برطانوی پارلیمنٹ معطل کرنے کے خلاف احتجاج اور مظاہرے

  • جمعرات 29 / اگست / 2019
  • 4060

برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن یورپی یونین سے کسی معاہدے کے بغیر علیحدگی سے قبل پارلیمنٹ کو معطل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم حزبِ اختلاف نے اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔

بدھ کی رات برطانیہ کے دارالحکومت لندن سمیت متعدد شہروں میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے اور وزیرِ اعظم بورس جانسن کے ممکنہ اقدام کے خلاف نعرے بازی کی۔ برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کے مطابق ملکہ الزبتھ دوئم نے بدھ کو وزیرِ اعظم بورس جانسن کے پارلیمان کو معطل کرنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔

خیال رہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی ڈیڈ لائن 31 اکتوبر ہے اور وزیرِ اعظم بورس جانسن کہہ چکے ہیں کہ اس حتمی تاریخ تک برطانیہ کسی نئے معاہدے کے تحت یا پھر معاہدے کے بغیر ہی یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کر لے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ستمبر اور اکتوبر کے وسط میں پارلیمنٹ کی پانچ ہفتے کی معطلی سے یورپی یونین سے علیحدگی کے معاہدے پر بحث کرنے کا وقت مل جائے گا۔ تاہم ناقدین ںے حکومت کے اس ممکنہ اقدام کو یہ ’غیر جمہوری‘ کوشش قرار دیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے ترجمان بیری گارڈنر نے جمعرات کو کہا ہے کہ آئندہ ہفتے کے آغاز پر ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں حکومت کے ممکنہ منصوبے اور یورپی یونین سے معاہدے کے بغیر علیحدگی کے معاملات پر بحث ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ برطانیہ کی حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن کے لیے اپنے نئے وزیر اعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانا مشکل کام ہوگا۔  ان حالات میں کہ جب وہ عوامی خواہشات کی تکمیل پر عمل پیرا ہیں۔ وزیرِ اعظم بورس جانسن کے ممکنہ اقدام کے خلاف درخواست وائرل ہوگئی ہے جس پر چند گھنٹوں کے دوران دس لاکھ سے زائد افراد نے دستخط کیے ہیں جب کہ سوشل میڈیا پر برطانوی عوام کی طرف سے ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ اِن دنوں شدید سیاسی بحران کا شکار ہے جو یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس ریفرنڈم کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا جس کے بعد وزیرِ اعظم تھریسا مے نے حکومت قائم کی اور انہوں نے یورپی یونین سے علیحدگی کے بارے میں کئی ماہ طویل مذاکرات کے بعد ایک معاہدے پر اتفاق کیا۔

تاہم برطانوی پارلیمان نے تھریسامے اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے معاہدے کو تین مرتبہ مسترد کیا۔ پارلیمان سے معاہدہ منظور نہ کرنے پر تھریسامے نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔