اللہ کے طریقے میں جبر نہیں

دور جدید کی خرابی یہ ہے کہ اس میں بے شمار افکار ونظریات اور فلسفوں کے موجود ہونے کے باوجود انسان اپنے اور کائنات کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔جس کے نتیجہ میں دنیا میں ایک بڑا گروہ فسق و فجور میں مبتلا ہے تو ایک دوسرا گروہ ظلم و زیادتیوں کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔

 اس درمیان جن لوگوں پر ظلم و زیادیتاں کی جا رہی ہیں ان میں بھی دو طرح کے گروہ عام ہیں۔ایک جو خدائے واحد کے وجود کا منکر ہے یا شرک میں مبتلا ہے تو دوسرا وہ جو خدا ئے واحد کا قائل ہے اس کے باوجود،اس میں وہ بصیرت اور حوصلہ موجود نہیں جس کی بنا پر وہ مستقل بنیادوں پر صبر کے ساتھ دنیا و آخرت کی اخروی کامیابی کے لیے سرگرم عمل رہے۔لہذا ان دونوں ہی گروہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ دنیا اور خالق دنیا کے رشتہ کو بہتر انداز میں سمجھیں،اس پر کامل یقین پیدا کریں،اور اللہ سے مضبوط ترین رشتہ استوار کریں۔ساتھ ہی یہ یقین بھی رکھیں کہ کائنات اندھے بہرے مادی قوانین کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑدی گئی ہے۔ان قوانین کے پیچھے ہمیشہ اللہ کا نظم و تدبیر کرنے والا ارادہ اور اس کی مشیت ِ مطلقہ کارفرمارہتی ہے۔

اللہ جو چاہتا اور پسند کرتا ہے، پیدا فرماتا ہے۔اسی طرح یہ بات بھی ثابت ہے کہ ہر شے میں خدا کا ہاتھ کام کرتا ہے لیکن اس کے کام کرنے کا ایک خاص اندازہے۔یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم اس سلسلے میں جلد بازی کریں۔نہ یہ مناسب ہے کہ اللہ سے کوئی نامناسب فرمائش کربیٹھیں۔ خدائی ضابطہ حیات اسی لیے وضع کیا گیا ہے کہ ہر سماج میں انسانی زندگی کے ہر مرحلہ میں اور نوع انسانی کی ہر حالت میں اس پر عمل ہو۔ وہ اسی انسان کے لیے وضع کیا گیا ہے جو اس زمین پر رہتا ہے۔اس نظام حیات میں انسان کی فطرت، اس کی استطاعت و استعداد، اس کی قوت و ضعف اور اس کے مختلف حالات کو،جو اس پر طاری ہوئے ہیں،پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہے۔اسلامی نظام حیات اس مخلوق(انسان) سے بدگمان نہیں ہے۔وہ زمین پر اس کے رول کو حقیر خیال نہیں کرتا،نہ زندگی کی کسی صورت میں اس کی انفرادی حیثیت یا کسی اجتماعیت کا جزء ہونے کی حالت میں اسے کم قیمیت یابے وزن قرار دیتا ہے۔وہ خیالی گھوڑے بھی نہیں دوڑاتا کہ اس وجود(انسان) کو اس کی طاقت،اس کے مقرر منصوبے اور اس کے وظیفہ حیات سے بھی اوپر اٹھادے جس کے لیے اس کے خالق نے اسے  پیدافرمایا ہے۔اور اس طرح اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈال دے۔یہ نظام،انسان کی ذات،اس کی فطرت اور اس کے داعیات کا احترام کرتا ہے۔وہ کمال کے اس راستے میں جو خدا کی طرف جاتا ہے،انسان کی رہنمائی و دستگیری کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدائی نظام حیات کے لیے ایک طویل مدت درکار ہے جسے اس انسان کا خالق اور اس مالک ہی زیادہ بہتر انداز میں جانتا ہے۔

اسی لیے وہ آخری منزل تک پہنچنے کے سلسلے میں نہ جبر وتشدد سے کام لیتا ہے،نہ جلد بازی کرتاہے۔اس کے سامنے وسیع مدت ہے جو کسی فرد کی عمر تک محدود نہیں ہے۔نہ کسی فانی انسان کی خواہش۔جسے اس بات کا اندیشہ ہو کہ منزل مقصود تک پہنچنے سے قبل اسے موت آجائے گی،اسے جلد بازی پر آمادہ کرتی ہے۔کیونکہ اس نظام کا علمبردار لافانی خدا ہے لہذا زمینی مسالک کے علم بردار اس کے برعکس جلد باز ہوتے ہیں۔وہ ایک ہی نسل کے دوران پوری اسکیم کو جبراً نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ فطرت کی حدود سے،جس کے اقدامات توازن و اعتدال کے ساتھ ہوتے ہیں، تجاوز کرتے ہیں۔ وہ توازن و اعتدال کے ساتھ پیش قدمی کے دیر طلب نتائج کے لیے صبر کی طاقت نہیں رکھتے۔جبر و استبداد کی اس راہ میں،جو وہ اختیار کرتے ہیں کشتوں کے پشتے لگتے ہیں، خون کی ندیاں بہتی ہیں،معاشرہ کی اقدار اور اس کے پیمانے سب ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں اور معاملات زندگی تہ و بالا اور درہم وبرہم جاتے ہیں۔یہی نہیں،آخر میں خود یہ علم بردار بھی شکست و ریخت سے دوچار ہوتے ہیں اور فطرت کے،جس کے پاس و لحاظ ان مستبدانہ مسالک نے نہ کیا تھا، گرزران مصنوعی مسلکوں کو بھی توڑ پھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔

اسلام اس کے برعکس فطرت انسانی کے ہمراہ نرمی و آہستہ روی کے ساتھ چلتا ہے۔وہ فطرت انسانی کو اس غلط راہ سے ہٹاتا، اس کو غلط راہ سے روکتا اور کج روی اختیار کرنے پر اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مگر فطرت کی شکست وریخت نہیں کرتا۔وہ ایک صاحب بصیرت، دانا انسان کی طرح جسے منزل مقصود تک پہنچنے کا پورایقین اور بھروسہ ہو، فطرت انسانی کے ساتھ صبر کا رویہ اختیار کرتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ یہ کام اگر اس بار پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا تو اگلی بارتکمیل پائے گا، اس سے اگلی بار پورا ہوگا،دسویں بار، سویں بار، ہزارویں بار پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ زمانہ دراز ہے،منزل مقصود واضح اور متعین ہے، اور راستہ طویل ہے۔جس طرح ایک تناور درخت اگتا ہے،زمین کی گہرائیوں میں اس کی جڑیں پیوست ہوتی چلی جاتی ہیں اور فضا میں اس کی شاخیں دراز پیچ درپیچ۔بس یہی حال اسلام کا ہے۔وہ آہستہ آہستہ اطمینان و سکون کے ساتھ پرورش پاکر تناور درخت بنتا ہے اور ہمیشہ اسی طرح کی ساخت اختیار کرتا ہے جس طرح خدائے تعالیٰ چاہتا ہے۔

کھیتی کا معاملہ یہ ہے کہ کبھی وہ گرد وغبار سے اَٹ جاتی ہے، کبھی کیڑے مکوڑے اس کے کچھ حصے کو چٹ کر جاتے ہیں،کبھی وہ پانی کی قلت کی وجہ سے سوکھ اور جل جاتی ہے اور کبھی پانی کی زیادتی سے ڈوب جاتی ہے۔لیکن دانا و بینا کاشتکار اچھی طرح جانتا ہے کہ کھیتی باقی رہنے اور نشوونما پانے کے لیے ہے۔وقت ضرور لگے گا مگر وہ بالآخر تمام آفات و مشکلات پر قابو پالے گی۔اس لیے کاشتکار جبر و تشدد سے کام نہیں لیتا،اضطراب اور بے چینی میں مبتلا نہیں ہوتا اور نہ فطرت کے پر سکون، متوازن،نرم اور محبت سے بھر ے طریقوں کو چھوڑ کر غیر فطری طریقوں سے اپنی کھیتی کو پکانے کے درپے ہوتا ہے۔پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ کا طور طریق یہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے:  "تم اللہ کے طریقہ میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے"۔

گفتگو کے پس منظر میں ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ کے نظام میں حق کی حیثیت یہ ہے کہ اس کی جڑیں اس کائنات میں مضبوط اور گہری ہیں۔وہ کوئی عارضی واقعہ یا غیر مطلوب اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ خود' حق' ہے اور ہر موجود اسی کے وجود سے اپنا وجود اخذ کرتا ہے۔سورۃ حج کی آیت نمبر62/میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ باطل ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی بلند اور بزرگ ہے"۔نیز سورۃ یونس کی آیت نمبر 5/میں اور سورۃ آل عمران کی آیت نمبر191/ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:"اللہ نے یہ سب' حق 'ہے کے ساتھ پیدا کیا ہے"۔اور "اے ہمارے رب! تونے یہ (کائنات) ناحق طور پر نہیں بنائی ہے۔تو پاک و برتر ہے(اس سے کہ ایسا کرے)"۔

معلوم ہوا کہ حق ہی اس کائنات کی بنیاد اور اس کا مزاج ہے۔اللہ تعالیٰ ایک اور مثال سورۃ ابراہیم کی آیت24تا27/میں اس طرح بیان کرتا ہے۔"تم نے غور نہیں کیا؟ اللہ نے کلمہ طیبہ کی مثال کیسی بیان فرمائی ہے۔وہ ایک عمدہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں زمین میں جمی ہوئی ہیں۔اور شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں اور ہر آن اپنے رب کے اذن سے (اچھے)پھل دیتارہتا ہے۔اللہ تعالیٰ لوگوں سے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔اور کلمہ خبیثہ کی مثال برے درخت جیسی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے اور اسے ثبات و قرار نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ایک ثابت اور محکم قول(توحید) کے ذریعہ اہل ایمان کو حیات دنیا اور آخرت،دونوں میں ثبات عطا فرماتا ہے اور ظالموں (کی کوششوں) کو بھٹکا دیتا (اور رائیگاں کردیتا)ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔

غور فرمائیے کہ کتنی طمانیت ہے جو اس نقطہ نظر سے انسان کو حاصل ہوتی ہے۔کتنا سکون ہے جس کا فیضان اس تصور سے قلب انسانی پر ہوتا ہے۔حق اور خیر و صلاح کے سلسلے میں اس نظریہ حیات سے کتنا اعتماد و وثوق حاصل ہوتا ہے اور کتنی قوت و بلندی ہے جو اس تصور سے انسانی ضمیر کو ملتی ہے۔یہی وہ عقیدہ جوہمارے نظریات میں تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے اور یہی ہے جو ہمارے فکر و عمل میں انقلاب برپا کردیتا ہے!