برصغیر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے: عمران خان

  • جمعرات 22 / اگست / 2019
  • 4820

وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کر سکتا۔ بھارت سے مذاکرات کا فائدہ نہیں ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں ایک انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے بھارتی حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اس وقت نئی دہلی میں جو حکومت ہے وہ جرمنی کے نازیوں جیسی ہی ہے۔  وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہوئے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے، دنیا کو اس صورتحال سے خبردار رہنا چاہیے۔  وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ کشمیریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں جبکہ خدشہ ہے کہ مقبوضہ وادی میں نسل کشی ہونے والی ہے۔

انٹرویو میں انہوں نے باور کروایا کہ اپنے دورہ امریکا کے دوران انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خطے کی انتہائی تباہ کن صورتحال کے خدشے سے آگاہ کردیا۔  بھارت کی ہٹ دھرمی سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت نے میری باتوں پر غور نہیں کیا۔ پاکستان بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کرسکتا۔

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کے یک طرفہ اقدام، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے مبصر مقبوضہ کشمیر بھیجے۔  خیال رہے کہ بھارت پر حکمرانی کرنے والی ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے 5 اگست کو آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا تھا۔ مذکورہ آرٹیکل کی منسوخی سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی تھی جس کے ساتھ اس خطے کی حیثیت بھی دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح ہوگئی۔

آئین میں مذکورہ تبدیلی سے قبل دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی اہلکاروں کی نفری کو بڑھاتے ہوئے 9 لاکھ تک پہنچا دیا تھا۔ بعدازاں مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور کسی بھی طرح کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی جو عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی برقرار رہی۔ تاہم اس میں چند مقامات پر جزوی نرمی بھی دیکھنے میں آئی۔

کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے بعد وادی میں ہونے والے انسانی حقوق کے استحصال پر امریکی میڈیا بھی بول پڑا اور اقوام متحدہ کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ سی این این نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ ’کیا کشمیر جیسے اس اہم ترین مسئلے پر سلامتی کونسل مزید 50 سال گزرنے کے بعد اپنا کردار ادا کرے گا؟‘