اب دنیا انسانی حقوق کی پامالی کے تناظر میں سننے کو تیار نہیں۔ دنیا کے چاروں اطراف سے بھارتی مظالم کی آوازیں اٹھ رہی ہیں اورعالمی رائے عامہ کی بیداری کے بعد اب لڑائی عالمی طاقتوں اور عالمی حکمران طبقہ کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی ایک ایسا بنیادی نکتہ ہے جس پر دنیا کی حمایت حاصل کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ کیونکہ دنیا او ربڑی طاقتیں اور ان سے جڑے ادارے اپنے آپ کو انسانی حقوق کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عالمی رائے عامہ کا دباؤ عالمی طاقتوں پر بڑھ رہا ہے کہ وہ مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے کی بجائے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کریں۔
پاکستان سیاسی اور سفارتی محاذ پر ڈپلومیسی کی جنگ لڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس میں بھی ایک بنیادی نکتہ انسانی حقوق کی پامالی کا ہے۔ بچے، بچیاں، نوجوان، عورتوں اور بوڑھوں کے ساتھ جو کچھ بھارت کی ریاست مقبوضہ کشمیر میں کررہی ہے وہ عالمی دنیا کے ضمیر کو جنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف کرفیو نافذ ہے بلکہ خوراک کی ترسیل، مواصلاتی رابطہ، نمازکی ادائیگی، تعلیمی، سماجی اور معاشی نظام مکمل طور پر بند ہے۔ عملی طور پر بھارت کی ریاست نے مقبوضہ کشمیر میں سخت مارشل لا نافذ کردیا ہے ا ور کوئی رعائت دینے کے لیے تیار نہیں۔ سید علی گیلانی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بھارت کشمیروں کی نسل کشی کا منصوبہ رکھتا ہے اور وزیر اعظم عمران خان کے بقول اگر دنیا نے اس اہم او رنازک مرحلہ پر اپنا کردار ادا نہ کیا توکیا وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی نسل کشی دیکھتی رہے گی یا کچھ ایسا کرے گی جو کشمیروں کو ان کا بنیادی حق دلاسکے۔
مسئلہ محض پاکستان کے موقف کا نہیں بلکہ دنیا کا میڈیا او رانسانی حقوق سے وابستہ اداروں کی اپنی رپورٹس بتارہی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا معاملہ کتنا سنگین ہے۔ اس موقع پر کشمیروں میں اور زیادہ شدت پیدا کرنے یا ان میں نفرت یا بغاوت کو پیدا کرنے کی بجائے ان کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے۔ اگر مقبوضہ کشمیر میں جاری یہ ظلم و ستم ختم نہ ہوا تو وہاں سے جو آگ اٹھے گی اس کو روکنا بھارت سمیت کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا اور اس صورتحال کی ذمہ دار بھی دنیا کی خاموشی ہوگی۔انسانی حقوق کی پامالی کا عمل اس وقت سامنے آتا ہے جب آپ لوگوں کے بنیادی سیاسی اور سماجی حقوق دینے سے انکار کردیں اور حقوق کا مطالبہ کرنے پر سیاسی انداز کی بجائے طاقت او ربندوق کا استعمال کرکے اس آواز کو دبانے کی کوشش کریں۔ یہ ہی کچھ اس وقت بھارت میں ہورہا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا او ربھارتی اقدامات کو کشمیریوں کی حمایت حاصل ہوتی تو وہاں عملا ًمارشل لا نہ ہوتا۔
بھارت کی معروف انسانی حقوق کی عالمی راہنما ارون دھتی رائے نے اپنے ایک مضمون میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر چند اہم نکات اٹھائے ہیں جو قابل غور ہیں۔ اول وادی کشمیر کو بھارت کی ریاستی اقدامات سے جیل بنادیا گیا ہے او راگر وادی سے تشدد پھوٹا تو تشدد کی یہ لہر ملک کے چاروں اطراف پھیلے گی۔ دوئم مودی حکومت کے حالیہ اقدامات نے بارود کے ڈھیر میں ایک ایسی چنگاری بھڑکادی ہے جو وہاں کے پرامن سیاسی حل کے خلاف ہے۔ سوئم بی جے پی اور آرایس ایس ہر گزرتے دن کے ساتھ اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کرے گی او رجلد ہی یہ اس مقام پر پہنچ جائے گی جہاں یہ خود ریاست بن جائے گی۔ چہارم مودی حکومت کے اقدامات بڑی تیزی سے بھارت میں ہندوتوا کی سیاست او رمقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے نتیجے میں بھارتی ریاست پر گھمبیر اثرات او ربھارتی ریاستی پالیسیوں میں ہندو انتہا پسندی کے بڑھتے اثرورسوخ سیکولر ریاست کے لیے خطرہ کی گھنٹی ہے۔پنجم مودی حکومت کی کوشش ہوگی وہ اپنی انتہا پسند پالیسیوں کو بنیاد بنا کر معاشرے کے لبرل، سیکولر او ر دانشور طبقہ کو بے دخل کرکے دیوار سے لگائے۔
عالمی میڈیا میں بھی مودی اقدامات کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ عالمی کے میڈیا نے نریندر مودی کو بھارت کا ہٹلر قرار دیا ہے او ران کے بقول مودی کے اقدامات کو بھارت کو تقسیم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں او رمودی کو بھارت کے انتہا پسندوں کا سرغنہ بھی کہا گیا ہے۔ اگرچہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے حالیہ اقدامات کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے،لیکن انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر کوئی اسے اندرونی مسئلہ ماننے کے لیے تیار نہیں اور سب بھارت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے اور لوگوں کو وہ بنیادی حقوق فراہم کرے جو بھارتی آئین او رعالمی انسانی حقوق کی پاسداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہاں ہمیں بھارت کے اندر موجود ان متبادل آوازوں کو بھی داد دینی ہوگی جو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے مدنظر خاموش رہنے کی بجائے سڑکوں پر باہر نکلے ہیں اور مختلف انداز میں مزاحمت ظاہر کی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور بی بی سی نے بھی اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی گلیاں خاموش ہیں اور لوگوں کا غصہ بول رہا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کشمیر ایک غیر فعال آتش فشاں ہے اور اسے صرف ایک چنگاری کی ضرورت ہے اور نئی مزاحمت ماضی کی تمام مزاحمتوں سے بڑی مزاحمت ہوگی۔
جس انداز سے برطانیہ، اٹلی، امریکہ، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، بیلجیم، جاپان، سپین، جرمنی میں بھارت مخالف مظاہرے ہورہے ہیں اور دنیا بھر کے پارلیمنٹ کے ارکان اقوام متحدہ کو خطوط لکھ رہے ہیں او رجو انداز انسانی حقوق سے جڑی تنظیموں نے اختیار کیا ہے، اس نے واقعی اس وقت بھارت کی حکومت کو عالمی دنیا میں سیاسی طو رپر تنہا کیا ہے۔ حکمرانوں کی سطح پر عالمی خاموشی بھی زیادہ دیر نہیں رہے گی کیونکہ دنیا مقبوضہ کشمیر کے حق بیدار ہو رہی ہے۔ اسے روکنا اب کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔اس وقت زبردست ماحول ہے او رہم مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو دنیا میں انسانی حقوق کی پامالی کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ کام سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا۔اس کے لیے پاکستان سمیت دیگر ممالک کو رائے عامہ کو بیدار کرنے او رریاستوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک ایمرجنسی ڈپلومیسی کو طاقت دینی ہوگی۔تاکہ اس طرح بھارت کو سیاسی طو ر پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تنہا کیا جائے اور دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ انتہا پسندی اورانسانی حقوق کی پامالی بند کرے۔