خارجہ پالیسی کے لئے بنیادی اصول

آج  دنیا کی سیاست میں خارجہ پالیسی کی درست سمت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ عالمی اور علاقائی سیاست میں وہی ملک اہمیت رکھتے ہیں جو  دنیا کے ساتھ جڑ کر رہتے ہیں۔ اگرچہ خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ مفادات  کی سیاست ہوتی ہے اور جس ملک کے بھی کسی بھی ملک کے ساتھ مفادات  وابستہ ہوں گے، وہ اہمیت اختیار کرے گا۔

 ایک بنیادی نکتہ یہ اٹھایا جاتا ہے کہ آج کی عالمی سیاست میں معیشت  کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ معاشی طور پر مستحکم ملک ہی خارجہ پالیسی یا دنیا میں طاقت کی سیاست میں اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور نکتہ یہ اٹھایا جاتا ہے کہ جو ملک داخلی  طور سے سیاسی  مستحکم ہوگا وہی خارجہ پالیسی میں بھی دوسرے ملکوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

خارجہ پالیسی کا اصول یہ ہے کہ اس کے خدوخال کبھی بھی جامد نہیں ہوتے۔ حالات و واقعات اور دنیا میں ہونی والی مختلف تبدیلیوں کے تناظر میں خارجہ پالیسی میں بھی تبدیلی کا عمل ناگزیر ہوتا ہے۔ خارجہ پالیسی کے تناظر میں کامیاب ملک وہی ہوتاہے جو دنیا میں ہونے والی تبدیلی کے عمل پر گہری نگاہ رکھتا ہے اور ان کو جاننے، سمجھنے او رپرکھنے کے بعد اپنی پالیسیوں کے خدوخال وضع کرتا ہے۔اسی طرح ایک او رنکتہ جو اہم ہے وہ آج کی دنیا میں دشمن پیدا کرنے کی بجائے دوست پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر کسی سے بہت اچھے تعلقات نہ بھی ہوں تو ان تعلقات کو اتنا خراب بھی نہیں ہونا چاہیے جو ملکوں کے درمیان تعلقات کار میں بگاڑ پیدا کریں۔

پاکستان کی سیاست کا المیہ یہ رہا ہے کہ اس کے داخلی اور خارجی دونوں محاذ کئی طرح کے مسائل او رتضادات کا شکار رہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نہ تو سیاسی طو رپر مستحکم ہوسکے او رنہ ہی معاشی طو رپر اپنی اہمیت منواسکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایک کامیاب آزدانہ بنیادوں پر خارجی  پالیسی کو لے کر چلنا ممکن نہیں ہوتا۔ایسی صورتحال میں آپ کے پاس آزدانہ فیصلوں کا اختیار بھی کم ہوتا ہے اور آپ کا انحصار بڑ ی طاقتوں کے فیصلوں کا محتاج بھی ہوتا ہے جو خود مختاری کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ہماری خارجہ پالیسی کی ایک بڑی خرابی ماضی میں سول ملٹری تعلقات میں توازن یا اعتماد سازی کا فقدان رہا ہے۔ جو بھی ملک اپنے ہی ملک میں تقسیم ہوکر یا دو مختلف طرز کی پالیسیوں یا ایک دوسرے پر عدم اعتماد کے بحران کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو کامیابی کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔

یہ نکتہ سمجھنا ہوگا کہ دوسرے ممالک یا طاقت ور ممالک جب دوسرے ممالک سے معاملات چلاتے ہیں تو وہ ان کی داخلی کمزوریوں سے یقینی طور پر فائدہ اٹھا کر اپنی حکمت عملی وضع کرتے ہیں۔یعنی ہماری داخلی کمزوریاں دوسرے ممالک کے لیے طاقت بنتی ہیں اوروہ اس طاقت کو بنیاد بنا کر ہمیں پسپائی پر مجبور کرتے ہیں۔سول ملٹر ی تعلقات میں خرابی کسی ایک فریق میں نہیں بلکہ دونوں فریقین کی سیاست ایک دوسرے کے لیے مسائل بھی پیدا کرتی رہی ہے۔ اس لیے مسئلہ ایک دوسرے پر الزام لگا کر حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے دونوں فریقین کو مسائل کی نوعیت سمجھنی ہوگی او ردونوں کے نکتہ نظر کو سمجھ کر مشترکہ حکمت عملی ہی کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔

اس وقت پاکستان خارجہ پالیسی سے جڑے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے۔ ان مسائل میں داخلی اور خارجی دونوں مسائل ہیں اور یہ کوشش کی جارہی ہے کہ ہم اپنے کارڈ اس انداز سے عالمی اور علاقائی سیاست میں کھیلیں کہ اپنے لیے بھی سیاسی او رمعاشی فوائد پیدا کرسکیں، جو ہماری ضرورت بنتے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان جو اہمآہنگی ہے وہ ہمیں بہت سے امور سے نمٹنے میں مدد فراہم کررہی ہے۔ بالخصوص سیاسی اور عسکری قیادت کا بنیادی نکتہ اس وقت علاقائی سیاست کا استحکام ہے کہ ہم اس میں خود کو بھی محفوظ کرسکیں اور دوسروں کے لیے بھی ایسے حالات پیدا کریں جو ہماری اہمیت کو اجاگر کرے۔ افغانستان اس تناظر میں اہم مثال ہے۔ اس وقت عالمی دنیا کی نظریں امریکہ، افغان حکومت او رطالبان کے درمیان امن معاہدے پر ہے او را س کردار میں پاکستان ایک کنجی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ہم افغان بحران کے حل میں کامیاب ہوتے ہیں تو یقینی طو رپر عالمی دنیا سمیت علاقائی سیاست میں ہمیں مستقبل کے تناظر میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہوگی۔

حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر کے بحران میں بھی پاکستان کے کردار کو عالمی دنیا میں سراہا گیا ہے۔کیونکہ ہم نے امن پسندی اور حالات کو پرامن بنانے کی جو حکمت عملی یا پالیسی اختیار کی ہے اس کو پذیرائی ملی ہے۔ امریکہ، چین، روس، بھارت، ایران،افغانستان سب سے ہم مل کر کام کرنے کی عملی خواہش رکھتے ہیں۔ہم نے اپنی پالیسی سے دنیا پر یہ واضح کیا ہے کہ پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں ہم نہیں بلکہ بھارت شدت پسندی اور ہٹ دھرمی کا  مظاہرہ کررہاہے۔ حالیہ دنوں میں ہم نے کشمیر کے مسئلہ پر  دنیا کو متوجہ کیا ہے او رجس انداز میں سلامتی کونسل کا کئی دہائیوں کے بعد کشمیر کے مسئلہ پر اجلاس بلایا گیا، وہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے فوری طو رپر ہمیں کسی بڑ ی کامیابیوں کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم  نے دنیا میں کئی فرنٹ پر نئے امکانات پیدا کیے ہیں جو عالمی سیاست میں پاکستان کے کردار کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔

پچھلے کچھ دنوں سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ ہم نے امریکہ کی حمایت کے حصول میں اپنی خارجہ پالیسی میں چین کو نظرانداز کردیا ہے اور وہ سخت نالاں ہے۔لیکن حالیہ دنوں میں کشمیر کے تناظر میں جو کچھ سلامتی کونسل میں ہوا وہ پاکستان او رچین کے درمیان مضبوط رابطہ کاری اور ایک دوسرے کے مفاد سے جڑا ہوا تھا، جو اس تاثر کی نفی کرتا ہے کہ چین ہم سے نالاں ہے۔روس سے بھی ہم نے تعلقا ت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے او رمستقبل میں یہ نئے امکانات بھی پیدا کرسکتا ہے۔یہ درست ہے کہ حالیہ کشمیر کے بحران کے تناظرمیں ہمیں بہت سے ممالک سے جو حمایت درکار تھی وہ نہیں مل سکی۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔لیکن اس پر ہمیں سخت ردعمل دینے کی بجائے پہلے تو ان معاملات کا جائزہ لینا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے۔ دوسرا ہمیں ان ملکوں سے اپنے تعلقات کے تناظر میں زیادہ قربت پیدا کرنی ہوگی اور باہمی مفادات کو اجاگر کرنا ہوگا۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی داخلی پالیسیوں کا بھی جائزہ لیں اور ایسی پالیسیاں جو عالمی دنیا میں ہمارے بارے میں سوالات رکھتی ہیں یا ملکوں کو ہم سے تحفظات یا خدشات ہیں ان کا مدبرانہ انداز میں جواب بھی دینا ہوگا اور معاملات کو درست سمت بھی دینی ہوگی۔ یہ عمل کسی ردعمل کی سیاست کی بجائے معاملات کو درست سمت میں لے کر جانے کی خواہش سے جڑا ہونا چاہیے۔اب وقت ہے کہ ہمیں خارجہ پالیسی کے محاذ پر اپنا داخلی احتساب بھی کرنا چاہیے۔کیونکہ جب ہم میرٹ کی بجائے پسند و ناپسند او رسیاسی بنیادوں پر خارجہ پالیسی کو چلائیں گے اور پروفیشنل انداز سے معاملات کو نہیں چلایا جائے گا، مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا۔وزارت خارجہ، فارن آفس اور عالمی دنیا میں موجود سفارت کار افراد او راداروں کی مدد سے ہمیں عالمی دنیا میں ڈپلومیسی کے محاذ پر فعالیت کا کردار ادا کرنا ہوگا۔یہ عمل جذباتیت کی بجائے شواہد اور دلیل کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

اس وقت گلوبل دنیا میں جن ملکوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت میں ہمیں مسائل درپیش ہیں وہاں ان ملکوں کے داخلی محاذ سے بھی متباد ل آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ہمیں ایک سرگرم اور فعال پالیسی کی بنیاد پر دوسرے ملکوں کے اندرکے حالات پر نظر بھی رکھنی چاہیے او راس سے فائدہ بھی اٹھانا چاہیے۔ لیکن یہ سب اسی صورت میں ممکن ہوگا جب مختلف ممالک میں موجود ہمارے سفارت کار وہ کردار ادا کریں جو ہماری سیاسی ضرورت بنتے ہیں۔ سیاسی بنیادوں پر موجود تقرریوں کا خاتمہ کرکے میرٹ پر افراد کا چناؤ  او ران کے سامنے ایک واضح ایجنڈا موجود ہو کہ وہ پاکستان کے حق میں مقدمہ کیسے لڑسکتے ہیں۔ اس محاذ پر ہمیں ایک ذمہ دار میڈیا کی بھی ضرورت ہے جو قومی یا ریاستی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی میڈیا کا مقابلہ بھی کرسکے۔

اس محاذپر پاکستان کو بڑی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے او راسی طرح ہماری داخلی سیاست میں موجود تقسیم کو کم کرکے خارجہ پالیسی میں ریاستی مفادات کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔بنیادی نکتہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں اور ہر اس عمل کو ختم کریں گے جو امن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔