پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ پر ڈالنے کی بے بنیاد خبریں
- جمعہ 23 / اگست / 2019
- 5390
وزارت خزانہ نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ذیلی تنظیم ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی رپورٹس کو ’من گھڑت اور بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔
بھارت کے مختلف خبررساں اداروں میں نشر اور شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے تاہم ان خبروں کے ذرائع کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ اے پی جی نے حال ہی میں آسٹریلین دارالحکومت کینبرا میں مالیاتی اور انشورنس کے شعبے میں نظام کی بہتری کے سلسلے میں پاکستان کی کارکردگی کا 5 سالہ جائزہ مکمل کیا۔
جس کے بعد اے پی جی کے بیان میں بتایا گیا کہ تنظیم کے سالانہ اجلاس اور سالانہ تکنیکی معاون فورم رواں ہفتے 18 سے 23 اگست تک منعقد ہوا ۔ بیان میں اے پی جی نے پاکستان، چین، تائی پے، ہانک کانگ، فلپائن اور سولومون آئی لینڈ کے لیے 6 باہمی جائزہ رپورٹس منظور کیں تاہم اس بیان میں کہیں بھی یہ درج نہیں تھا کہ پاکستان یا کسی بھی اور ملک کو بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ اے پی جی کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی تیسری باہمی جائزہ رپورٹ کو منظور کرلیا گیا اور طریقہ کار کے تیسرے مرحلے کے تحت پاکستان کو موثر اور تیز نگرانی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
اے پی جی کے حالیہ اجلاس کے تناطر میں پاکستان کو سہ ماہی بنیادوں پر اے پی جی کو اپنی فہرست ارسال کرنا ہوگی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ اے پی جی اجلاس میں ایسے متعدد چیزوں کی نشاندہی کی گئی جس میں انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات میں بہتری ہوسکتی ہے۔
اکتوبر تک پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے اخراج کا فیصلہ تین مختلف جائزوں کے بعد کیا جائے گا جو ابھی پیش رفت کے مرحلے میں ہیں۔ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں 5 سمتبر سے باہمی جائزہ کا ایک دور شروع ہوگا جو ایف اے ٹی ایف کے منصوبوں اور ورکنگ گروپ کے حوالے سے 13 سے 18 اکتوبر تک پیرس اجلاس میں پاکستان کے لیے کیے جانے والے حتمی جائزے کی بنیاد ہوگا۔