اہل پاکستان کا کشمیریوں سے اظہار یک جہتی: ٹریفک رک گئی، جلسے و ریلیاں منعقد کی گئیں
- جمعہ 30 / اگست / 2019
- 6060
مقبوضہ جموں اور کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر پاکستانی قوم نے 'کشمیر آور' منایا۔
کشمیر آور دن 12 سے ساڑھے 12 بجے تک منایا گیا۔ اس دوران ملک بھر میں سائرن بجائے گئے جس پر تمام ٹریفک اور حکومتی مشینری نے کام روک دیا۔ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کا قومی ترانہ بھی بجایا گیا۔ کراچی سے خیبر تک تمام پاکستانی اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔
کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر میں منائے گئے 'کشمیر آور' میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، وزرائے اعلیٰ اور اراکین پارلیمنٹ اپنے متعلقہ سیکریٹریٹ اور دفاتر کی عمارتوں کے باہر جمع ہوئے۔
نماز جمعہ کے اجتماعات میں بھی کشمیر کے عوام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اورملک بھر میں ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ کشمیر آور کے حوالے سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ریلی کا انعقاد کیا گیا جس کے شرکا وزیر اعظم کے دفتر کے باہر جمع ہوئے۔ وزیر اعظم کے دفتر کے باہر تقریب منعقد کی گئی جہاں عمران خان سے شرکا سے خطاب کیا۔
کشمیر آور کی تقریبات اور ریلیوں کی سیکیورٹی کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور عوام کو اسلام آباد میں ریڈ زون جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ملک کی تمام ٹرینوں کو ایک منٹ کے لیے روکا گیا۔ ریلوے کے تمام ملازمین کشمیر آور کی تقریب کا حصہ بنے۔ اسی طرح نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام اور ملازمین ہیڈ کوارٹر میں جمع ہوئے اور اس تقریب میں قومی ترانے کے ساتھ کشمیر کا ترانہ بھی بجایا گیا۔
وزیر اعظم عمران خان کی اپیل پر کراچی کی عوام، طلبا اور وکلا بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور مقبوضہ وادی کے لوگوں کو واضح پیغام بجھوانے کے لیے گھروں سے نکلے۔ مرکزی تقریب مزار قائد پر منعقد کی گئی جس میں گورنر سندھ عمران اسمٰعیل، وفاقی وزیر فیصل واڈا، پی ٹی آئی رہنما عامر لیاقت حسین اور سابق کرکٹر شاہد آفریدی سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور بابائے قوم کا مزار ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔
دوپہر 12 سے ساڑھے 12 بجے تک ٹریفک کو بھی روک دیا گیا اور میٹروپول سگنل پر ٹریفک روک کر قومی ترانہ پڑھا گیا۔
لاہور کے شہری بھی کشمیروں سے اظہار یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکلے۔ دن کے 12 بجتے ہی ٹریفک رک گیا اور فضا کشمیر کی آزادی کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چوہدری سرور سمیت تمام سرکاری و نجی دفاتر کے لوگ، اسکول کے بچوں سے لے کر ریڑھی بان سب یک زبان ہوگئے۔
بلوچستان میں بھی عوام کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے 'کشمیر بنے گا پاکستان' ریلی وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی قیادت میں بلوچستان اسمبلی سے نکالی گئی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ جہوریت کے علمبردار بھارت کا سفاک چہرا اب دنیا کے سامنے آچکا ہے۔
کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں ریلیاں نکالی گئیں۔ گورنر شاہ فرمان، وزیر اعلیٰ محمود خان اور اسپیکر مشتاق غنی کی قیادت میں خیبر پختونخوا کے اراکین اسمبلی نے پشاور کے خیبر روڈ پر ریلی نکالی اور ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کی آواز بلند کی۔