کشمیر: لہو چھپائے نہ چھپے گا
- تحریر افتخار بھٹہ
- منگل 20 / اگست / 2019
- 7440
کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ تقسیم ہند کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا اقدام ہے۔اس فیصلے نے مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ پانچ اگست 2019سے پہلے 72سالوں کے دوران تنازعہ کشمیر کی ایک خاص حیثیت تھی جس کو پاک بھارت ساڑھے تین جنگوں دو طرفہ مذاکرات اور عالمی سفارت کاری سمیت کشمیر میں جہادی تحریک کو تبدیل نہ کر سکے۔
ہندوستان میں یہ فیصلہ کر کے بظاہر اس مسئلے کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے جس سے خطے کی سیاست، معیشت اور سماج پر مضر اثرات مرتب ہوں گے مگر آئندہ کیا صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان عالمی طور پراپنے موقف کے حق اور کشمیری عوام کے حقوق کیلئے رائے عامہ ہموارکرنے کیلئے رابطہ کرنے میں مصروف ہے۔ اقوام متحدہ میں چین کی درخواست پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا گیا جس میں چین کے مندوب نے اپنے ملک کا موقف پیش کرتے ہوئے لداخ پر ہندوستانی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ دونوں معاملات پاکستان اور بھارت کو مل کر حل کرنے چاہیں۔ چین کے اقوام متحدہ کے مستقل مندوب، پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنسوں میں تینوں میں سے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کیا ہوا۔
چین کے مندوب کی پریس ٹاک ہندوستان کے حالیہ فیصلہ سے پیدا ہونے والے تحفظات کے بارے میں تھی۔ ملیحہ لودھی نے بیورو کریٹک رائٹ اپ پڑھا اور چلتی بنی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے باقاعدہ الفاظ کے گولے برسائے پر یہ نہیں بتایا کہ شرکاء نے کیا کہا۔ اگر خفیہ بات ہوئی تو ان لوگوں نے اپنی تقریر میں اس کے بارے میں کیوں نہ ذکر کیا حالانکہ سب لوگوں کے ان کے خیالات کے بارے میں پہلے ہی علم تھا۔ اصل یوں ہے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں سے ایک نے کشمیر کے مسئلہ پر بات کی باقی کا اس کے بارے میں کوئی بیان نہ آیا اور نہ ہی اس ضمن میں مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا۔
ہندوستان میں صرف بائیں بازو کی کمیونسٹ جماعتوں کی طرف سے کشمیری عوام پر ہونے والے ظلم ستم کے حوالے سے احتجاج سامنے آیا ہے۔ کیونکہ بائیں بازو کی پارٹیاں کسی مذہب یا قومیت کے حوالے سے مظلوم اقوام کی حمایت نہیں کرتیں بلکہ وہ انسانیت پر ہونے والے ظلم پر احتجاج کرتی ہیں۔ مودی کے اس اقدام نے ہندوستان میں چلنے والی سیاست کو یکسر تبدیل کر دیا ہے جس سے فاشزم کے غلبے کا اظہار ہوا ہے۔ پاپو لزم کے حوالے سے ٹرمپ کی فتح بھی امریکی فاشزم کی مضبوطی قرار پائی۔ ہندوستان میں بھی مودی کی فتح انتہا پسند ہندو پاپو لزم کی کامیابی قرار دی جا سکتی ہے۔ بظاہر امریکہ اور ہندوستان میں دائیں بازو کی پارٹیوں نے پاپو لزم کے ذریعے مخالف پارٹیوں کو شکست دی ہے۔ جس سے دونوں ملکوں کے عوام یقینا رنجیدہ فکر ہوئے ہیں۔
گزشتہ چند ماہ سے جاری سوڈان کی انقلابی تحریک اور ہانگ کانگ میں ہونے والے واقعات اسی اسٹیٹس کو، کو انقلابی بغاوت کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوششیں ہیں۔ یمن پر سعودی جارحیت، فلسطین پر اسرائیل کی بڑھتی ہوئی بربریت اور چین میں مسلمان آبادی پر ہونے والے امتیازی سلوک بھی قابل مذمت ہیں۔ کشمیری عوام کی نسل کشی کرنے کا منصوبہ ہے اور وہاں پر ہندوستان کے دوسرے علاقوں کے لوگوں کو بسا کر انہیں اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کشمیریوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کی طرف سے مظاہرے کیے گئے ہیں۔ اسلامی ممالک او آئی سی کے پلیٹ فارم پر تو کشمیر میں ہونے والے تشدد کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر ان کی حکومتیں اپنے مالی اور تجارتی مفادات کیلئے ہندوستان کے اس اقدام کی مذمت کرنے سے گریزاں ہیں۔یاد رہے ماضی میں عراق، شام یمن اور لیبیا پر ہونے والی امریکی اتحادیوں کی فوجی یلغار کے بعد مہاجرین کو کسی سلامی ملک میں پناہ نہیں دی ہے۔ بلکہ جرمنی اور کینڈا نے ان کیلئے اپنے دروازے کھولے تھے۔
ایشیا ٹائمز میں شائع مضمون کے مطابق تاریخی طور پر پاکستان کو تقریباًتمام عرب اور مسلم اکثریتی حمایت کشمیر پر حاصل تھی۔1969سے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے پلیٹ فارم پر مغربی حمایت یافتہ پاکستان کوروسی حمایت یافتہ انڈیا کے خلاف کشمیر کے مسئلہ پر تعاون حاصل تھا۔ پاکستان کو یہ حمایت 90کی دہائی تک ملتی رہی۔دریں اثناء 2000سے انڈیا نے خلیجی ممالک سے تعلقات بہتر بنائے جس کی وجہ سے ان کے موقف میں تبدیلی پیدا ہوئی۔ سعودی عرب کی تیل کمپنی آرام کو ہندوستان میں 75ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہی ہے۔ سعودی عرب کے بر عکس متحدہ عرب امارات کا رویہ بھی مکمل طور پر مختلف اور یکطرفہ ہو گیا ہے۔ اس دوران افغان طالبان کی طرف سے بھی بیان آیا ہے کہ افغان مفاہمتی عمل کو کشمیر کی صورتحال کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔
بھارتی جارحیت کے نتیجہ میں ایک طرف کشمیریوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور دوسری طرف کنٹرول لائن پر پاکستان میں بے گناہ سویلین کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت نے اس سے قبل انٹیلی جنس کی رپورٹ پر ایک نام نہاد سٹراٹیجک سٹرائیک بالا کوٹ پر کیا تھا جو کہ بعد میں جھوٹ کا پلند ا ثابت ہوا تھا۔ 14اگست2019جو بھارتی اخبار دی ہندو میں سوہا سنی حیدر کے لکھے ہوئے مضمون کے مطابق پانچ اگست کا اقدام بھی ہندوستان کے پیچھے انٹیلی جنس کی رپورٹ پر تھا جس کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کے بعد افغانستان پر ہندوستان کی گرفت کمزور پڑ جائے گی۔ ہندوستان نے افغانستان میں موجود اپنے قونصل خانے بتدریج بند کر نے شروع کر دیئے تھے۔ ہندوستان کو خطرہ تھا کہ پاکستان کے حمایت یافتہ طالبان حکومت قائم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر جہادی گروپوں کو بھیج سکتے ہیں۔ 12اگست کو امریکہ طالبان کے مذاکرات کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہو گئے لہذا بھارتی انٹیلی جنس کی رپورٹ غلط نکلی۔
بھارت کی جانب سے کشمیر کی حیثیت کے خاتمہ کے نتیجہ میں اقوام متحدہ کی رائے شماری کیلئے قرار دادیں شملہ معاہدہ اور لاہور پیکٹ قابل عمل نہیں رہے۔ کیونکہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو اپنے اندر الحاق کر کے اس ضمن میں کسی مزید پیش رفت کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ اس ساری صورتحال میں کشمیر کے نیشلسٹ مسلمان راہنماؤں نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے قائد اعظم کے دو قومی نظریہ کی حمایت نہ کر کے غلطی کی تھی۔ جس کا خمیازہ وہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ شیخ عبداللہ جس نے نہرو کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں 370 اور35Aآئینی ترمیم کی گئی جس کے تحت کشمیر کی علیحدہ حیثیت کو بر قرار رکھا گیا۔ مگر یہ تمام باتیں بھارت کیلئے داستان پارینہ بن چکی ہیں۔شیخ عبداللہ نے اپنی کتاب اتاش چنار میں لکھا ہے کہ اس نے ہندوستانی قیادت سے بار بار دھوکا کھایا جس کا مقصد کشمیریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ تھا لیکن بعض تاریخ دانوں کے نزدیک یہ بہت غلطی تھی جس کی ذمہ داری ماضی کی کشمیری قیادت پر ڈالی جا سکتی ہے۔
بھارت کو سب سے زیادہ خوف کسی ممکنہ جہادی اور مسلح جدو جہد سے تھا کیونکہ مقبوضہ علاقے کے لوگ اپنی آزادی کیلئے ایسا کرنے کیلئے قانونی جواز رکھتے تھے۔ مگر اس نے علیحدہ حیثیت ختم کر کے خود کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے مگر وہ اس فیصلے کے دو رس نتائج سے بے خبر ہیں۔ اگر اس اقدام سے کوئی آگ بھڑکتی ہے تو اس کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے گا۔ اس پر پاکستان کا کیا رد عمل ہوگا یہ بات یقینی نہیں کہی جا سکتی۔مقبوضہ کشمیر میں لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی کالعدم تنظیموں کے افراد موجود ہیں اور ان کی نئی آپریشنل صلاحتیں کتنی ہیں اس کے علاوہ دیگر تنظیمیں القاعدہ، داعش، انصار غزوہ ہند متحد ہو کر کشمیر میں طویل المدتی مزاحمت کر سکتی ہیں یا نہیں۔ مگر پاکستان کیلئے ان تنظیموں کی حمایت کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ آئندہ پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
عمران خان کی حکومت کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ٹھوس کوششیں کرنا ہوں گی۔ اور اس کے لئے ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام لانا ہوگا کیونکہ مضبوط پاکستان ہی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑا سکتا ہے۔ اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ کوئی پارٹی یا تنہا لیڈر شپ ان چیلنجز سے عہدہ براہ نہیں ہو سکتی۔ ابھی کشمیریوں کو اپنی آزادی کیلئے ایک طویل جدو جہد کرنا ہوگی۔ہم ان کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ تا کہ وہ اپنے لیے خود مختار ریاست کے حصول کو ممکن بنا سکیں۔