ایک زندگی میں کئی زندگیاں جینے کا فن
- تحریر
- ہفتہ 24 / اگست / 2019
- 6660
معذرت کہ اس تقریب میں شریک نہ ہوسکوں گا؟ ہم نے پوچھا، خیریت؟ میں پرسوں ایک ہفتے کے لئے برطانیہ جا رہا ہوں، ٹیکسٹائل انسٹی ٹیوٹ آف مانچسٹر کی جانب سے اپنی پچاس سالہ خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ایوارڈ لینے کے لئے جانا ضروری ہے۔ ہنستے ہوئے انہوں نے اپنی معذرت کی وجہ بیان کی۔
یہ سنتے ہی ہم نے انہیں مبارک سلامت دی۔ ان کی خدمات اور طویل کیرئیر کا ذکر کیا اور پوچھا کہ پاکستان میں اور کس کس کو یہ ایوراڈ مل چکا ہے؟ بولے، کسی بھی پاکستانی کو اب تک یہ ایوراڈ نہیں ملا۔ اب ہماری حیران ہونے کی باری تھی۔ یہ ٹیکسٹائل اندسٹری کے معروف پروفیشنل سید محفوظ قطب تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے پچاس سال سے زائداس شعبے کی نذر کئے اور عالمی سطح کے ایک طویل تاریخ کے حامل موقر ادارے سے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوایا، یوں پہلی بار اس ادارے نے کسی پاکستانی کو اس اعزاز سے نوازا۔
پاکستان کی سب سے بڑی انڈسٹری ٹیکسٹائلز کی ہے، دنیا میں کپاس پیدا کرنے والا چوتھا سب سے بڑا ملک اور برآمدات کا نصف سے زائد برآمدات ٹیکسٹائل پر مشتمل ہونے کے باوجود ہمارے پروفیشنلز کی عالمی سطح پر نہ ہونے کے برابر پذیرائی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ تیس سال سے زائد اسی انڈسٹری سے وابستہ رہنے اور اسی سلسلے میں ملکوں ملکوں گھومنے کے بعد ہمیں اس امر کا بہت پہلے اندازہ ہو گیا تھا کہ انڈسٹری کی ترقی صرف چند کمپنیوں کے منافع اور پیداواری گنجائش کی دھڑا دھڑ توسیع کا نام نہیں۔
اس انڈسٹری میں کام کرنے والے پروفیشنلز کی مہارت، ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ، تخلیقی صنّاعی اور ان کی محنت کا ادراک اور اعتراف بھی اس انڈسٹری کی ترقی کے لئے ناگزیر ہے جیسا کہ دنیا بھر میں یہ دستور ہے۔ تاہم ہمارے ہاں پالیسی لیول پر گھوم پھر کر بات سیکٹر سطح کی کچھ سہولیات اور مراعات تک محدود رہتی ہے۔ ہیومن ریسورس کی حوصلہ افزائی، افزائش اور قدر کے مراحل بالعموم کبھی بھی مل مالکان کو بھائے نہ حکومتی سطح پر اس کا ادراک ہوا۔ ایسے میں حیرت ہوتی ہے جب ہم بار بار ایک سوال کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش او ر ویت نام کیسے دیکھتے ہی دیکھتے ہم سے آگے نکل گئے اور ہم ہیں کہ اسی گھن چکر میں کل بھی تھے اور آج بھی ہیں!
زبانی جمع خرچ پر اصرار اور دنیا کی ایک بڑی ٹیکسٹائل اندسٹری رکھنے پر جا و بے جا فخر ہمارا عمومی شعار رہا ہے۔ جب کبھی دنیا کے بہترین Bench marks پر پر انڈسٹری کے مختلف شعبوں کا کوئی عالمی تقابل سامنے آیا تو جو چند بنیادی امور سامنے آئے وہ چشم کشا تھے۔ مثلا ہم دنیا کی بہترین کاروباری اور پیداواری پیمانوں کو رو بہ عمل لانے کی بجائے اپنے روایتی معیارات پر مصر رہتے ہیں۔ پیداواری طور طریقوں اور انسانی ڈویلپمنٹ کے ذریعے پیداواری کارکردگی (Productivity)بڑھانے کے جدید انداز سے اغماض اور بے اعتنائی بھی ہمارا امتیاز رہا ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان کی صنعتی ترقی میں ابتدائی دو دہائیوں میں کوالٹی، پیداواری پروسیس اور جدت یعنی Innovation and develoment نے صنعتی میدان میں جاپان کا نام Copy cat یعنی نقل باز سے اٹھا کر جدت طرازوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ پچاس کی دہائی میں نقل کے لئے معروف جاپان اب کئی دہائیوں سے جدت اور ٹیکنالوجی کا معیار کہلاتا ہے۔ کوالٹی کے اس انقلاب میں ایک امریکی ماہر ڈاکٹر Deming کا بہت بڑا کردار ہے جن کی سجھائی ہوئی statistical ا ور دیگر کوالٹی آئیڈیاز کو جاپانیوں نے مشعلِ راہ بنا لیا۔
جنوبی کوریا کی ترقی کی بھی ہمارے ہاں بہت دھوم ہے۔ ہمیں بہت دفعہ کوریا جانے کا موقع ملا۔ کوریا کی صنعتی ترقی کی رفتار اور انداز حیران کن ہے۔ ساٹھ، ستر اور اسی کی دہائی میں کوریا میں لیبر کے حالت کار بہت دگرگوں تھے لیکن پھر اسی صنعتی ترقی کے عمل سے نئی نسل کے لئے خوشحالی اور ہائی ٹیک کا یک نیا دور شروع ہوا۔
ہمیں ایک کورین ٹیکسٹائل کنسلٹنٹ کا تجربہ یاد آ رہاہے ، وہ اس کورین نسل میں سے تھے جنہیں لڑکپن اور جوانی کی اپنی غربت او ر محنت پر فخر تھا کہ ان کی ایک وقت کے کھانے کی سکت اور محنت نے کوریا کی صنعتی ترقی کی بنیاد رکھی۔ جانے عمر کا تقاضا تھا یا نئی نسل کے ساتھ جنریشن گیپ کا، وہ بار بار دہراتے تھے کہ نئی نسل اب بہت آرام طلب ہوگئی ہے، یہ اب تھری ڈی کام سے کتراتے ہیں یعنی Difficult, Dangerous and Dirty۔ ان کی روایتی قوم پرستی اور اپنی پوری نسل کی جوانیاں تھری ڈی پیشہ ورانہ مہارتوں کی نذر کرنے کے جذبے پر بار بار فخر پر فیض احمد فیض یاد آئے:
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
سید محفوظ قطب اب عمر کی پچاسی چھیاسی بہاریں دیکھ چکے ہیں لیکن پھر بھی بہت ایکٹیو ہیں۔ ان کی زندگی بہت سے پروفیشنلز کے لئے عمدہ نمونہ ہے، نہ صرف پروفیشن میں لگن اور ناموری کے حصول کے لئے بلکہ ان کی شخصیت کے بہت سے دیگر پہلو انہیں عام پروفیشنلز سے نمایاں کرتے ہیں۔ یہ مطالعے کے شوقین ہیں، نئی سے نئی ٹیکنالوجی سیکھنے کے لئے ہمہ وقت تیارر رہتے ہیں۔ یونی ورسٹی میں پڑھاتے بھی رہے، اٹھارہ سال سے معروف انڈسٹری میگزین پاکستان ٹیکسٹائل جرنل کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ پاکستان میں دی ٹیکسٹائل انسٹی ٹیوٹ آف مانچسٹر کی سرگرمیوں کے روح رواں ہیں، کانفرنسوں اور سیمینارز میں بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ پاکستان میں ماضی قریب میں سولہ اور بنگلہ دیش میں چھ کمپنیوں کی بطور کنسلٹنٹ رہنمائی کی۔
پروفیشنل میدان میں ان کی خدمات اپنی جگہ لیکن ہمیں ان کے ذاتی مشاغل کی انفرادیت نے زیادہ متاثر کیا۔ وہ اقبالیات کے ماہر ہیں، اقبا ل فورم لاہور کے سرگرم ممبر ہیں۔ فارسی زبان اور فارسی شاعری پر عبور رکھتے ہیں۔ خطاطی کا شوق بھی ہے اور اس میں مہارت بھی رکھتے ہیں۔ ان کا کتب خانہ بھی دیکھنے کی شے ہے جو نئی اور پرانی کتب کا ایک وسیع خزانہ ہے۔ اس کے علاوہ انہیں نادر اشیاء جمع کرنے کا شوق ہے۔ انہوں نے دنیا بھر سے منفرد چاقو، سِکے اور پوسٹل اسٹیمپس کی بھی اچھی خاصی کولیکشن کر رکھی ہے۔
ہمیں جب بھی ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا تو ان پر رشک آیا کہ کس طرح انہوں نے اپنی ایک زندگی میں کئی زندگیوں کے برابر کام اور مشاغل انجام دے ڈالے۔ پروفیشنلز عموما ٌ اپنے فیلڈ میں اتنا محو رہتے ہیں کہ زندگی کی بہت سے لطافتوں اور نرم رو پہلوؤں سے اکثر لاپروا سے رہتے ہیں لیکن محفوظ قطب کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انسان اگر چاہے تو ایک زندگی میں کئی زندگیاں جی سکتا ہے۔ ان جیسے ماہرین کی اگر ملکی سطح پر بروقت پزیرائی کی جائے اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے تو ہمارے ہاں بھی ہیومن ریسورس کا ایسا وسیع پو ل بن سکتا ہے جس کی مدد سے جاپان اور کوریا جیسے ممالک نے اپنی انڈسٹری کی Productivity کو زمین سے اٹھا کر آسمان تک لے جانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
دنیا بھر کی معاشی ترقی کا مرکزی کردار ہیومن ریسورس کی قدر اور ان کی صلاحیتوں کو مسلسل جِلا بخشنے کا موافق ماحول اور ان کی پذیرائی ہے۔ پاکستان کو اپنی صنعتی پیداوار میں کمی اور low value added کی موجودہ دلدل سے نکلنے اور صنعتی ترقی کی راہ پر دنیا کے ہم قدم ہونے کے لئے ان پالیسیوں کی کل بھی ضرورت تھی اور آج گزرے کل سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔