نامہ بر ۔۔۔ وطن سے کیا خبر لاتا ہے
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- بدھ 28 / اگست / 2019
- 6330
حصول نان جویں نے ساری عمر دربدری میں مبتلا رکھا۔ اب جو نیو میکسیکو میں آخری پڑاؤ کا اہتمام کیا ہے۔ دن بدن یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ ہم اپنے دیس سے دور ہوتے جا رہے ہیں یا یہ کہ دیس ہم سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
دونوں باتیں خدا لگتی ہیں لیکن وطن کی لازوال محبت دامن دل کو مضبوطی سے تھامے ہے۔ آج کل کشمیر ایک بار پھر پاکستان کا اولین مسئلہ ہے۔ مودی کی طرف سے خطرناک اشارے مل رہے ہیں جو کہ ہرگز ہرگز کسی بھی ملک کے سربراہ کے شایان شان نہیں ہو سکتے۔ تاریخ کے ایک روشن دور میں جنگ ایک گھناؤنا لفظ تصور کیا جاتا ہے۔ تاریخ میں چنگیز خان کے بعد ہٹلر کی واحد مثالیں ہیں جو خون ریزی سے مفلوج ہیں۔
لیکن ہمارا موضوع پاکستان کی موجود صورتحال کی طرف نہیں بلکہ ہم وطن سے دور یہ ضرور سوچ رہے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ حالات کیا ہیں اور کس نہج پر جا رہے ہیں۔ دیار غیر میں ہمارا واحد ذریعہ ٹیلی ویژن ہے اور اخبارات ہیں جو اپنی مرضی سے پالیسی کے مطابق اقوام عالم پر بحث کرتے ہیں۔ یورپین اخبارات امریکی اخبارات سے مختلف ہیں اور برصغیر کے اخبارات ان سب سے مختلف ہیں۔ آج کے میڈیا کو بین الاقوامی میڈیا سمجھئے۔ منٹ منٹ کی چیزوں نے برق رفتاری سے گلوبل ولیج کا احاطہ کر رکھا ہے۔ نیویارک ٹائمر ہو یا واشنگٹن پوسٹ۔ گارڈین ہو یا ٹیلی گراف، ان کی فہرست پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ دنیا کے اخبارات نے زندگی کے کسی پہلو سے نظر پوشی نہیں کی۔ بلکہ تفصیل سے حاشیہ آرائی کی ہے۔
ہم نے ابتدا میں عرض کی تھی کہ دیار غیر میں رہتے ہوئے یہ احساس دن بدن زور پکڑ رہا ہے کہ ہم وطن سے دور ہوتے جا رہے ہیں یا کہ وطن ہم سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ یہ محسوس ہوتا ہے کہ
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
دیار غیر میں وطن سے قربت کا واحد ذریعہ ٹیلی ویژن اور ٹیلی ویژن بھی ایسا کہ بقول غالب
ادائے خاص ہے غالب ہوا ہے نکتہ سرا
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے
وطن کے ٹیلی ویژن پروگرام دیکھ کر یہ بات ضرور عیاں ہوتی ہے۔ وہ ہے چوری اور سینہ زوری۔ ہمارے اسکولوں اور بڑی حد تک کالجوں کے زمانے میں ایسا روزگار حیات ہم نے پاکستان میں نہیں دیکھا۔ یاد آتا ہے کہ ہم اس زمانے میں بڑی بردباری گزرتے تھے۔ ان دنوں رکھ رکھاؤ تھا۔ تحمل تھا۔ احترام تھا۔ ہر قدم پر بزرگوں کو بغایت غور دیکھتے تھے اور ویسا کرنے کی سعی کرتے تھے۔ لیکن آج کا ٹیلی ویژن کوئی اور ہی نقشہ پیش کر رہا ہے۔ ملک کا سب سے بڑا ادارہ (دوسرے ممالک کی طرح) نیشنل اسمبلی ہے لیکن ہم ٹیلی ویژن پر نیشنل اسمبلی کی کارروائی دیکھ کر انگشت بدنداں ہیں۔ ہمیں تو علی بابا کے بغیر صرف چالیس چور ہی نظر آتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے جج سوال کرتے ہیں کہ ”آپ کے اثاثے آپ کی آمدنی سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ کیا آپ اس کا جواب دے سکیں گے؟ تو جواب ملتا ہے ”جب ڈکٹیٹر ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا۔۔۔۔۔ جج بھی حیران، وکیل بھی حیران اور سننے والے بھی حیران۔ اور ہم اپنے آپ سے پوچھتے ہیں یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟
ٹیلی ویژن کے اینکر حضرات جج صاحب کے سوال اور وکیل صاحب کے جواب کو لے اڑتے ہیں اور اپنے پروگراموں میں جید قسم کے سیاستدانوں کو مدعو کرتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر اکھاڑا سجاتے ہیں اور سوال و جواب کو رنگ روغن کر کے پیش کرتے ہیں اور ”چوری اور سینہ زوری“ کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔
آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا کہ ہمارے ٹیلی ویژن پروگراموں میں مباحث کے دوران ایک سیاست دان نہیں سارے مدعو سیاستدان بیک وقت بولتے ہیں بلکہ چنگھاڑتے ہیں۔ (یاد کریں ”احترام، مروت، رکھ رکھاؤ) اینکر حضرات کو نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”آپ کو بھی باد سموم نے اس دلدل میں دھکیل دیا ہے“۔ اور جب شریک بحث خواتین ہوں تو پھر سونے پر سہاگا۔ شرکائے بحث اور اینکر حضرات مل کر الفاظ و معانی اور گلے کی ساری رگوں کا بروئے کار لا کر ایک سماں پیدا کرتے ہیں کہ بڑے بڑے قوال انگشت بدنداں:
ہمیں خموش تھے موضوع گفتگو جو ہوئے
اور جب اینکر حضرات اپنے بیان کو حقیقی بنانے کیلئے بیورو چیف یا رپورٹر یا نامہ نگار کا سہارا لیتے ہیں تو وہ بھی دیدنی!
اینکر صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے بیورو چیف یا نامہ نگار جائے واقعہ پر موجود ہیں وہ آنکھوں دیکھا حال بتائیں گے۔ تو اینکر صاحب کے جواب میں نامہ نگار صاحب آنکھوں دیکھا حال کی ابتدا ہمیشہ اس جملے سے کرتے ہیں ”بالکل جی“
بات چلی تھی اپنی کوتاہ دامنی کی کہ ہم محسوس کر رہے ہیں کہ ہم وطن سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ یا یہ کہ ہم اپنے آپ سے دور ہوتے جا رہے ہیں؟ یا یہ کہ ہم پر یاد ماضی عذاب بن رہی ہے۔
یا پھر ہم زندگی کے اس رخ سے گزر رہے ہیں جس سے ہم آشنا نہ تھے۔ اس بے کراں خلا کی کوئی سرحد ہے بھی یا نہیں؟
کیا ہماری رگوں میں وہی خون گردش کر رہا ہے جو ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا:
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے؟