مذہبی تشدد کے خلاف عالمی دن پرکشمیریوں کو یاد رکھا جائے
- جمعرات 22 / اگست / 2019
- 5040
وزیر اعظم نے عمران خان نے کہا ہے کہ ’مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار افراد کے پہلے عالمی دن کے موقع پر ہم لاکھوں کشمیریوں کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں جو بھارت کے ظلم، تشدد، تمام بنیادی حقوق اور آزادی سے محروم زندگی گزار رہے ہیں‘۔
ٹوئٹ پیغام میں عمران خان نے کہا کہ ’قابض بھارتی فوج کشمیریوں کو مذہبی عبادات کا حق دینے سے بھی انکارکررہی ہے یہاں تک کہ انہیں عیدالاضحیٰ کی نماز بھی ادا کرنے نہیں دی گئی‘۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج عالمی برادری جہاں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار افراد سے اظہار یکجہتی کر رہی ہے، اسے کشمیریوں کی نسل کشی روکنے کے لیے بھی اقدامات اٹھانے چاہیے۔
بین الاقوامی برادری 22 اگست کو میانمار، مقبوضہ کشمیر، شام اور فلسطین سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر ظلم و تشدد کے شکار افراد سے اظہار یکجہتی کا پہلا عالمی دن منا رہی ہے۔ ظلم و تشدد کے شکار افراد سے اظہار یکجہتی کے لیے عالمی سطح پر یہ دن منانے کا فیصلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 28 مئی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریز نے اس دن کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ ’دہشت گرد حملوں کا صدمہ خاندانوں، برادریوں اور پوری قوم کو طویل عرصے تک نقصان پہنچاتا ہے‘۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مظالم کا شکار افراد کی آزاد سنی جائے۔ ہم مل کر ان کے حقوق کے احترام اور بحالی کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کریں۔