افغانستان سے فوج کے انخلا کی کوئی جلدی نہیں: صدر ٹرمپ

  • منگل 27 / اگست / 2019
  • 4950

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا کوئی ٹائم فریم طے نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج افغانستان میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے موجود ہے۔

فرانس میں جی سیون ممالک کے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں افغانستان سے امریکی فوج نکالنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا ان مذاکرات کا محور ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ افغان حکومت اور طالبان سے بات چیت کر رہی ہے اب دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے بقول صدرٹرمپ کے بیان سے قبل امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ طالبان کے ساتھ ایک جامع امن معاہدے کا متمنی ہے۔

افغان امور کے ماہر اور صحافی طاہر خان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا بیان طالبان کو ایک پیغام بھی دینا ہے کہ امریکہ افغان تنازع کے حل کے لیے ایک ایسے جامع امن معاہدے کا خواہاں ہے جس میں تمام افغان فریقین بشمول افغان حکومت کی رضامندی بھی شامل ہو۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے خبررساں ادارے رائٹرز کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں دو طالبان کمانڈروں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ امن سمجھوتہ طے پانے کے بعد افغان سیکورٹی فورسز کی حمایت ختم کر دے گا۔ خلیل زاد کے بقول یہ "درست نہیں ہے۔"

خلیل زاد نے واضح کیا کہ امریکہ طالبان کے ساتھ معاہدہ طے پا جانے کے باوجود افغان فورسز کا دفاع کرے گا۔ ان کے بقول تمام فریقین کو اس بات پر اتفاق کرنا ہو گا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات سے ہی ہو گا۔