پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کردی

  • ہفتہ 31 / اگست / 2019
  • 5510

وزیر اعظم کی طرف سے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کی شرط کے بعد اب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مذاکرات کے لئے نرم شرائط پیش کی ہیں۔

پاکستان نے کہا ہے کہ  بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے خروری ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھایا جائے، کشمیری قیادت کو رہا کیا جائے اور ان تک رسائی ممکن بنائی جائے۔  خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ دنوں میں بھارت کے ساتھ امکانات کو مسترد کردیا تھا۔ بھارت اس سے پہلے ہی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو دہشت گردی  کے خاترمہ سے منسلک کرتا ہے۔

ایک روز قبل نیویارک ٹائمز میں لکھے گئے ایک مضمون میں وزیراعظم پاکستان نے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کا غیر قانونی الحاق کا فیصلہ واپس لینے، کرفیو ختم کرنے اور بھارتی فوجیوں کی بیرکوں میں واپسی کی صورت میں ہی نئی دہلی کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی  کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے شرائط پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھانے، کشمیری قیادت کو رہا کرنے اور ان تک رسائی حاصل ہونے پر ہی نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان بات چیت ہو سکتی ہے۔

اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہی مذاکرات پر زور دیا اور اس سے کبھی انکار نہیں کیا۔ تاہم بھارت ہی ہمیشہ ایسا موقع فراہم کرنے سے گریز کرتا رہا ہے۔  مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وادی میں کرفیو نافذ ہے، مظلوم عوام زندگی اور موت کی کشمکش میں اپنے دن رات گزار رہے ہیں۔ خواتین کی عصمت دری کا سلسلہ جاری ہے تو ایسے ماحول میں مذاکرات کا امکان نہیں ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر میں وہاں کے عوام بھی اہم ترین فریق ہیں۔ اگر بھارت بات چیت کے لیے سنجیدہ ہے تو وہ کشمیری قیادت سے ملنے کی اجازت دے۔ کیونکہ کشمیری عوام کے جذبات کو دیکھنا پڑے گا اور ان کے ان جذبات کو روند کر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ممکن نہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ پاکستان کی ترجیح ہمیشہ امن ہی رہی ہے۔ پاکستان نے کبھی جارحانہ پالیسی کا انتخاب نہیں کیا کیونکہ جنگ پاکستان کا آپشن نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دو ایسے پڑوسی مملک جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہوں، وہ جنگ کا نقصان برداشت نہیں کرسکتے۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف  نے اقتدار میں آنے کے بعد متعدد مرتبہ نئی دہلی کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی تلقین کی۔  انہوں نے ایک مرتبہ پھر باور کروایا کہ اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم میں شامل ممالک کے نمائندوں کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی ممالک کو تو کشمیری عوام کے ساتھ ہمدردی ہے لیکن حکمران اپنی مصلحتوں اور مفادات کو دیکھ کر نپی تلی گفتگو کرتے ہیں۔  شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عوام کی رائے حکمرانوں کی سوچ کو تبدیل کردیتی ہے۔ تاہم کشمیر کے معاملے میں جب حقائق سامنے آئیں گے تو حکمرانوں کی رائے تبدیلی ہو ہی جائے گی۔

شاہ محمود قریشی نے امریکا کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت امریکا کا اسٹرٹیجک شراکت دار ہے۔ تاہم واشنگٹن ہی نئی دہلی کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے تیار کر سکتا ہے۔