2008 میں مسلم لیگ (ق) کو جتوانے کا منصوبہ تھا: وفاقی وزیر داخلہ

  • اتوار 25 / اگست / 2019
  • 5340

وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد نواز شریف توبہ کرلیں اور اپنے ’کمائے‘ ہوئے پیسوں میں سے آدھی رقم واپس کردیں تو وہ ان کی رہائی کی ضمانت دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے 2008 مسلم لیگ (ق) کو جتوانے کے منصوبہ کا انکشاف بھی کیا۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے ایک پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ وہ توبہ نہیں کرتے۔  سابق وزیراعظم کی رہائی سے متعلق سوال کے جواب میں اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف توبہ کرلیں اور جتنا ’کمایا‘ ہے اس کی آدھی رقم ہی لوٹا دیں تو میں ان کی رہائی کی ضمانت دیتا ہوں۔

ملک میں جاری احتساب سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ہو رہا ہے کیونکہ یہ لوگ تو ’بغیر مال بنائے‘ ہی اندر جارہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے حکومت کے ساتھ اتحاد کے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان والے ہمارے ساتھ ضرور بیٹھے ہیں لیکن وہ بانی متحدہ کے نظریے کے ساتھ نہیں۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وزیراعظم عمران خان کی حکومت سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی پارٹی کا تسلسل ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر یہ اس کا تسلسل ہوتا تو پارٹی اس میں ضم ہوجاتی۔ لیکن میں تو کسی جماعت کا حصہ ہی نہیں رہا۔  تو بعد میں تحریک انصاف میں شامل ہوا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ 2008 میں انہوں نے استعفیٰ اس لیے دیا کیونکہ انہوں نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ مسلم لیگ (ق) کو جتوانے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اس فیصلے کو بعد میں تبدیل کر لیا گیا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیاب کروانے کا منصوبہ بنایا گیا اور آرمی چیف نے مجھے نامزد کیا جبکہ مسلم لیگ (ق) کی پیپلز پارٹی کے ساتھ ڈیل بھی، انہوں نے ہی کروائی تھی۔ جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو کامیاب ملی۔

تاہم انہوں نے ساتھ ساتھ یہ بھی انکشاف کیا کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو منصوبے سے کچھ زیادہ نشستیں ملیں۔