بھارتی ریاست آسام میں 19 لاکھ افراد شہریت سے محروم کردیے گئے
- ہفتہ 31 / اگست / 2019
- 5150
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے تحت 19 لاکھ افراد شہریت سے محروم کردیے گئے ہیں۔ ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
ریاست آسام نے ’غیر ملکی دراندازوں‘ کو الگ کرنے کے مقصد سے این آر سی کی حتمی فہرست جاری کی ہے۔ ان میں 3 کروڑ 29 لاکھ لوگوں نے دستاویزات جمع کروائی تھیں تاہم حتمی فہرست میں 3 کروڑ 11 لاکھ لوگ شامل کیے گئے ہیں۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق شہریت سے محروم کیے جانے والے افراد میں زیادہ تر مسلمان ہیں۔
واضح رہے کہ آسام کی آبادی 3 کروڑ 30 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جس میں تقریباً 90 لاکھ بنگالی نسل کے لوگ بھی شامل ہیں۔ ان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جبکہ برطانوی دور اور 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ کے وقت بھی کافی لوگ وہاں آکر آباد ہوئے تھے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے اس فیصلہ کو لاکھوں مسلمانوں کو بھارت سے بے دخل کرنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔ آسام بھارت کی غریب ترین ریاست ہے۔ کئی سالوں سے یہاں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ’غیر ملکیوں‘ پر نوکریاں اور زمین چھیننے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔
آسام کئی دہائیوں تک بین المذاہب تنازعات اور نسلی کشیدگیوں کا مرکز بنا رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات ہوئے جن میں 1983 میں ہونے والے فسادات بھی شامل ہیں جن کے نتیجے میں 2 ہزار افراد قتل ہوئے تھے۔ اسی لئے این آر سی کی حتمی فہرست کے اجرا کے پیشِ نظر آسام میں سیکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔ اور 60 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔
حکومت کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے نام حتمی فہرست میں شامل نہیں وہ 60 سے 120 روز میں غیر ملکی ٹریبونل میں اپیل کرسکتے ہیں۔ اس عمل میں خامیوں کا انکشاف ہوچکا ہے جس میں آسام سے تعلق رکھنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہی وزیر نے کہا تھا کہ اس فہرست میں متعدد اصلی بھارتیوں کو بھی درج نہیں کیا گیا۔
بھارتی حکومت کے مطابق اس فہرست میں صرف ان لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جو 1971 سے پہلے بھارت میں رہائش پذیر ہونے کے دستاویزی ثبوت فراہم کرسکے ہیں۔
اس سے قبل گزشتہ برس جولائی میں این آر سی نے فہرست جاری کی تھی جس میں 40 لاکھ افراد کا اندراج نہیں کیا گیا تھا تاہم انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے مزید وقت دے دیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق این آر سی کے حوالے سے پائے جانے والے خوف کے سبب خود کشی کرنے کے 40 واقعات رونما ہوچکے ہیں۔