طالبان کے ساتھ معاہدہ کے بعد بھی امریکی افواج افغانستان میں تعینات رہیں گی: صدر ٹرمپ

  • جمعہ 30 / اگست / 2019
  • 4430

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ معاہدہ کے بعد بھی امریکی افواج  افغانستان میں رہیں گی۔ البتہ ان کی تعداد 14000 سے گھٹا کر 8600 تک کردی جائے گی۔

جمعرات کو صدر ٹرمپ  کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب امریکی سفارت کار افغانستان کی 18 سالہ جنگ کے خاتمے کا حل ڈھونڈنے کے لیے طالبان کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے کے قریب پہنچ رہا ہے لیکن نتیجہ ابھی غیر یقینی ہے۔

انہوں نے 'فاکس نیوز ریڈیو' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو معلوم نہیں ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ ٹرمپ نے فوجی دستوں کے انخلا کے کسی نظام الاوقات کے متعلق نہیں بتایا۔

یاد رہے کہ امریکی محکمہ دفاع پنٹاگان افغانستان میں موجود 14000 امریکی فوجیوں کی تعداد نصف کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ جب کہ طالبان یہ چاہتے ہیں افغانستان سے تمام امریکی اور غیر ملکی فوجی واپس چلے جائیں۔ امریکی صدر افغانستان کو دہشت گردی کی ’ہارورڈ یونیورسٹی‘ کا نام دے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان سے کسی دہشت گرد گروپ نے پھر کبھی امریکہ پر حملہ کیا تو ہم اتنی طاقت کے ساتھ واپس آئیں گے جسے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا ہو گا۔

افغانستان کی حکومت کو توقع ہے کہ امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی پیش رفت سے متعلق جلد ہی کابل کو باضابطہ طور پر آگاہ کریں گے۔ طالبان کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ وہ حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ لیکن ایسے میں جب کہ امن مذاکرات جاری ہیں، طالبان تسلسل کے ساتھ افغانستان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔