پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر خود حل کرسکتے ہیں: امریکی صدر
- سوموار 26 / اگست / 2019
- 5260
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت باہمی طور پر مسئلہ کشمیر حل کر سکتے ہیں۔ تاہم ہم ان دونوں ممالک کی مدد کے لیے موجود ہیں۔
پیرس میں جی-7 کانفرنس کے موقع پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان علیحدہ ملاقات ہوئی۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر حل کروانے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کیا۔ امریکی صدر نے اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ بھارتی وزیر اعظم نے ان سے کہا ہے کہ ’کشمیر ہمارے کنٹرول میں ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ رات اسی معاملے پر بات کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ بھارتی وزیراعظم اپنے پاکستانی ہم منصب سے بات کریں گے اور دونوں بہتر نتیجے پر پہنچیں گے۔ کیونکہ دونوں ممالک اپنے طور پر مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔‘
بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق نریندر مودی کا کہنا تھا کہ نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان تمام مسائل دوطرفہ نوعیت کے ہیں، اسی لیے کسی دوسرے ملک کو اس میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔‘ بھارت اور پاکستان 1947 سے قبل ایک ساتھ تھے۔ تاہم امید ہے کہ ہم ساتھ بیٹھ کر اپنے تمام مسائل حل کرسکتے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے کہا تھا کہ ہمیں دونوں ممالک کی فلاح کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
بھارت نے 5 اگست کو آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا جس کے بعد پاکستان کا عالمی سطح پر احتجاج جاری ہے۔ وزیراعظم پاکستان اور وزیر خارجہ نے عالمی طاقتوں سے رابطے کرکے انہیں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ بھارتی حکومت کی پالیسی انتہا پسند آر ایس ایس کی پالیسی جیسی ہے جو خطہ ہمالیہ میں ہندو بالادستی قائم کرنے پر کام کر رہی ہے۔