سپریم کورٹ نے ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سنا دیا، نواز شریف کی سزا پر رائے دینے سے گریز

  • جمعہ 23 / اگست / 2019
  • 4280

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ایف آئی اے بھی ویڈیو کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس لیے سپریم کورٹ اس معاملہ پر مداخلت نہیں کرسکتی۔

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے لکھا ہے۔  فیصلہ میں انہوں نے کہا کہ کیس میں 5 بنایدی سوال  سامنے آئے تھے۔ پہلا معاملہ یہ تھا کہ کونسا فورم ویڈیو پر فیصلہ دے سکتا ہے؟ دوسرا پہلو یہ تھا کہ ویڈیو کو اصل کیسے جانا جائے؟  تیسرا سوال یہ تھا کہ اگر ویڈیو اصل ہے تو اسے عدالت میں کیسے ثابت کیا جا سکے گا؟  چوتھا سوال یہ تھا کہ ویڈیو اصل ثابت ہونے پر نواز شریف کی سزا پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟ جبکہ پانچواں پہلو احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے کردار سے متعلق تھا۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر چیف جسٹس کا تحریر کردہ کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں سپریم کورٹ فی الحال مداخلت نہیں کر رہی۔ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے لہٰذا کیس سے متعلق تمام درخواستیں نمٹائی جارہی ہیں۔

فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ویڈیو کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جب تک صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا جاتا، اس وقت تک اس کا نواز شریف کو کوئی قانونی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ ہائی کورٹ ویڈیو کے مصدقہ ہونے کا فیصلہ کرے گی اور پھر ثابت ہوگا کہ اسے قانونی طور پر کیس میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

چیف جسٹس نے لکھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو دیکھنا ہوگا کہ ویڈیو کا جج کے فیصلوں پر کیا اثر پڑا۔ ہائی کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ احتساب عدالت کے جج کی طرف سے دیے گئے فیصلے میں شہادتوں کا جائزہ لے کر اس سزا کو ختم کردے۔ وہ دستیاب شہادتوں کو سامنے رکھ کر بھی کوئی فیصلہ دے سکتی ہے۔ ہائی کورٹ چاہے تو فیصلے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھی بھیج سکتی ہے اور ٹرائل کورٹ فریقین کو سن کر کیس سے متعلق فیصلہ کر سکتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ  پہلے ہی ویڈیو کی تحقیقات کر رہا ہے اس لیے ویڈیو مستند ہے یا نہیں اس کا ابھی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا اور اس موقع پر ویڈیو اور اس کے اثرات پر کوئی رائے دینا مناسب نہیں سمجھتے۔ ارشد ملک کا بیان حلفی اور پریس ریلیز ایک تلخ حقیقت ہے جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ بلیک میل ہوئے۔ جج کا یہ تسلیم کرنا ہمارے لیے چونکا دینے کے مترادف ہے اور ویڈیو پر ارشد ملک کے بیانات ان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جج ایسے لوگوں سے ذاتی ملاقاتیں کرتے رہے جو ملزمان کے ساتھی تھے، وہ ملزم کو سزا دینے کے بعد بھی دوسرے شہر جاکر اس سے ملے۔ جج ملزم کے بیٹے سے دوسرے ملک جاکر بھی ملے۔ جج اپنے ہی فیصلے میں مجرم ثابت کرنے والے شخص کی اپیل میں مددگار بنا۔ جج نے ملزم کے بیٹے سے ملاقات میں اپنے ہی فیصلے کی کمزوریاں بتائیں۔ ارشد ملک کو دھمکیاں، رشوت کی پیشکش ہوئی لیکن انہوں نے اعلیٰ حکام کو آگاہ نہیں کیا اور دھمکیوں، رشوت کی آفر کے باوجود وہ کیس سے الگ نہیں ہوئے۔ جج کا طرز عمل ادارے کے لیے بدنما داغ کی طرح ہے اور ان کی مکروہ حرکتوں سے ہزاروں ایماندار ججوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔