ہندوتوا فلسفہ بمقابلہ سیکولرازم

ہندوستان اس وقت مودی سرکار کی عجیب و غریب پالیسیوں اور نت نئے احکامات کی زد میں اپنے انتہائی مشکل دور سے گذر رہاہے۔ اور اس مشکل گھڑی کے مراکز آسام، ناگالینڈ اور کشمیر ہی نہیں بلکہ معاشی بدحالی کے اثرات پورے ہندوستان میں پھیل رہے ہیں۔

اس کی وجہ بی جے پی، حکومت کو آر ایس ایس کے سیاسی دھڑے سنگھا کی حمایت ہے۔ آرایس ایس تنظیم کا تقسیم کے قبل سے رویہ نہایت جارحانہ اور نسل پرستانہ رہا ہے۔ مگر اب سے دس پندرہ سال قبل تک یہ فرض کیا جاتا رہا ہے کہ  سر پھروں کی یہ  ٹولی اتنے بڑے ہندوستان میں بہت کم  افراد پر مشتمل ایک چنڈال چوکڑی ہے۔  یہ مفروضہ اب دھیرے دھیرے غلط ثابت ہورہا ہے۔ اور غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ آرایس ایس کے عزائم جو کہ شروع سے ہی خطرناک تھے وہ پس پردہ تندہی سے اپنی تنظیم کے لیے کام کر تی رہی ہے۔ ان کے سیاسی دھڑے اور بی جے پی کے تال میل سے کام  بگڑتا چلا گیا۔

چند سال قبل تک آرایس ایس کی مدد سے انتخابات لڑنا ایک الزام ہوا کرتا تھا مگر مودی نے اس الزام کو فخر کا باعث بناکر سنگھا اور آرایس ایس تنظیم کو معاشرے میں ایک قابل قبول جگہ ہی نہیں دلائی بلکہ وہ اسے معاشرے کے مہذہب طبقے میں شامل کرنے کے لیے کوشاں  ہیں۔ گاندھی جی کی مسلم ہمدردانہ رویہ سے دل برداشتہ آرایس ایس کے ایک کارکن نے جب  1948 میں ان کے خون سے اپنےہاتھوں کو رنگا تو فوری طور پر اس تنظیم پر پابندی لگادی گئی تھی۔ آر ایس ایس نے کبھی بھی اس فعل کی مذمت نہیں کی البتہ سنگھا تنظیم  جلد ہی بازیاب  ہوگئی اور وہ پھر سے سیاسی دھارے میں شامل ہوگئی۔ جبکہ آرایس ایس نے پس پردہ گاندھی جی کے قاتل کو شہید اور ہیرو کا درجہ دے کر اس کی یادوں کے دیئے کو جلائے  رکھا۔  اس سال سرعام گاندھی کے پتلے  جلانے کے عمل سے ثابت کر دیا کہ ہندوستان میں سب کچھ بدل چکا ہے۔ گاندھی جی کی اہنسا پالیسی اب ہندوستان میں دم توڑ رہی ہے۔ اور آرایس ایس کی ہندوتوا پالیسی اپنے شباب کی انگڑایاں لینے کو اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔
راشترایہ سوایم سیوک سنگھ، متحدہ قومی محاذ نامی تنظیم  کی بنیاد  1925 میں کیشوا بالی رام نے ہندوتوا فلسفے کے تحت رکھی تھی۔  یہ ایک انتہائی نسل پرست اور عصبیت پسند تنظیم ہے۔ یہ ایک کٹر ہندو تنظیم، انتہائی ریڈیکل اور منظم ہتھیار بندو تنظیم بھی ہے۔ خواہ یہ ہتھیار دوران ڈرل بانس کے بنے ڈنڈوں کی صورت میں ہی کیوں نہ نظر آتے ہوں۔ اس وقت یہ، دنیا کی سب سے بڑی منظم ریڈیکل تنظیم میں بدل چکی ہے ۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے بی جے پی ہی وہ  سیاسی پارٹی ہے جو نے آرایس ایس کے دراز سیاسی بازو سنگھا تنظیم کی حمایت حاصل کرکے آرایس ایس تنظیم کی مقبولیت کی راہ ہموار کررہی ہے۔
آرایس ایس تنظیم کی منزل ہندوتوا لہر ہے جس کے مطابق ہندو مذہب کے ماننے والوں کو ان کے اپنے ملک میں عرصہ دراز سے ہونے والے امتیازی سلوک سے نجات دلانا ہے۔ اور اس تاریخی غلط فیصلے کو درست کرنا ہے۔ گویا ہندوستان کی سیکولر حیثیت کو تبدیل کرنا ان کا مشن ہے۔
اس تنظیم کا ماننا ہے ہندو سر زمین ہند پر عرصہ دراز سے بستے چلے آرہے ہیں اور ان کی شناخت ایک تہذیبی، مذہبی اور ایک قوم کی حیثیت سے ہندوستان کی تاریخ پر ثبت ہے۔ جبکہ ہندوستان میں بسنے والے غیر ہندو اس ملک پر حملہ آور ہیں یا پھر مہمان اور اس لیے ان غیر ہندو مذہب کے ماننے والے افراد کو ہندوؤں کے ساتھ برابری کا حق نہیں جاسکتا۔ نہ ہی کسی غیر ہندو مذہب یا غیر ہندو کلچر کو ہندوستان میں برابر کے رتبے کا حق دار مانا جاسکتا ہے۔
اس نظریہ کے مطابق غیر ہندو، خاص کر مسلمان اور عیسائی دشمن ہیں اور انہیں ہندوستان اور ہندو مذہب کے لیے خطرہ گردا نا جانا چاہیے۔ ہندوستان کی ترقی و خوشحالی کا مطلب ہندوؤں کی ترقی اور خوشحالی لیا جانا چاہیے۔ ہندوستان کی تاریخ شاہد ہے کہ ہندو مذہب اور ہندو کلچر کو ہمیشہ ہی اپنا دفاع کرنا پڑا ہے۔ اور موجودہ دور میں یہ دفاع ان لوگوں کے خلاف بھی ہے جو ہندوستان کو ایک سیکولر ملک بناکر غیر ہندوؤں کو اس ملک میں ہندوؤں کے برابر لا کھڑا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آر ایس ایس اور سنگھا تنظیم کے ان خطرناک ارادوں کی یلغار کسی تارتاری یا غزنی حملہ آوروں کی یلغار سے کم نہیں۔ چونکہ اس سے ایک طرف ہندوستان کی سیکولر حییثت کو خطرہ ہے تو دوسری جانب یہاں اندرونی خلفشار اور ٹوٹ پھوٹ کا بھی زبردست امکان ہے۔

یہ چیزیں ہندوستان کی سائینسی ترقی اور معاشی خوشحال پر ایک ضرب سے کم نہیں۔ مودی کے بینک نوٹوں کی معطلی چھوٹے تجارتی اور صنعتی حلقوں میں خاصی ہلچل کا باعث بنی تھی۔ لیکن آسام میں نئی مردم شماری سے چالیس لاکھ افراد کو اور ان بیشتر مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دینا اور کشمیر کی بندش سب کچھ سفینہ ہند کو طوفان میں گھیرے ہچکولے دے رہا ہے۔ کشمیر کی بندش کشمیر کے سیاسی بحران کے علاوہ معاشی بحران کا بھی سبب بنے گا۔ سیاحت ہندوستان کی معیشت کا اہم شعبہ ہے۔ بدامنی سے بھرا ہندوستان نہ صرف سیاحت بلکہ دیگر شعبوں سے بھی غیر ملکی اثاثے کو دور کرنے کا موجب ہوگا۔ ایسے میں سیاحت کے شعبے کی تنزلی میں پاکستان کی جانب سے ہوائی راستے کی پابندی بھی ایک وجہ بن سکتی ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ ہندوستان کی غیر نسل پرست، سیکولر سوچنے رکھنے والی تنظیمیں متحد ہوکر اٹھ کھڑی ہوں اور ان غیر جمہوری نسل پرستانہ ٹڈی دل سے ہندوستان کو بچائیں۔

ہندوستان کی تاریخ شاہد ہے ہندوستان میں خوشحالی کا دور ہمیشہ ہی پرامن دور رہا ہے۔ ہٹلر جرمنی کا دور اور اس کے نتیجے میں جرمنی کی شکست وریخت، اس صدی کے ان اہم واقعات میں سے ایک ہیں جنہیں کبھی نہیں بھلایا جانا چاہیے۔ تمام قسم کی نسل پرستی، عصبیت اور فاشزم کی کوئی منزل نہیں اس کی تلاش میں بھٹکنا گمراہی ہے۔

سیکولرازم ہندوستان کی پہچان رہا ہے۔ ہندی فلموں سے لے کر ہرارے کی غیر جانبدار ملکوں کی کانفرنس تک اس کی گواہ ہیں۔ جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے خلاف ہو یا کہیں اور ہندوستانی رہنماؤں نے ہمیشہ انسان دوستی کے فروغ اور نسلی تعصب کے خلاف ہی  واضح موقف پیش کیا ہے۔ ہندوستان کی اس روایت کو جاری رہنا چاہیے۔ دنیا جس تیزی سے نسلی تعصب، مذہبی جنون اور فرقہ واریت کے آغوش میں جا رہی ہے، ایسے ہر ایک ملک اور فرد کا فرض ہے کہ وہ اس مزاج کو کو رد کرے۔ اس کے لئے ہر قسم کی صلاحیتیں صرف بروئے کار لانے کی ضرورت ہوگی۔