پاکستان آخر دم تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا: عمران خان
- سوموار 26 / اگست / 2019
- 5190
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کا فیصلہ کن وقت آگیا ہے۔ مودی کی غلطی سے کشمیر کے لوگوں کو آزاد ہونے کا تاریخی موقع ملا ہے۔
قوم سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں صرف کشمیر پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ کشمیر کی صورتحال کیا ہے، ہم نے اب تک کیا اقدامات کیے اور آگے کیا کرنے والے ہیں۔ ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں پاکستان کی کشمیر پالیسی کا فیصلہ کن وقت آگیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پوری پاکستانی قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ہماری پہلی کوشش تھی کہ ملک میں امن پیدا کریں تاکہ لوگوں کے لیے روزگار، تجارت بڑھائیں کیونکہ ہمارے مسئلے وہی ہیں جو بھارت کے ہیں۔ وہاں بھی بے روزگاری، مہنگائی، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دونوں ممالک کو مشکلات کا سامنا ہوگا اس لیے ہماری کوشش تھی کہ سب سے دوستی کریں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ہم نے قیام امن کے عمل کی کوشش کی کہ وہاں کے مسئلے کا پُرامن سیاسی حل نکل آئے اور یہ سلسلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم نے حکومت میں آتے ہی بھارت کو کہا کہ آپ ایک قدم بڑھائیں ہم آپ کی طرف 2 قدم بڑھائیں گے اور کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرلیں گے۔ لیکن شروع سے ہی مسائل کا آغاز ہوگیا۔ بھارت سے مذاکرات کی بات کرتے تو وہ کوئی اور بات شروع کردیتے تھے اور کسی نہ کسی طرح پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے کا موقع ڈھونڈتے تھے۔ ہم نے سمجھا کہ بھارت میں انتخابات قریب ہیں، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلمان اور پاکستان مخالف مہم چل رہی تھی۔ تو ہم پیچھے ہٹ گئے اور اس کے بعد پلوامہ کا واقعہ ہوگیا۔
بھارت نے اس واقعے کا جائزہ لینے کے بجائے پاکستان کے اوپر انگلی اٹھائی اور موقع ڈھونڈا تاکہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم سے دنیا کی نظر ہٹ جائے اور سارا بوجھ پاکستان پر ڈالا جائے۔ بھارت نے یہی کیا جبکہ ہم نے کہا تھا کہ اگر کوئی ثبوت ہے تو فراہم کریں ہم کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سوچا جب بھارت میں انتخابات ہوجائیں گے تو ایک نئی صورتحال پیدا ہوگی اور شاید بھارتی حکومت بات چیت کے لیے تیار ہوجائے گی۔ لیکن الیکشن کے بعد ہم نے دیکھا کہ بھارت نے پوری کوشش کی، پاکستان کو دیوالیہ کیا جائے اور فنانسل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کی۔ تب ہم نے سوچا کہ بھارت سے بات چیت کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
عمران خان نے کہا کہ ہم دیکھ رہے تھے کہ بھارت اب کیا کرتا ہے کہ اس نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوج بھیج کر فیصلہ کیا کہ کشمیر اب بھارت کا حصہ بن گیا جبکہ اس فیصلے سے بھارت نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل کی قراردادوں، آئین، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی۔
انہوں نے کہا بھارت اس طرح اپنے بانیوں گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے خلاف گیا۔ نہرو کے کشمیر کے لوگوں سے کیے گئے وعدوں کے خلاف گیا۔ یہی نہیں بلکہ اس سیکولر آئین جس کے تحت وہ کہتے تھے کہ ہندوستان سب کا ہے، سب برابر کے شہری ہیں اور پاکستان بننا غلط تھا۔ بھارت نے اس سیکولرزم کو بھی ختم کردیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت نے پیغام دیا کہ بھارت صرف ہندوؤں کا ہے اور باقی سب دوسرے درجے کے شہری ہیں، جو بی جے پی کے نظریاتی حصے راشتریہ سوایم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا فلسفہ ہے۔
آر ایس ایس کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آر ایس ایس 1925 میں بنی تھی جبکہ بی جے پی تو ابھی بنی ہے۔ نریندر مودی اس جماعت کے رکن رہ چکے ہیں۔ آر ایس ایس کا نظریہ تھا ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے اور انگریزوں سے آزادی ملنے سے ہندو راج کا وقت آگیا ہے۔ اس میں مسلمانوں سے نفرت موجود تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہندو ایک عظیم قوم تھی لیکن کئی صدیوں سے مسلمانوں کی حکومت کی وجہ سے وہ عظیم قوم نہیں بن سکی اور اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کو سبق سکھایا جائے۔
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ اسی لیے آر ایس ایس، ہٹلر اور مسولینی (جو کہ فاشسٹ تھے) انہیں بہت عظیم سمجھتے تھے اور آر ایس ایس کے بانی فاشزم اور نسل پرست نظریات کو مانتے تھے۔ اسی نظریے نے آزادی کے بعد مہاتما گاندھی کو قتل کیا جبکہ بھارت کی ہی حکومت نے 2 سے 3 مرتبہ آر ایس ایس کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی عائد کی تھی۔ قائداعظم نے بھی اسی نظریے کو دیکھ کر تحریک پاکستان میں شروع کی اور مسلمانوں کو بتایا کہ انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں جارہے ہیں اس لیے آپ کو پاکستان کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے دنیا سے جانے کے بعد آہستہ آہستہ یہ نظریہ بھارت میں پھیلتا رہا۔ اس نظریے نے بابری مسجد کو تباہ کیا، گجرات میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا، یہ وہ نظریہ ہے جو سڑکوں پر لوگوں کو پکڑ پکڑ ڈنڈوں سے مارتا ہے۔
بی جے پی سے پہلے کانگریس کے دورِ حکومت میں بھارتی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ آر ایس ایس کے کیمپوں میں دہشت گرد پیدا ہورہے ہیں۔ یہ وہ دہشت گرد ہیں جو سڑکوں پر جا کر لوگوں کو مار رہے ہیں، انہوں نے عیسائیوں اور گرجا گھروں پر تشدد کیا اور یہی وہ نظریہ ہے جو بھارت پر حکومت کر رہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے اور آر ایس ایس کے نظریے میں یہی فرق ہے۔ ہمارا نظریہ قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر مبنی ہے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، وہ مدینہ کی ریاست ہے اور مدینہ کی ریاست کے اندر میثاق مدینہ ہوا کہ قیامت تک عبادت گاہوں کو تحفظ دیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ حضرت علیؓ کا اسلام میں ایک مقام تھا، وہ خلیفہ وقت تھے اور ایک اقلیتی شہری ان سے کیس جیت جاتا ہے۔ اسلام نے اپنے اقلیتی شہریوں کو اس طرح کا تحفظ دیا تھا، جس کا آج دنیا میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا اگر پاکستانی اپنی اقلیتوں سے ناانصافی کرتا ہے تو وہ اپنے دین اور نظریے کے خلاف جاتا ہے لیکن اگر آر ایس ایس اور بی جے پی اقلیتوں سے ظلم کرتی ہے تو یہ ان کا نظریہ ہے۔
دوران خطاب وزیراعظم نے کہا کہ نریندر مودی سے بہت بڑی غلطی ہوگئی اور وقت ثابت کرے گا کہ کشمیر کے لوگوں کو ان کی غلطی کی وجہ سے آزاد ہونے کا تاریخی موقع مل گیا ہے۔ بھارت سے یہ غلطی تکبر میں ہوئی۔ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں بڑے بڑے فرعون آئے لیکن تکبر سے انہوں نے ایسی غلطیاں کیں کہ ان کی تباہی ہوئی، ہٹلر اور نپولین 2 بڑی طاقتیں تکبر سے تباہ ہوئیں۔
عمران خان نے کہا کہ تکبر کی وجہ سے نریندر مودی نے تاریخی غلطی کی ہے۔ انہوں نے سوچا تھا کہ یہ کشمیریوں پر اتنا تشدد کریں گے کہ وہ خاموش ہو کر بیٹھ جائیں گے اور دنیا کچھ نہیں کہے گی۔ دوسرا منصوبہ ان کا یہ تھا کہ وہ کہیں گے آزاد کشمیر سے دہشت گرد آرہے ہیں جس کی وجہ سے ہم یہاں دہشت گرد مارنے کے لیے آپریشن کرنے پر مجبور ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں پوری اطلاع مل چکی تھی کہ بھارت نے جس طرح پلوامہ کے بعد آزاد کشمیر میں بالاکوٹ پر حملہ کی کوشش کی تھی۔ اسی طرح کا حملہ کرنا تھا اور دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر سے ہٹا کر پاکستان کی طرف کردینی تھی۔
البتہ ہم 2 چیزوں میں کامیاب ہوگئے۔ ہم نے اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا۔ مختلف ممالک کے سربراہان، ان کے سفارت خانوں، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بات کی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو پیغام دیا جبکہ سلامتی کونسل نے 1965 کے بعد پہلی مرتبہ کشمیر پر اجلاس بلایا، جس سے یہ ہوا کہ وہ مسئلہ جس پر دنیا میں کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اسے بین الاقوامی تنازع سمجھا گیا۔
ہم نے بین الاقوامی میڈیا کو کئی مرتبہ بتایا، جس پر مقبوضہ کشمیر کو بین الاقوامی میڈیا میں کوریج ملی جبکہ مودی سمجھتا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ بھارت کا خیال تھا کہ آزاد کشمیر میں حملہ کرکے کہیں گے کہ یہاں سے دہشت گرد آرہے ہیں، ہم نے فوری طور پر پوری دنیا اور تمام سفارت خانوں کو بتادیا کہ بھارت کیا کرنے جارہا ہے۔ ہماری فوج بھی پوری طرح تیار ہوگئی اور اب ان کے لیے ایسا کچھ کرنا مشکل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کبھی مغرب میں، بھارتی میڈیا پر اتنی تنقید نہیں ہوئی جتنی آج ہورہی ہے ہم دنیا کو بار بار بتائیں گے کہ جیسے ہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھا وہاں کیا ہوا۔ اس مسئلے پر ساری قوم نے کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اور انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ساری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ میں کشمیر کا سفیر بنوں گا۔ کشمیر کے حالات، پیغام اور صورتحال کو دنیا اور بین الاقوامی میڈیا میں بتاؤں گا۔ جن ممالک کے سربراہان سے بات ہوئی ہے میں نے انہیں آگاہ کیا ہے اور جن سے بات ہوگی انہیں بھی بتاؤں گا کہ ہمارا مقابلہ کس سے ہے۔ یہ کوئی عام حکومت نہیں بلکہ ایک خوفناک نظریے پر چل رہی ہے جس نے پہلے دنیا میں بہت تباہی پھیلائی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ میں 27 ستمبر کو اپنی تقریر میں پوری دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق بتاؤں گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ مایوس ہوجاتے ہیں کہ مسلمان ممالک کچھ نہیں کررہے۔ اگر کئی مسلمان حکومتیں مجبوری یا تجارت کی وجہ سے آج ساتھ نہیں دے رہیں تو بعد میں ہمارا ساتھ دیں گی۔ بوسنیا میں جب مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا تو شروع میں کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا لیکن میڈیا کی وجہ سے حکومتیں ساتھ دینے پر مجبور ہوئیں۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ میں ذمہ داری لیتا ہوں کہ میں، ہمارے سفارت خانے، بیرون ملک پاکستانی، کشمیری، انسانی حقوق کی تنظیمیں سب اس مسئلے کو اٹھائیں گے اور تمام فورمز پر بتائیں گے کہ 80 لاکھ کشمیریوں پر کس طرح کا ظلم ہورہا ہے۔ بہت ضروری ہے کہ کشمیر کے ساتھ دنیا کھڑی ہو یا نہ ہو پاکستان کی حکومت اور عوام کھڑے ہوں اور ساری قوم پیغام دے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر ہفتے ایک تقریب منعقد کریں گے جس میں ساری قوم نکلے گی۔ ہمارے اسکولز، یونیورسٹیز اور دفاتر جانے والے افراد آدھے گھنٹے کے لیے کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس جمعے ( 30 اگست کو) دوپہر 12 سے 12:30 تک جہاں بھی ہوں کام روک کر آدھا گھنٹہ عوام کے ساتھ نکلنا ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم نے انہیں بتانا ہے کہ جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں ملتی ہم نے ان کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کے اجلاس تک دنیا کو بتانا ہے کشمیریوں کے ساتھ کیا ظلم ہورہا ہے اور کشمیریوں کو بتانا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بھارت نے آخری پتہ کھیل دیا ہے اس کے بعد اب وہ کچھ نہیں کرسکتا۔ اب ہم کریں گے اور دنیا کرے گی۔ اقوام متحدہ کے اوپر بہت بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ انہوں نے کشمیر کے لوگوں سے ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرنے کا حق دینے کا وعدہ کیا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ لیکن انہیں وہ حق نہیں دیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ پر ذمہ داری ہے کہ اب کشمیر میں جو ظلم ہورہا ہے اور جو ظلم ہونے جارہا ہے کیا وہ کمزور کی مدد کریں گے۔ اب تک اقوام متحدہ طاقت ور کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ سوا ارب مسلمان دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے تو اقوام متحدہ ان کی مدد کرے گی یا نہیں کیا بڑے بڑے ملک صرف اپنی مارکیٹس کی طرف ہی دیکھتے رہیں گے؟
نریندر مودی کی حکومت جس نظریے پر چل رہی ہے یہ مسئلہ جنگ کی طرف چلا گیا تو یاد رکھیں کہ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ جوہری جنگ میں کوئی بھی نہیں جیتے گا۔ صرف یہاں تباہی نہیں ہوگی بلکہ دنیا پر بھی اثر پڑے گا۔ عالمی برادری، سپر پاورز اور بڑے ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ دنیا ہمارے ساتھ آئے یا نہیں پاکستان تو ہر حد تک جائے گا ہر سطح پر آخری سانس تک کشمیریوں کا ساتھ دیں گے۔