سپریم کورٹ میں ارشد ملک ویڈیو کیس سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
- منگل 20 / اگست / 2019
- 4640
سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کے معاملے کی انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے سے متعلق 3 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا ہے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جج ارشد ملک کے مبینہ ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت اٹارنی جنرل انور منصور خان اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے بشیر میمن بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ 23 جولائی کو ہونے والی سماعت میں عدالت عظمیٰ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو 3 ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔
ڈی جی ایف آئی اے کی جانب سے جمع کروائی گئی ابتدائی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اس رپورٹ میں 2 ویڈیوز کا معاملہ تھا۔ ایک ویڈیو وہ تھی جس کے ذریعے جج کو بلیک میل کیا گیا اور دوسری ویڈیو وہ تھی جو پاکستان مسلم لیگ(ن) نے پریس کانفرنس میں جاری کی تھی۔
اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ 13 مارچ 2018 کو جج ارشد ملک کو احتساب عدالت میں تعینات کیا گیا تھا جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ مبینہ شخص سامنے آیا جس نے ارشد ملک کو تعینات کروایا تھا اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وہ مبینہ شخص سامنے نہیں آیا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ناصر جنجوعہ نے ارشد ملک کو تعینات کروانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ اس وقت کی حکومت نے پاناما پیپرز کے فیصلے کے بعد جج ارشد ملک کو تعینات کیا تھا۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف اور لیگی قیادت نے ویڈیوز سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور مریم نواز نے بھی ویڈیو نے لاتعلقی کا اظہار کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ انہوں نے کوئی قابل اعتراض ویڈیو نہیں دیکھی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ کے مطابق ملتان والی قابل اعتراض ویڈیو میں طارق محمود بھی نظر آتا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی بالکل اس ویڈیو میں طارق محمود بھی نظر آتا ہے۔ اس پرچیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ویڈیو کی فرانزک کروائی گئی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ فرانزک کروالی گئی لیکن ارشد ملک کی نئی ویڈیو کا فرانزک نہیں ہوسکا۔
جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ جج کی ویڈیو کا فرانزک کیوں نہیں ہوسکا، ویڈیو سارے پاکستان کے پاس ہے صرف ایف آئی اے کے پاس نہیں۔ پورا ملک اور عدالت جس کا سوال کررہی ہے اس کا فرانزک کیوں نہیں ہوا۔ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ویڈیو یوٹیوب سے لی گئی ہے اس لیے فرانزک نہیں ہوسکا۔
جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ پہلی ویڈیو اصل ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ سے ابہام پیدا ہوتا ہے۔ غالباً 2 ویڈیوز تھیں ایک قابلِ اعتراض ویڈیو تھی جس سے جج کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی اور دوسری ویڈیو پریس کانفرنس میں دکھائی گئی۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ دیکھنا ہو گا کہ ویڈیو کی کاپی کا فرانزک ہو سکتا ہے کہ نہیں اور یوٹیوب ویڈیو کا فرانزک ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ناصر جنجوعہ اور مہر غلام جیلانی نے جج سے ملاقات کرکے 10 کروڑ روپے کی پیشکش کی تھی جو نواز شریف کے خلاف ریفرنسز میں رہائی سے متعلق فیصلے سے مشروط تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جج ارشد ملک فیصلے کے بعد 2 مرتبہ عمرے پر گئے۔ بعض معلومات کھلی عدالت میں نہیں دے سکتے۔ اٹارنی جنرل نے کہا اس کیس میں 2 اہم کردار ناصر بٹ اور سلیم اس وقت ملک میں نہیں ہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اس ویڈیو سے فائدہ حاصل کرنے سے متعلق کسی نے کوئی درخواست دی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہمیں اس حوالے سے ابھی تک کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ویڈیو تو اس وقت کسی کے لیے فائدہ مند ہوسکتی جب کوئی اسے کسی کیس میں پیش کرے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا جج ایسا ہوتا ہے جو سزا دینے کے بعد مجرم کے پاس جائے، جج کے اس کردار سے ججز کے سر شرم سے جھُک گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ اس معاملے کو ہلکا کیوں لے رہے ہیں۔ جج خود مان رہا ہے کہ اس کے اس خاندان کے ساتھ تعلقات تھے، جج کے کردار کی حد تک معاملہ ہم دیکھ سکتے ہیں لیکن وڈیو کے معاملے کی آپ تحقیقات کرائیں فرانزک ہوسکتی ہے یا نہیں۔
بعدازاں عدالت نے جج ارشد کیس کی مبینہ ویڈیو سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔