نا تواں معاشی صورتحال اور سفارتی محاذ پر در پیش چیلنجز

وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف اور  اس کی اتحادی جماعتوں کی حکومت نے پہلا سال مکمل کر لیا ہے یہ سال سیاسی اور معاشی چیلنجز سے بھرپور تھا۔ اس کے ساتھ دفاعی اور سفارتی محاذ پر نئے چیلنجز در پیش ہیں۔

 بھارت نے آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا ہے۔ اس ترمیم کا مقصد وادی کشمیر کی آبادی کی ہیت میں تبدیلی لانا ہے جس کیلئے فلسطینی ماڈل کی طرح ہندوستان سے ہندؤں کو کشمیر لا کر بسایا جائے گا۔ پاکستان میں بھارت کے ا س یک طرفہ اور غیر قانونی اقدام کے خلاف اقوام متحدہ کی صدارتی کونسل سے رجوع کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق یہ علاقہ متنازع ہے جس کو سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کو حل طلب قرار دیاہے۔ مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں جنگ کے  سائے منڈلا رہے ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے عمران خان نے بھارتی اقدام کے خلاف جو تقاریر کی ہیں ان میں ماضی کے بر عکس اپوزیشن راہنماؤں پر الزامات لگانے سے گریز کیا ہے۔

 کشمیر میں ہندوستان کی طرف سے کی جانے والی ڈرامائی تبدیلی کے پس منظر میں پاکستانی معیشت کے بارے میں خبریں دب سی گئی ہیں۔سی پیک کے محاذ پر مکمل خاموشی ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر زیادہ خبریں اور پروگرام کشمیر کی بدلتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے ہیں۔ سماجی، معاشی اور سیاسی پیش رفت کے حوالے سے بہت کم پروگرام ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جو اہم موضوع ہے وہ اپوزیشن لیڈروں کے احتساب کے حوالے سے ہے جس سے تاثر ملتا ہے ملک میں کرپشن پر قابو پا لیا گیا ہے۔ حالانکہ صورتحال اس سے بر عکس ہے۔ہمارا تمام سیاسی اور معاشی ڈھانچہ بد عنوانی اور کالے دھن کی بنیادوں پر قائم ہے۔ تمام اداروں میں کرپشن اور کمیشنوں کا دھندہ جاری ہے۔ اس کے بغیر کوئی جائز کام بھی نہیں کروایا جا سکتا ہے، افسران خوف و ہراس کی صورتحال سے دو چار جائز کام کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ اس طرح معاشی، انتظامی اور سماجی حوالے سے ہونے والی ہر پیش رفت رک گئی ہے جس سے معیشت کا پہیہ جامد دکھائی دیتا ہے۔

موجودہ حکومت چونکہ غریب طبقات کی نمائندہ نہیں ہے اس کے امیر طبقات اور مڈل کلاس نے عام آدمی کی حالت سنوارنے کی بجائے احتساب اور لوٹی ہوئی دولت لانے کیلئے ووٹ دیئے ہیں۔ اس کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کھانے پینے کی چیزیں غریب لوگوں کی دسترس سے باہر ہو گئی ہیں۔ لوگ اپنے بچوں کو سکولوں سے اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے بچوں کا پیٹ بھریں یا انہیں تعلیم دلائیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹوں علاج معالجے اور دوائیوں کی سہولتیں ختم کر دی گئی ہیں، تعلیمی بجٹ بڑھانے کی بجائے کم کر دیا گیا ہے سرکاری وظائف ختم ہو چکے ہیں۔ یونیورسٹیوں کو کہاجا رہا ہے کہ وہ فیسیں بڑھائیں یا لوگوں سے چندہ حاصل کر کے اپنے اخراجات پورے کریں۔

 اس حکومت نے بی اے اور ایم اے کی دو سالہ ڈگریاں ختم کر دی ہیں جس کی وجہ سے چار سالہ ڈگری وہی طلبہ مکمل کر سکیں گے جن کے والدین مالی وسائل رکھتے ہوں۔ وگرنہ عام مزدور یا غریب کا بیٹا ایف اے سے آگے تعلیم حاصل نہیں کر سکتا۔ اگر دیکھا جائے کوئی معاملہ حکومت سے درست طریقہ سے نہیں چلایا جا رہا ہے بلکہ ہر طرف انتظامی اور مالی بد انتظامیاں دیکھائی دیتی ہیں۔ کیونکہ پی ٹی آئی قیادت کے پاس معاشی اور سماجی سدھار کا کوئی روڈ میپ موجود نہیں ہے۔ اگر موجود ہے تو صرف احتساب کا نعرہ جس کے خوف سے تمام تجارتی اور انتظامی سر گرمیاں جمود سے دو چار ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ حکومت پر اعتماد کی کمی ہے اور اس کی پالیسیاں ہیں جس میں کوئی سرمایہ کار سرمایہ کاری کا رسک نہیں لینا چاہتا، اس ضمن میں صنعت کاروں اور کاروباری حلقوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے سے قبل عوام سے خوشنما وعدے کیے تھے جو پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے 7.5کھرب روپے کا قرضہ لیا ہے گیس کی قیمتوں میں 333%اضافہ کیا گیا بجلی کی قیمتوں میں 3روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے، ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کر کے 1.3کھرب روپے کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے، بجٹ خسارہ 1.7 کھرب رہا ہے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں 29%کمی ہوئی ہے اسٹیٹ بینک نے شرح سود 7.50%سے بڑھا کر 13.25%کر دی ہے جس کی وجہ سے صنعتوں کیلئے قرضے نہیں حاصل کیے جا رہے ہیں۔اور زیادہ تر قرضے حکومت اپنے جاری اخراجات چلانے کیلئے بینکوں سے حاصل کر رہی ہے۔

 موجودہ حکومت کے کچھ مثبت اقدامات بھی نظر آ ئے ہیں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 6.3بلین ڈالر کمی ہوئی ہے تجارتی خسارے میں 5.76ارب ڈالر کمی ہوئی ہے جس کی وجہ صنعتوں کی بندش ہے اور خام مال اور مشینری کی امپورٹ میں کمی ہے۔ ترسیلات زر میں دو ارب ڈالر کااضافہ ہوا ہے جس کو حکومت اپنا کار نامہ قرار دیتی ہے۔ پاکستان کے بیشتر لوگ بے روز گاری کی وجہ سے بیرون ملک زیادہ کمانے کیلئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ بہتر روز گار کیلئے برین ڈرین ایج ہو رہا ہے۔ اگر پاکستان میں روز گار کے بہتر مواقع مہیا ہوں تو کوئی شخص اپنے ملک کو چھوڑ نے کے بارے میں سوچ نہیں سکتا۔

 حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ ستر  فیصدسے زیادہ آبادی کو کوئی ریلیف نہیں دے سکی  مگر اس نے حال ہی میں ملک کے بڑے صنعتی کارٹیل، کھاد، سمینٹ، ایل این جی، ٹیکسٹائل اور پاور سیکٹر کے لوگوں کو قرضوں اور ٹیکسوں کے سلسلے میں ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن کی مالیت 461ارب تک ہے جو کہ کل ادا کی جانے والی رقوم کا آدھا ہے۔ جن کے خلاف ان اداروں نے عدالتوں میں اپیلیں کر رکھی ہیں۔یاد رہے کہ یہ پیسہ ہمارے جمع کردہ ٹیکسوں سے ادا کیا جائے گا جس سے زیادہ سندھ کے صنعت کار فیض یاب ہوں گے۔  ان قرضوں کی مالیت 2001سے2009کے دوران معاف کیے جانے والے مجموعی قرضوں کی کل مالیت سے زیادہ ہوگی۔ پاکستان کے سرمایہ دار اور صنعت کار ہمیشہ قوم سے ریلیف حاصل کرتے رہے ہیں جبکہ انہوں نے صنعتوں کو جدید بنانے کیلئے سرمایہ کاری نہیں کی۔

 ہماری حکومت نے پچھلی حکومتوں کے قرضوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنا رہی ہے او ر اس کے بر عکس خود قرضے لیے جا رہی ہے۔  پچھلے دس سال کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار  ارب  روپے اضافہ ہوا تھا لیکن موجودہ حکومت جس تیز رفتاری سے قرضے لے رہی ہے لگتا ہے اگلے پانچ سالوں میں قرضے دوگنے ہو جائیں گے۔  ملک کی مجموعی قومی پیدا وار کی شرح نمو2.4%رہے گی جس سے بے روز گاری اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ موجودہ حکومت نے نیو لبرل ایجنڈے کے تخت نہ کوئی صنعت کاری اور سرمایہ کاری کا امکان ہے اور نہ ہی عوام کی کسی بہتری اور آسودگی کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی معیشت کی بحالی اور غریب طبقات کو ریلیف دینا موجودہ پاپو لر جماعتوں کے ایجنڈے پر نہیں ہے۔ ہمیں جذباتی تجزیے سے گریز کرنا چاہیے اور اپنے کمزور معاشی تناظر میں جنگی تضادات کونہیں ابھارنے چاہیے۔ جس سے معاشی سر گرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ہم کمزور معیشت کے ساتھ جنگ لڑنے کا تصور نہیں کر سکتے۔اس لے کشمیر کے تنازعہ کے حل کیلئے سفارتی سطح پر کوششوں کو جاری رکھنا چاہیے۔ تا کہ عالمی رائے عامہ کی توجہ اس انسانی مسئلے کی طرف دلائی جا سکے۔