مسئلہ کشمیر، افغان مذاکرات پر اثر انداز ہوسکتا ہے: امریکی رپورٹ
- اتوار 01 / ستمبر / 2019
- 5760
ایک امریکی تھنک ٹینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال افغان امن مذاکرات پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
سینٹر فور اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کی جانب سے کشمیر پر جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ 'افغانستان سے متعلق بھارت کے ارادوں پر پاکستان دہائیوں سے تشویش کا اظہار کر رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں موجودہ حالات و واقعات سے اسلام آباد میں اپنے پڑوسیوں کے لیے عدم اعتماد پیدا ہوگا'۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ 'پاکستان، طالبان اور امریکہ کے درمیان جاری امن مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستانی وسائل اور سیاست افغانستان سے دور ہی نہیں ہوگی بلکہ اسے امریکا کی بھارت میں مداخلت کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے'۔
افغان امن مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں اور امریکہ اور طالبان وفود معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے دوحہ میں نویں ملاقات کر رہے ہیں۔ تاہم دوحہ سے ملنے والی رپورٹس میں نشاندہی کی گئی ہے واشنگٹن توقع کے مطابق یکم ستمبر تک معاہدہ نہیں کرسکے گا۔
واشنگٹن پراُمید ہے کہ اسلام آباد، طالبان کو افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے رضامند کرسکتا ہے۔ طالبان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کابل حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہے۔ اس لئے وہ ان سے براہ راست مذاکرات کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔
جمعہ کے روز کانگریس مین، چیئرمین آف ہاؤس سب کمیٹی برائے ایشیا بریڈ شیرمان نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے سماعت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اس سماعت میں وادی کشمیر کی صورتحال پر توجہ دی جائے گی جہاں کئی سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام بھی بند ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ 'سماعت میں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بات کی جائے گی کہ کیا عوام کو غذا اور صحت وغیرہ کی سہولیات میسر آرہی ہیں یا نہیں'۔ بریڈ شیرمان نے اس معاملے پر بات چیت کے لیے ایکٹنگ اسسٹنٹ سیکریٹری الیس ویلز، عالمی مذہبی آزادی کے سفیر سیم براؤن بیک اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دیگر حکام کو مدعو کیا ہے۔
امریکی قانون ساز اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کشمیریوں کو بھارتی آئین کے تحت جو تحفظ فراہم ہوتا تھا اسے کن وجوہات کی بنا پر بھارت نے ختم کیا۔ جبکہ سی ایس آئی ایس کی رپورٹ میں اسے بی جے پی کے سیاسی نظریات سے جوڑا گیا۔
اس سے قبل کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹ کانگریس مین ٹیڈ لیو نے ٹویٹ کیا تھا کہ انہوں نے حلقے کے لوگوں سے سنا ہے کہ وہ کشمیر میں اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کرپارہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت جیسی جمہوریت کو مواصلاتی بلیک آؤٹ میں نہیں کرنا چاہیے۔