حسین شیرازی کی کتاب ’بابو نگر‘
- تحریر طارق محمود مرزا
- ہفتہ 31 / اگست / 2019
- 18320
حسین احمد شیرازی صاحب کی کتاب 'بابونگر' کا میں نے بہت تذکرہ سنا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ پاکستان گیا تو خرید لاؤں گا۔پاکستان جا کر میں نے اسلام آباد کی چند دکانوں سے پوچھا بھی لیکن کتاب نہ ملی۔حُسنِ اتفاق دیکھئے کہ انہی دنوں کتاب کے مصنف یعنی حسین شیرازی صاحب نے رابطہ کیا۔ میری کتاب ' سفرِ عشق' کی تقریب رُونمائی کی مبارک باد دی اور پوچھا کہ بابو نگر پڑھی ہے یا نہیں۔
میرے لیے یہ اعزاز کی بات تھی کہ مشہور ادبی شخصیت نے مجھے یاد کیا ہے۔میں نے عرض کیا ابھی نہیں پڑھی، تاہم اس کی تلاش میں ہوں۔شیرازی صاحب نے کمال مہربانی سے فرمایا”اپنا پتا لکھوائیں میں کتاب بجھوا دیتا ہوں“ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں، میں نے فوراً پتا لکھوا دیا اور بے چینی سے کتاب کا انتظار کرنے لگا۔. چند دن بعد میری چھٹیاں ختم ہو گئیں اور میں آسٹریلیا واپس آگیا تب تک کتاب نہیں پہنچی تھی۔ میرے آنے کے بعد یہ کتاب میرے گھر موصول ہوئی۔ پورا ایک برس گزر گیا نہ میں وہاں گیا اور نہ کوئی وہاں سے آیا۔ایک برس بعد میرا ایک عزیز آسٹریلیا آیا تو اس کے ذریعے لمبے سفر اور طویل انتظار کے بعد'بابونگر' بالآخر میرے پاس پہنچ گئی۔
کتاب کیا پہنچی جیسے دبستان کھل گیا۔میرے کئی شب و روز اس کتاب کی نذر ہو گئے۔میں اس میں کھو کر رہ گیا تھا۔’بابو نگر‘ اتنی دلچسپ ہے کہ ایک مرتبہ اس کا مطالعہ شروع کر یں تو پھر کتاب رکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ حسین شیرازی صاحب کی تحریر انتہائی شگفتہ، رسیلے شعروں سے مزیّن اور بہتے چشمے کی طرح رواں دواں اور شفاف ہے۔ان کا طنز عمدہ، حقیقت سے قریب تر اور معاشرتی رویوں کا عکاس ہے۔اس کتاب میں شامل بے شمار جملے سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔
مصنف کا مشاہدہ لاجواب اور تجزیہ بے مثال ہے۔جس موضوع پر لکھا گیا اس کا کوئی گوشہ بے نقاب ہونے سے نہیں بچا۔شیرازی صاحب کی تحریریں بیک وقت ہنساتی بھی ہیں اور رُلاتی بھی۔ذمہ دار افراد کی مجرمانہ غیر ذمہ داری دیکھ کر دل بھی کڑھتا ہے اور شیرازی صاحب کا اندازِ بیان مسکرانے پر بھی مجبور کرتا ہے۔دوسری طرف ان تحریروں کے کردار اتنے دلچسپ اور بے ساختہ ہیں جیسے کوئی ڈرامہ دیکھ رہے ہوں۔شعروں کا انتخاب اتنا عمدہ اور بروقت ہے جیسے یہ شعر اسی کتاب کے لیے لکھے گئے ہوں۔زبان شستہ، رواں اور خالصتاََ ادبی ہے۔ محاوروں کا استعمال نہایت خوبی سے کیا گیا ہے۔کتاب کیا ہے ایسے لگتا ہے کسی مصور نے ایسی تصویر بنائی ہو جس میں بے شمار رنگ استعمال ہوں اور ہررنگ تصویر کی شان بڑھا رہا ہو۔
مصنف اپنے بارے میں لکھتے ہیں جس سے ان کے تخیل کی پرواز اور حُسنِ تحریر کا اندازہ ہوتا ہے ''ہم نے لکھنا لکھانا کب شروع کیا؟۔اس عمر سے جب انسان کو نیلے آسمان سے پرے آباد خوبصورت بستیاں دکھائی دینی شروع ہوتی ہیں اور ان آبادیوں میں رہنے والی مخلوق نہ صرف آنکھوں کو بھلی لگتی ہے بلکہ زندگی کی سب سے بڑی آرزُو اس کا حصول ہوتا ہے۔اس دور میں چہروں میں پھول اور پھولوں میں چہرے دکھائی دیتے ہیں اور کئی دفعہ تو خوشحال خٹک جیسے لوگ ان صورتوں کے ذریعے اس خدا کو پہچانتے ہیں جس کی خدائی میں ان پیکروں سے بہتر کوئی شے نہیں ہوتی کہ زندگی کے اس مرحلے پر کہکشاں منزل نہیں بلکہ راہ کی دھول دکھائی دیتی ہے۔“
شیرازی صاحب کی نثر ایسی ہے کہ اس پر شعر کا گمان ہوتا ہے۔شگفتگی ایسی کہ پڑھتے ہوئے مسکراہٹ چہرے سے چپکی رہے گی۔اُن کی تحریر کی شگفتگی اور برجستگی کا اندازہ ان کے درج ذیل قطعہ تحریر سے ہو گا۔”دلاور صاحب کو دشنام طرازی کا بھی بہت شوق تھا۔ ایک دفعہ کسی نے ان کو پیش کش کی کہ اگر وہ شام کے بقیہ وقت میں بدزبانی نہ کریں تو انہیں پچاس پونڈ دیے جائیں گے۔اس پر دلاور صاحب بولے'' یہ سو پونڈ پکڑو اور میری خوش کلامی سنتے رہو''۔ اپنے وطن میں دلاور صاحب کی تعلیم ٹاٹ سکول پر ختم ہو گئی تھی اور وہ انگریزی زبان سے وہی سلوک کرتے تھے جو جہنم میں گنہگاروں سے روا رکھا جائے گا۔ہم نے ایک دن پوچھا کہ یہاں گوروں کو آپ کی زبان سمجھ آجاتی ہے تو بڑے فخر سے بولے کہ میں تو سمجھ جاتا ہوں لیکن ان نالائقوں کو میری گفتگو سمجھنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے ''۔
میرے علم کے مطابق حسین شیرازی صاحب نے اب تک ایک ہی ادبی کتاب تصنیف کی ہے۔مگر یہ ضخیم اور دلنشین ادبی شہہ پارہ تخلیق کر کے میدان ادب کے بلند ترین مقام پر جا پہنچے ہیں جس کا اعتراف ڈاکٹر عبدالقدیر خان، سید ضمیرؔ جعفری مرحوم، ممتاز کالم و مزاح نگار عطاء الحق قاسمی سمیت دیگر اہم ادبی شخصیات نے بھی کیا ہے۔ گویا’وہ آیا، اُس نے دیکھا اور اس نے فتح کر لیا‘ والا معاملہ ہے۔پاکستان کے ممتاز اشاعتی ادارے سنگ میل پبلشر کی شائع کردہ اس کتاب کے دو ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور اس کی مقبولیت کے پیشِ نظر ابھی مزید کئی ایڈیشن شائع ہوں گے۔
طنز و مزاح لکھنا انتہائی مشکل کام ہے اور اُردو ادب میں گنے چنے ادیب ہیں جنہوں نے معیاری مزاحیہ ادب تخلیق کیا ہے۔حسین احمد شیرازی اور ان کی کتاب’بابونگر‘ کا نام ان میں نمایاں انداز میں شامل ہے جو اُردو مزاحیہ ادب میں سدازندہ و تابندہ رہے گا۔